”سڑکوں پر بکھرا لہُو“

”سڑکوں پر بکھرا لہُو“
”سڑکوں پر بکھرا لہُو“

  

تھوڑی دیر قبل واٹس ایپ پر کچھ ویڈیوز اور تصاویر نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھناپڑیں۔نظر پڑتے ہی بے اختیار آنکھوں سے آنسو ٹِپ ٹِپ کرنے لگے۔ایک ویڈیو میں ایک طرف خاتون اور اُس کے ساتھ بچہ خوف اور دہشت کے سائے میں زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف غلیظ گالیاں دیتے ہوئے بلوائی اُن کی نجی کار پر ڈنڈے برسا رہے ہیں۔اُن کے جتھے کے کچھ لوگ دیگر کاروں،بسّوں اور ٹرکوں پر آگ کے شُعلے گِراتے جاتے ہیں۔یہ سب کچھ سہنے اوردیکھنے والوں کے سینے شگاف ہوئے جاتے ہیں۔ان پر اپنے ہی ہم وطنوں اور ”اہلِ ایمان“ کے”دَستِ مبارک“ سے قیامت کی ہولناکی رَقصِ کِناں ہے۔پھر زخمی اور شہید سِول افراد اورپولیس اہلکاروں کی بے بس، منہ بولتی تصاویرایک الگ سوالیہ نشان ہیں۔پولیس اور دیگراحباب کے جنازوں کا منظرجُدا جان بلب ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے جیسے زمانہئ جنگ ہے اور متحارب گروہ ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ 

سرکاری افراداور مختلف تنظیمی احباب کی جانب سے اپنے ہم خیال واٹس اپ گروپوں میں سانجھ کئی گئی  باوردی اور بے وردی تصاویر اور ویڈیوز ہماری معاشرتی،مدرسّہ جاتی اور جامعیاتی تعلیم پر سوالات کی بوچھاڑ کرتی ہیں۔اگرہم نے صُلح حُدیبیہ یا آپ  ﷺ کے طرزِ مبارزت کو جزوِ نصاب یا اصولِ حیات بنایا ہوتا تو نوبت شاید یہاں تک نہ پہنچتی۔کسی مسئلے کے حل کے لئے اگر نِیّت ہی ٹکراؤ کی کر لی جائے تو خون کی ہَولی اَزخود ارادے کی گِرہ میں جگہ بنا لیتی ہے۔دانا،دوراندیش اور سلجھاؤ پسند افراد یا گروہ سالہاسال عدم تشدّد پر مبنی جدّوجہد کو تسلسل سے لے کر چلتے ہیں۔جہاں گُفت و شُنید یا عہدو پیما کی عملداری میں کوئی رکاوٹ دَر آتی ہے تووہ اس رکاوٹ کو دور کر کے مزید جدّوجہد کا راستہ نکالنے کا جتن کرتے ہیں۔مگر جہاں مختلف طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے مخصوص مقاصد کی آبیاری کے لئے اپنے ہم خیال گروہوں سے باہمی معاونت کا گٹھ جوڑ کرکے حصول مقصد کی جانب بڑھتے ہیں وہاں شایدان گروہوں کو تو اپنے" جیسے تیسے مقاصد" میں کامیابی حاصل ہو جائے مگر وہ معاشرہ جس میں وہ بستے ہیں، اُس کی بھاری قیمت چکانے کا سزا وار ٹھہرتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک منفرد اندازِ سوچ و فکر نے جنم لے رکھا ہے۔ کسی فردِ واحد کے مذہبی یا سیاسی عقیدہ کے درست یا صحیح راستے پر ہونے کا اس سے زیادہ دوسروں کو پتہ اور فکررہتی ہے۔ چونکہ وہ خود کو نہیں سمجھ پا رہاہوتا، لہٰذا جو کچھ اسے دوسرے سمجھتے ہیں گویا اسے بھی خود کو وہی سمجھنا ہے، وگرنہ وہ کافر، جاہل اور پتہ نہیں کیا کیا کہلائے جانے کا حقدار ہے۔ 

وطنِ عزیز میں جہاں حزبِ مخالف کی مضطرب سیاسی قوتیں ہمیشہ سے سرکار کو زمین بوس کرنے کی دَرپے رہی ہیں وہاں مذہبی اور علاقائی جماعتیں اور گروہ کبھی سیاسی پلیٹ فارم سے،کبھی مدرسّہ جاتی شناخت سے،کبھی اپنی جداگانہ حیثیت میں،تو کبھی دوسری مذہبی یا سیاسی جماعتوں کے اختلاط سے امن و عامہ کے مسائل پیدا کر کے حکومتِ وقت کو معذرتی روّیہ اپنانے پر مجبور کرتی رہی ہیں۔حکومتِ وقت ہمیشہ سے حتی ّالمقدور ضبط و برداشت کا مظاہرہ کرنا ہی مناسب سمجھتی ہے۔تاہم جب پانی سَر سے گزرنے لگتا ہے، گُفت و شُنید کی تمام تَر کوششیں رائیگاں جاتی ہیں تو حکومت قبل اَز وقت اختتام کو پہنچتی ہے یاسرکاری حکم منوانے کے لئے طاقت کا استعمال کرتی ہے۔آج حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اگر مذہبی جماعت کے کندھوں پر رکھ کر حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے سرکار کی جانب اپنی بھی کوشش کی تو اُنہیں بھی شاید مستقبل میں اِسی مکافاتِ عمل سے عہدہ برآ ہونے پڑے گا۔

فکرطلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایسے عقلمند،سلجھاؤپسند اور قائدانہ صلاحیّت کے مالک احباب عنقا ہیں،جو ایک طرف حکومتِ وقت تک رسائی حاصل کر کے مسئلے کا درمیانی راستہ نکالنے کی تگ و دو کریں تو دوسری طرف مذہبی گروہوں کو تشدّد آمیز کاروائیوں سے گریز برتنے پر آمادہ کریں۔اگر صاحبِ اَثر و رسوخ اور دانش ور کہلانے والا طبقہ اپنے حصّے کا کردار ادا نہیں کرے گا تو سڑکوں پر رُونُما ہونے والے دھوئیں کے بادل، گاڑیوں سے لپکتے ہوئے شُعلے، سڑکوں پر بکھرا لہو اور گولیوں کی تَڑ تَڑ نہ صرف اندرونِ ملک عام شہری سے لے کر ”عالی مقام احباب“تک کواپنی دہکتی ہوئی لپیٹ میں لے لے گی بلکہ یورپی طاقتیں جو پہلے ہی ہندوستان کی سفارت کاری کے نتیجے میں اور کچھ اسلام دشمن عقائدکی صورت میں پاکستان کو دہشت گردی کا" ایوارڈ  "دینا چاہتی ہیں، اُن کے لئے اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے میں ٹھوس موادکی آسان دستیابی جلتی پر تیل کا کام کرے گی۔ اب ہمیں اپنے گریبان میں زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور جھانک کر دیکھنا ہے کہ کیا ہم درست سمت میں چل رہے ہیں؟ اور کیا اس سمت میں چلتے چلتے ہم منزل مراد کو جا لیں گے؟ یقینا سوال مشکل ہے، لیکن جواب بھی آسان نہیں ہے!

مزید :

رائے -کالم -