ریسکیو ٹیم کااقوام متحدہ انسراگ سے جنوبی ایشیا ء کی پہلی سرٹیفائیڈ ٹیم کی دوسری سالگرہ 

ریسکیو ٹیم کااقوام متحدہ انسراگ سے جنوبی ایشیا ء کی پہلی سرٹیفائیڈ ٹیم کی ...
 ریسکیو ٹیم کااقوام متحدہ انسراگ سے جنوبی ایشیا ء کی پہلی سرٹیفائیڈ ٹیم کی دوسری سالگرہ 

  

جب کبھی بھی کوئی لکھاری ایمرجنسی سروسز کی کامیابیوں کو قلمبند کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی مایہ ناز کامیابی  "پاکستان ریسکیو ٹیم کی اقوام متحدہ انسراگ سے جنوبی ایشیاء کی پہلی سرٹیفائیڈ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بننے کے بارے میں لکھنا اپنا اعزاز سمجھے گا۔"کیونکہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی ریسکیو 1122 کی پاکستان ریسکیو ٹیم اقوام متحدہ انسراگ کے ماہرین کی زیر نگرانی کئی سالوں کی جہد مسلسل سے اکتوبر 2019میں اقوام متحدہ انسراگ سے جنوبی ایشاء کی پہلی سرٹیفائیڈ ڈزاسٹر ریسپانس ٹیم بن چکی ہے۔ انسراگ انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزری گروپ (INSARAG)اقوام متحدہ کا وہ ادارہ ہے جو حادثات و سانحات میں سرچ اینڈ ریسکیو کی ٹیموں کو بین الاقوامی گائیڈ لائنز کے مطابق تیار کرتا ہے،سند دیتا ہے اور انٹرنیشنل ڈزاسٹر ریسپانس کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

دو سال قبل 28سے 31اکتوبر 2019اقوام متحدہ سکریٹریٹ سے مختلف ممالک کے سرچ اینڈ ریسکیو کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم لاہور پاکستان بھیجی گئی جس نے پاکستان ریسکیو ٹیم کو انٹرنیشنل ڈزاسٹر ریسپانس کے ہر مرحلے کا انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو گائیڈ لائنز کے مطابق جائزہ لیااور تمام ماہرین نے متفقہ طور پرریسکیو ٹیم کو انٹرنیشنل ٹیم کا درجہ دینے کا فیصلہ کیاجو 31اکتوبر 2019کو گورنر ہاؤس کی ایک شاندار تقریب میں اقوام متحدہ انسراگ کے نمائندے مسٹر ونسٹن چینگ نے خوبصورت الفاظ میں اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور عالمی کرکٹر چیمپئین کے مشہور مقولے سے اپنے بات کا آغاز کرنا چاہوں گاکہ  "کبھی ہمت نہ ہارواور مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مقصدسے پیچھے نہ ہٹو"یہ اس ٹیم کے بانی ڈاکٹر رضوان نصیر کی مقصد کی لگن، جہد مسلسل اور مضبوط قوت ارادی کی بدولت ہے۔ اگر ہم ڈیڑھ دہائی قبل 2005میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کی طرف واپس آئیں تو پتہ چلتا ہے کہ جہاں یہ سوچ پروان چڑھی کہ پاکستان کے پاس عالمی معیار کی ڈزاسٹر ریسپانس فورس ہونی چاہیے تھی اور یہی وہ گھڑی تھی جب ان کے ذہن میں یہ خیال آیا تھا۔ آج پاکستان ریسکیو ٹیم سر بلند ہے۔ یہ اہم ترین سنگ میل ہے کہ پاکستان کی ریسکیو ٹیم اب انٹرنیشنل اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی صف میں شامل ہو چکی ہے۔ پاکستان ریسکیو ٹیم اقوام متحدہ INSARAG))سے سرٹیفکیشن حاصل کرنے کے بعد دنیا بھر میں کہیں بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کرنے کے لیے مستند ہو چکی ہے۔ 

سرچ اینڈ ریسکیو کی بین الاقوامی صلاحیت کی حامل ٹیم ایمرجنسی سروسز اکیڈمی لاہور میں موجود ہے۔ اس سرٹیفکیشن کے لیے اکیڈمی میں بین الاقوامی ہدایات کے مطابق مختلف فرضی مشقوں کے لیے simulatorsبنائے گئے، ٹیم کو جدید آلات سے لیس کیا گیا اور ٹیم کی کو بین الاقوامی ماہرین کی زیر نگرانی تیار کرکے انٹرنیشنل ڈزاسٹر ریسپانس کے تمام مراحل سے بار ہا گزارا گیا اور جب تمام ضروری لوازمات مکمل ہو گئے تواقوام متحدہ سیکرٹریٹ سے  مختلف ممالک آسٹریا، برطانیہ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، موروکو، جورڈن کے ماہرین کی ٹیم بطور evaluatorsلاہور پاکستان بھیجی گئی۔

پاکستان ریسکیو ٹیم نے36گھنٹوں پر مشتمل انٹرنیشنل ڈزاسٹر ریسپانس کی فرضی مشق میں بین الاقوامی ماہرین کے سامنے ٹیم کو ایک ملک سے دوسرے ملک روانہ کرنے کے لیے ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال، سانحہ کا الرٹ جاری ہونے پر ٹیم کی تیاری کے مراحل، رجسٹریشن، میڈیکل چیک اپ، ضروری ساز و سامان کا حصول، ٹیم بریفنگ، کسٹم اور امیگریشن چیک کے بعد متاثرہ ملک میں پہنچنے کے بعد receptionاور departureسیل کا قیام، متاثرہ ملک کے اہم محکموں کی عہدداران سے میٹنگ، میٹنگ کے بعد بیس آ ف آپریشن قائم کرنے کے لیے روانگی، اربن سرچ اینڈ ریسکیو کوارڈینیشن سیل کا قیام،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے مختلف مراحل کا جائزہ لیا۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران ٹیم کو ملبے تلے دبے متاثرین کو ریسکیو کرنا، بلندی سے اور گہرائی سے ریسکیو کرنے، ملبے میں دبے مریض کے اعضاء کاٹ کر زندہ نکالنے کی تکنیکی مہارتوں کا عملی جائزہ لیا گیا۔ کامیاب آپریشن کرنے کے بعد اپنے ملک میں واپسی کے ایک ایک مرحلے کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد انٹرنیشنل کلاسیفائرز جن میں Mr. Peter Goxharaj،Christian Resch،Thomas Nesensohn،Amjad Al-Huniti،Soufian Samghouli،Winston Chang Wei Shen، Robert John NormanاورSean Mooreنے متفقہ طور پر یہ فیصلہ دیا کہ پاکستان ریسکیو ٹیم کو اقوام متحدہ سے انٹرنیشنل ریسپانس کے لیے سرٹیفائیڈٹیم کی اہلیت رکھتی ہے اور 31اکتوبر 2019کو گورنر ہاؤس لاہور میں ایک شاندار تقریب کے دوران تمام بین الاقوامی ماہرین کی موجودگی میں اقوام متحدہ انسراگ سیکرٹریٹ کے نمائندہWinston Chang  نے پاکستان ریسکیو ٹیم کو دنیا کی صف اول کی ٹیم میں شامل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

یقینا یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ سانحات میں پہلے 72گھنٹے جو انتہائی اہم ہوتے ہیں اس کے لیے عالمی معیار کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کرنے والی ٹیم اب نہ صرف پاکستان میں موجود ہے بلکہ اقوام متحدہ سے جنوبی ایشیاء میں پہلی سرٹیفائیڈ ڈزاسٹر ریسپانس ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔ آج اس ٹیم کی سرٹیفکیشن کو دوسال مکمل ہو گئے ہیں ٹیم نے ان دو سالوں میں نہ صرف اپنے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف فرضی مشقیں کیں بلکہ ضلعی سطح پر ریسکیورز کو انٹرنیشنل گائیڈ لائنز کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک جامع پلان ترتیب دیا تاکہ ماسٹر ٹریننرز کو ٹریننگ دینے کے بعد اضلاع کی سطح پر بھی سب ریسکیورز کو ان گائیڈ لائنز کے مطابق بنیادی آگاہی دی جا سکے۔ فرضی مشق کے تمام مراحل حقیقت سے بہت قریب تر تشکیل دئیے گئے تھے اور ٹیم کے ہر ممبر کا کردار بہت اہم تھا کیونکہ کسی ایک بھی مرحلے میں انٹرنیشنل گائیڈلائنز کی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں ٹیم کو Disqualifyبھی کیا جا سکتا تھا۔ لیکن شکر الحمداللہ ریسکیو سروس کے پیشہ وارانہ تربیت کے حامل ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا پرچم ڈزاسٹر ریسپانس کے شعبہ میں دنیا کی صف اول ٹیموں میں لہرایااور مدد سانحات میں مدد مانگنے والا ملک مدد دینے والوں میں شمار ہوا۔ 

ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں پاکستان کے تمام صوبوں سے 20ہزار سے زائد ایمرجنسی پروفیشنلز کو تربیت دی جا چکی ہے۔ اگرچہ یہ اکیڈمی پنجاب میں واقع ہے لیکن یہ ایک نیشنل ادارے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی مسلسل کاوشوں میں ایک کاوش یہ بھی ہے کہ ہر سال اس اکیڈمی میں قومی سطح پر ریسکیو چیلنج کا انعقاد کروایا جاتا ہے جس میں پاکستان بھر سے ایمرجنسی سروسز کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں جس میں ٹیمیں کو حادثات و سانحات میں ریسپانس کرنے کی صلاحیتوں کے لیے مختلف فرضی مشقوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بہترین کارکردگی کی حامل ریسکیو ٹیم کو اعزاز اور انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں اب تک 10نیشنل ریسکیو چیلنجز اور چارنیشنل کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس چیلنج کا انعقاد کر چکی ہے۔ کمیونٹی ٹیمز کے چیلنج کے انعقاد کا  مقصد رضاکاروں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں وہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو مزید نکھاریں اور والنٹیرازم کو مزید فروغ ملے۔ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ سارک ممالک کی استعداد کا ر کومزید نکھارنے کے لیے سارک یسکیو چیلنج کا بھی انعقاد 2018میں کر چکی ہے۔

ریسکیو سروس کا یہ اعزاز بلا شبہ پاکستان کا اعزاز ہے اور اس کے لیے صوبائی،قومی اور بین الاقوامی سطح کے تمام اداروں کا تعاون قابل ستائش ہے اور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ٹیم کے بنانے میں بنیادی کردار اقوام متحدہ انسراگ سیکرٹریٹ سے تعینات کیے گئے Mentor Edward G Pearnکا ہے جنہوں نے کئی سال ٹیم کو استعداد کار کو نکھارااور اس قابل بنایا کہ ٹیم دنیا کی صف اول کی ٹیموں میں شامل ہو سکے۔ اس ٹیم کے ٹیم کمانڈ ر ڈاکٹر رضوان نصیر، ٹیم لیڈر ڈاکٹر فرحان خالد، ڈپٹی ٹیم لیڈر محمد احسن، سکواڑ لیڈر ز اور تمام ممبران حقیقت میں قوم کے حقیقی ہیرو ز ہیں جنہوں نے مل کر ہر چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ریسکیو سروس حکومت پاکستان، حکومت پنجاب، نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، اقوام متحدہ اوچا پاکستان، یو این اوچا انسراگ، یو این ڈی ایس ایس، ایس ڈی سی اور تمام متعلقہ اداروں کی سپورٹ کو سراہتی ہے۔ پاکستان ریسکیو ٹیم کواقوام متحدہ سے سرٹیفکیشن کا دوسراسال ایک نئے اقدام کے ساتھ منا رہی ہے کہ اب نیشنل ایکریڈیشن پروگرام کے ذریعے ملک بھر کی لائٹ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمز کو بھی اقوام متحدہ انسراگ کی گائیڈ لائنز کے مطابق تربیت دی جائے گی تاکہ ہر سطح پر سانحات سے نمٹنے کی صلاحیت عالمی معیار کے مطابق موجود ہواور سانحات سے نبرد آزما ہونے کی موثر تیاری کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان ریسکیو ٹیم کو اقوام متحدہ سے سرٹیفکیشن کی دوسری سالگرہ مبارک اس دعا کے ساتھ کہ وہ اپنے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھتے ہوئے زندگیاں بچانے کے مشن کو جاری و ساری رکھیں گے۔آمین

پاکستان ریسکیو ٹیم زندہ آباد---پاکستان پائندہ آباد

مزید :

رائے -کالم -