پنجاب اور سندھ کے ہیلتھ کیئر کمیشنز فراہمیِ صحت کی خدمات میں بہتری کے لیے تعاون کر یں گے

 پنجاب اور سندھ کے ہیلتھ کیئر کمیشنز فراہمیِ صحت کی خدمات میں بہتری کے لیے ...

  

لاہور (پ ر)پنجاب اورسندھ کے ہیلتھ کیئر کمیشنزفراہمیِ صحت کی خدمات میں بہتری کے لیے تعاون کریں گے اور مختلف شعبوں میں تجربات سے فائداٹھانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کی تشکیل کی جائے گی۔ ان امورپر اتفاق گزشتہ روز کمیشن کے دفتر میں ہونے والے ایک مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔پنجاب کے دورہ پر آئے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے وفد کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسرڈاکٹراحسن قوی صدیقی جبکہ پی ایچ سی کے سی ای او ڈاکٹر محمدثاقب عزیز نے اپنے وفد کی سربراہی کی۔اجلاس میں دونوں کمیشنزکے شعبہ جات کے ڈائریکٹرز اور سربراہان نے اپنے شعبوں کے حوالے سے بریفنگزدیں اورقوانین پر عملدرآمد، درپیش مسائل،موثرحکمتِ عملی، قواعد و ضوابط اورمشترکہ تعاون کے حوالے سے تفصیلاًگفتگو کی۔

 سندھ کے وفد نے شعبہ صحت میں موثر اور کامیاب اصلاحات نافد کرنے پر کمیشن کے کام کو سراہا۔ ڈاکٹر ثاقب عزیز نے وفد کاخیرمقدم کیا اور انھوں نے پی ایچ سی کے ریگولیٹری فریم ورک اور صحت کی خدمات کی فراہمی کے متعلق تفصیلات بتائیں۔انھوں نے پورے پاکستان میں صحت کی یکساں سہولیات کی فراہمی اورقواعدو ضوابط کے لیے تمام ہیلتھ کیئر کمیشنز کی ایک قومی رابطہ کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی۔ڈاکٹراحسن قوی نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن پر بریفنگ دی اور انسدادِاتائیت،فراہمیِ صحت کی سہولیات،رجسٹریشن ولائسنس اور قواعدو ضوابط کے حوالے سے تفصیلات بتائیں۔ انھوں نے مشترکہ تعاون کے لیے مختلف شعبوں کی نشاندہی بھی کی۔ اس موقع پروفد کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ذمہ داریوں اور کامیابیوں کے متعلق آگاہ کیا گیااور بتایاگیا کہ کمیشن اب تک64ہزار سے زائدرجسٹر یشنز اور41ہزارسے زیادہ سرکاری و غیر سرکاری علاجگاہوں کو لائسنس جاری کر چکا ہے جبکہ صحت کی فراہمی کے کم سے کم معیارات کی تیاری او ر ان کا تمام ا قسام کی علاجگاہوں میں نفاذکیا گیا ہے انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ کمیشن20ہزارسے زائدعلاجگاہوں کے 25ہزارماہرینِ صحت اور اراکین کو ان معیارات پر عمل در آمد کے لیے تربیت فراہم کر چکا ہے اوران معیارات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کمیشن نے تقریباً 26ہزارعلاجگاہوں کی انسپکشنز بھی کی ہیں۔وفد کے علم میں لایا گیا کہ کمیشن کی اعلی کارکردگی کو تسلیم کرتے ہوئے عالمی سطح کے مختلف اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔انسدادِ اتائیت کے بارے میں کمیشن کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وفد کو بتایا گیا کہ کمیشن نے اب تک ایک لاکھ 8ہزار سے زائد علاجگاہوں پر چھاپے مارکر 34,345اتائیوں کے کاروبار سربمہر کیے ہیں جبکہ 25,422اتائیوں نے اپنے غیرقانونی کاروبار بند بھی کر دیے ہیں۔ 

مزید :

کامرس -