دو بیل اور شیر کی کہانی

دو بیل اور شیر کی کہانی

  

کسی جنگل میں دو بیل رہتے تھے ایک لال اور ایک سفید جن کی آپس میں گہری دوستی تھی۔ایک ساتھ گھومنا پھرنا اور چرنے کے لئے بھی ایک ساتھ آنا جانا۔ان کی اس مثالی دوستی کی وجہ سے اس جنگل کا شیر ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا،اس نے جب کبھی ان میں سے کسی ایک پر حملہ کیا تو دونوں نے مل کر اس کی وہ درگت بنائی کہ شیر کو اپنی جان کے لالے پڑ جاتے۔

    شیر نے ایک چال چلی لال بیل سے چکنی چپڑی باتیں کرکے اور روشن مستقبل کے سہانے سپنے دکھا کر اپنے ساتھ ملا لیا لال بیل اس کی باتوں میں آگیا کہ بیل کی دوستی کے مقابلے میں شیر کی دوستی زیادہ محفوظ نظر آرہی تھی۔

    لال بیل جب شیر سے مل گیا اور سفید بیل اکیلا رہ گیا تو چند دنوں کے بعد شیر نے اس کے شکار کا پروگرام بنایا اور اس پر حملہ کر دیا۔  پہلے تو دونوں مل کر شیر کو بھگا دیا کرتے تھے مگر اب اکیلے بیل کے لئے شیر کا مقابلہ مشکل ہو گیا۔

    سفید بیل نے اپنے ساتھی بیل کو بہت پکارا،بہت آوازیں دیں،پرانی دوستی کے واسطے دیے اور بیل ہونے کے ناطے بھائی چارے کا احساس دلایا،مگر شیر کی دوستی کے نشے سے سرشار لال بیل ٹس سے مس نہ ہوا اور اپنی برادری کے ایک فرد کو شیر کے ہاتھوں چیر پھاڑ کا شکار ہوتا دیکھتا رہا۔

    وہ آج بہت خوش اور مطمئن تھا کہ شکر ہے میں اس کے ساتھ نہیں تھا ورنہ آج میرا کام بھی اس کے ساتھ ہی تمام ہو جاتا۔

    تھوڑے دن گزرے کہ شیر نے اسے بھی شکار کرنے کا پروگرام بنا لیا۔جب شیر نے اس پر حملہ کیا تو لال بیل نے زور سے ڈکارتے ہوئے جنگل کے باشندوں کو یہ پیغام دیا کہ۔۔۔(میں تو اْسی دن قتل ہو گیا تھا جس دن سفید بیل قتل ہوا تھا)۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -