تحریک لبیک اور ریاستی رٹ 

  تحریک لبیک اور ریاستی رٹ 
  تحریک لبیک اور ریاستی رٹ 

  

ریاست ہمیشہ بالا دست رہی ہے اور رہے گی اور اسے بالا دست رہنا بھی چاہئے کیونکہ اسی میں عامتہ الناس کی عافیت ہوتی ہے دور حاضر ہو یا ماضی بعید ریاست ایک بالادست اور طاقتور عامل تصور کی جاتی رہی ہے ریاست کو للکارنے والے اور اس سے بغاوت کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے ۔ یہی تاریخ ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اب بھی شاید ایسا ہی ہو۔ 

ریاست پاکستان نے دہشت گردی کی طویل جنگ میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے  اندرونی اور بیرونی دہشت گرد پارٹیوں کو شکست فاش دے کر اپنی بالادستی ثابت کی ہے ریاست کی رٹ قائم کر کے، ریاست کی بالادستی قائم کی ہے۔ آج ایک بار پھر حکومت ریاستی رٹ قائم کرنے کے لئے ہاتھ پیر مارتی نظر آرہی ہے شیخ رشید، فواد چودھری اور ایسے ہی چند ایک دوسرے وزراء ریاست کے نمائندے بنے ہوئے اسکی رٹ قائم کرنے کے لئے کوشاں نظر آرہے ہیں لیکن ابھی تک بات بیانات سے آگے بڑھتی ہوئی نظر نہیں آرہی، دونوں وزراء شیخ رشید اور فواد چودھری تحریک لبیک پر گرجتے برستے نظر آئے لیکن ان کے بیانات میں مفاہمت نظر نہیں آئی شیخ صاحب تحریک کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کی باتیں کرتے بھی سنائی دیئے۔تحریک پر عالمی پابندی لگنے کا ذکر کرتے ہوئے بھی پائے گئے فواد چودھری توٹی ایل پی کو رگیدنے میں خاصے آگے نکلتے چلے گئے۔ وہ انہیں شرپسند اور دہشت گرد قرار دیتے رہے اور ریاستی بالادستی قائم کرنے کے عزم بالجزم کا اظہار کرتے رہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ انکے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا یہ بات انہوں نے بغیر کسی ابہام کے کہی ہے گویا حکومت ٹی ایل پی کو غلط سمجھتی ہے اور انکے مارچ اور مظاہرے کی اجازت نہیں دے گی۔ ایسا کرنا مفاد عامہ کے عین مطابق ہے ریاست کو عامتہ الناس کے وسیع مفاد میں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ شیخ رشید کئی دن تک تحریک کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی خبریں سناتے رہے فواد چودھری انہیں آہنی ہاتھوں سے کچلنے کی باتیں کر تے رہے تحریک کو ہندوستانی امداد کی باتیں بھی سنائی دیتی رہیں ملی جلی باتیں جاری تھیں کہ فیصل ووڈا نے ایک حیرت انگیز اینٹری ڈالی اور کہا کہ وزراء تحریک کے معاہدے کی پاسداری کریں یعنی اسے اون کریں عمران خان کو اس معاہدے بارے کچھ پتہ نہیں ہے۔

اپوزیشن یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے تحریک لبیک کی طرف سے اب تک یہ چھٹا دھرنا ہے ان دھرنوں کی ابتداء نواز شریف حکومت کے خلاف، اسے کمزور کرنے اور ریاست کے سامنے جھکانے کے لئے تھی اس وقت حکومت اور ریاست الگ الگ تھے آج کی طرح حکومت اور فوج ایک صفحے پر نہیں تھی عمران خان بڑے جوش و خروش کے ساتھ حکومت کے خلاف، نواز شریف، زرداری حکمرانوں کے خلاف "ایمپائر " کو ساتھ ملا کر طاقت کا کھیل  کھیل رہے تھے انکی کارکردگی بڑی شاندار تھی طاہر القادری  بھی حکومت کے خلاف ریاست کے ساتھ تھے۔ عمران خان کے ساتھ تھے کھیل بڑی آب و تاب کے ساتھ جاری تھا۔ ہمیں فیض آباد پر لبیک والوں کا دھرنا بھی یاد ہے اس وقت دھرنا دینے والوں کی تعداد، وہاں موجود پولیس والوں کی تعداد سے کہیں کم تھی۔ پولیس آپریشن کر کے انہیں فارغ کر سکتی تھی لیکن وہ اشاروں پر وہاں کھڑ ے رہے میڈیا پر چھائے رہے۔ حتی کہ حکومت کو جھکنا پڑا اور وہ فاتح کے طور پر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ انہیں ریاست کی طرف سے لفافوں میں واپسی کا زاد راہ بھی دیا گیا۔ اس دور کی یہ فوٹیج اور تصاویر اب بھی ہماری تاریخ کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ اس دور کے تحریکی دھرنوں میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی قدم رنجا فرمایا کرتے تھے، حق و صداقت بارے باتیں بھی کرتے تھے اس دور کے شیخ رشید کے تحریک لبیک بارے بیانات کا مطالعہ بھی دلچسپ ہو گا اب عمران خان اور ان کی حکومت تحریک لبیک کے احتجاج کے حوالے سے بالکل مختلف نقطہ نظر رکھتی ہے وزراء منتشر الخیالی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ٹی ایل پی کو کالعدم تنظیم قرار دیا جا چکا ہے لیکن ہمارے وزراء انکے ساتھ مذاکرات بھی کر رہے ہیں انکے ساتھ حکومت کے تحریری معاہدے بھی موجود ہیں یہ عجیب صورتحال ہے انہیں دہشت گرد بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہیں پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف بھی کہا جا رہا ہے، ہندوستان کی طرف سے انہیں امداد ملنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ مذاکرات بھی جاری ہیں۔ یہ سب کچھ فکری انتشار کی علامتیں ہیں۔ 

ریاست کی طاقت، اسکی فکری و عملی یکسوئی میں پنہاں ہوتی ہے ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کے حوالے سے فکری انتشار کا شکار نہیں ہوتی، ایک شہری اور باغی کے درمیان فرق کرتی ہے اور پھر باغی کے ساتھ آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹتی ہے لیکن ہمارے ہاں فکری ہی نہیں بلکہ عملی انتشار بھی پایا جاتا ہے شیخ رشید صاحب کے بیانات کا عمیق نظری مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حکومت ٹی ایل پی کے بارے میں یکسو نہیں ہے۔ کبھی انہیں آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹنے کی باتیں کرتی ہے کبھی ان کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے کبھی حکومت اپنے اوپر بیرونی پریشر کی باتیں بھی کرتی ہے۔ کبھی ٹی ایل پی پر عالمی پابندیاں لگنے کی خبریں سنائی جا رہی ہیں۔ یہ سب بد حواسیاں ہیں حکومت اس طرح اپنی رٹ ہرگز قائم نہیں کر سکے گی۔ اولاً پولیس رینجرز کے ماتحت کر کے حکومت نے کمزوری ظاہر کر دی ہے پھر تمام راستے بند کر کے اور خندقیں کھود کر حکومت اعلان کر رہی ہے کہ وہ ٹی ایل پی کے مارچ سے ڈری سہمی ہوئی ہے معاملات بارے حقائق قوم کے سامنے نہیں آرہے ہیں حکومت نے تحریک بارے خبروں کی اشاعت اور نشریات پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے اور جو خبریں حکومتی ذرائع سے عوام تک پہنچ رہی ہیں وہ بھی حکومتی کمزوری کی غما ز ہیں ریاست اگر اخلاقی سطح پر بلند و بالا نہ ہو اس کا موقف مبنی برحق اور صحیح نہ ہو، اسے پزیرائی حاصل نہ ہو، وہ اپنی رٹ ہر گز قائم نہیں کر سکتی، ایسے لگتا ہے کہ حکومت کو اپنی رٹ قائم کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیا کیا جائے؟ حکومت نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر کے اس میں یہ مسئلہ رکھا ہے اس طرح ریاست کے کئی عناصر کی رائے شامل ہو جائے گی اس مسئلے کے تمام پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کے بعد جو موقف اپنایا اور لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا وہ صائب اور وسیع تر قومی مفادات کے مطابق ہو گا۔ وگرنہ جس طرح کے وزراء ریاست کی طرف سے رٹ قائم کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں اس سے تو رٹ قائم ہو تی نظر نہیں آرہی ہے۔ یہ معاملہ اگر پارلیمنٹ میں بھی لیجا یا جائے تو اس سے بھی بہتری پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ آزمائش شرط ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -