آیئے مسکرائیں

آیئے مسکرائیں

  

٭ایک سردار صاحب جو اسکول میں ہندی پڑھانے پر مامور تھے، اپنے شاگردوں سے پوچھنے لگے:

بتاؤدُرگھٹنا اور نقصان میں کیا فرق ہوتا ہے؟

ایک شاگرد نے ہاتھ کھڑا کیا۔ سردار صاحب نے اجازت دی تو کہنے لگا:

سر جی اگر زلزلہ آئے اور ہماری کلاس کی دیواریں اور چھت سب کچھ گر کر تباہ ہوجائے تو یہ سکول کے لئے ایک بہت بڑا نقصان ہوگا۔

شاباش۔۔سردار صاحب بولے۔ اور دُرگھٹنا کیا ہوگی؟

سر جی اگر آپ اس میں سے زخمی ہوکر، زندہ سلامت باہر نکل آئیں، تو یہ دُرگھٹنا ہوگی۔

٭ایک بار ایک ساتھ انیس سردار فلم دیکھنے گئے ……

سنیما ہال میں ایک آدمی نے ان سے پوچھا - آپ انیس لوگوں کے گروپ میں کیوں آئے ہو؟

تب سردار نے کہا، کیونکہ سنیما ہال کے باہر لکھا تھا:18 سال سے کم عمر کے شخص فلمیں نہیں دیکھ سکتے...!!!

٭استاد: دہلی میں قطب مینار ہے۔

ایک لڑکا کلاس میں سورہا تھا استاد نے اسے اٹھایا اورغصے سے پوچھا۔ بتاؤ میں نے ابھی کیا کہا ہے؟

شاگرد: دہلی میں کتا بیمار ہے۔ 

٭ایک طالب علم نے اپنے ساتھی سے کہا:بھئی پیپرز کب ہورہے ہیں؟

دوست نے جواب دیا، یکم جنوری سے۔

کوئی تیاری بھی کی ہے؟

ہاں، ایک نیا قلم خریدا ہے، نئے کپڑے سلوائے ہیں، نیا جوتا اور نئی گھڑی خریدی ہے۔

 ٭استاد شاگرد سے: ہمارے اسکول میں انسپکٹر صاحب آنے والے ہیں وہ جو بھی پوچھیں فرفر جواب دینا۔

تھوڑی دیر کے بعد انسپکٹر صاحب تشریف لائے۔انہوں نے آتے ہی ایک لڑکے سے سوال کیا:بتاؤ اکبر کہاں پیدا ہوئے؟

شاگرد: فرفر۔

٭استاد: بھینس کی کتنی ٹانگیں ہوتی ہیں؟

شاگرد: سر یہ تو کوئی بے وقوف بھی بتادے گا۔

استاد: اسی لیے تو تم سے پوچھ رہا ہوں۔

٭ایک بزرگ یہودی عبادت گاہ سے نکل رہا تھا کہ سامنے سے اسے ایک نوجوان آتا دکھائی دیا جسے انہوں نے کہا کہ عبادت کا وقت تو ختم ہو گیا ہے‘ تم اندر کس لیے جا رہے ہو؟ اس پر نوجوان نے کہا کہ مجھے پانچ روپوں کی سخت اور فوری ضرورت ہے جس کے لیے میں خدا سے دعا مانگنے جا رہا ہوں۔

 اس بزرگ نے سوچا کہ مجھے بھی پچاس ہزار روپوں کی شدید ضرورت ہے‘ کیوں نہ میں بھی اس کے ساتھ دعا میں شامل ہو جاؤں؛ چنانچہ دونوں نے اندر جا کر اپنی اپنی ضرورت کے مطابق دعا مانگنا شروع کر دی۔

 پانچ منٹ کے بعد بزرگ نے اسے پانچ روپے دیتے ہوئے کہا: اب اپنی بکواس بند کرو تاکہ میری درخواست پر سنجیدگی سے غورہو سکے۔

٭ایک شخص کافی دیر سے بیٹھا رو رہا تھا کہ اس کے ایک دوست نے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ بولا: دراصل میری دیسی مرغی مر گئی ہے۔ 

دوست بولا: یار! کمال کرتے ہو، ایک مرغی کے مرنے پر روتے چلے جا رہے ہو، پچھلے دنوں میرا ایک عزیز مر گیا تھا‘ میں تو اتنا نہیں رویا تھا۔

 ''کیا تمہارا عزیز انڈہ دیتا تھا؟“ اس شخص نے روتے ہوئے دریافت کیا۔

٭آفس سے نکلتے وقت یاد آیاکہ کار کی چابی دفتر میں بھول آئی ہوں۔ واپس جا کر دیکھا توچابی غائب تھی۔ پرس چھان مارا، چابیاں ندارد۔ اف گاڑی کی چابیاں کہاں رہ گئیں؟۔بھاگم بھاگ پارکنگ میں پہنچی تو گاڑی غائب۔ پولیس کو فون کر کے نمبر بتایا اور اعتراف کیا کہ چابیاں گاڑی میں رہ گئی تھیں۔میاں کو مشکل سے کال کی اور بتایا کہ کار چوری ہو گئی ہے۔میاں صاحب بولے،بے وقوف،تمہیں یاد نہیں؟۔صبح تمہیں دفتر میں نے ہی تو ڈراپ کیا تھا!

بیوی: مجھے پھر دفتر آکر پک کر لیں۔

شوہر:لے تو جاؤں گا لیکن پہلے پولیس کو یقین دلا دوں کہ تمہاری کار میں نے چوری نہیں کی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -