گوادر میں 1000ایکڑ رقبے پر کیلا، مورنگا، سیسبا نیا اور ایلو ویرا لگانے کا منصوبہ

  گوادر میں 1000ایکڑ رقبے پر کیلا، مورنگا، سیسبا نیا اور ایلو ویرا لگانے کا ...

  

      گوادر(آئی این پی) پاکستان ”گرین گوادر“اور مقامی زراعت کو فروغ دینے کیلئے چین کی مدد سے گوادر کے بڑے رقبے پر مناسب پھلوں اور پودوں کی کاشت کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ گوادر پرو کے مطابق گوادر اور چین کے دو شہروں میں ایک ساتھ منعقد ہونیوالی پہلی ”چائنا پاکستان ٹراپیکل ایرڈ نان ووڈ فاریسٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی“کانفرنس میں شرکا کو بتایا گیا گوادر کے کئی ایکڑ رقبے پر کیلا، مورنگا، سیسبانیا اور ایلو ویرا لگائے جائیں گے تاکہ نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دیا جا سکے بلکہ گرین گوادر کو بھی فروغ دیا جا سکے۔ کانفرنس کا مقصد چین اور پاکستان کے نان ووڈ فاریسٹ /اقتصادی جنگلات کے میدان میں کامیابیوں اور تحقیقی پیشرفت کو ظاہر کرنا اور دونوں ممالک کے درمیان ماہرین کے تبادلے و تعاون کو بھی فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری فاریسٹری اینڈ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ بلوچستان دوستین جمالدینی نے کہا صرف ان پودوں کے بیج بوئے جائیں گے جو گوادر میں کاشت کیلئے موزوں ہوں کیونکہ ٹراپیکل علاقوں میں بہت سے بیج ناکارہ ہو چکے ہیں۔ توجہ ان پودوں پر ہے جو مقامی لوگوں کیلئے اقتصادی طور پر اچھے ہیں یا چین کیلئے تجارتی طور پر فائدہ مند ہیں۔ شرکا کو بتایا گیا یہ بیج آئندہ سال تقریبا 1000 ایکڑ رقبے پر لگائے جائیں گے تاہم ابتدائی طور پر تقریبا 5 ایکڑ پر سیسبانیہ کے پودے لگائے جائیں گے۔ اسی طرح آز مائشی بنیادوں پر کیلے کے 300 درخت، مورنگا کے 1000 درخت اور ایلو ویرا کے 500 پودے لگائے جائیں گے۔ دوستین جمالدینی نے تقریب کے انعقاد پر چائنا سوسائٹی آف فاریسٹری کا شکریہ ادا کیا اور کہا یہ تقریب بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (پی آر آئی)کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گی۔گوادر پرو کے مطابق انہوں نے مزید کہا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور زیر زمین پانی تیزی سے خشک ہو رہا ہے جو تشویشناک ہے اور ہمیں ماحولیات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی تحفظ ہماری ترجیح ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ تقریب گرین بیلٹ پر بہتر آئیڈیاز اور پیداواری صلاحیت لائے گی۔ سی پیک بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ گوادر بندرگاہ ایک بار ترک کردی گئی تھی اور یہ پہلے ہی سرمایہ کاروں کے لیے خوابوں کی سرزمین ہے۔ ٹشو کلچر لیب اور پودوں کی کاشت پہلے سے ہی فعال ہے۔ کانفرنس کی مشترکہ میزبانی چائنیز سوسائٹی آف فاریسٹر ی، سینٹرل ساتھ یونیورسٹی آف فاریسٹری اینڈ ٹیکنالوجی، چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی اور ٹیکنومین کائنیٹکس نے کی۔ کانفرنس دونوں ممالک کیلئے سائنس، ٹیکنالوجی، ماحولیات اور معیشت کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس موقع پر سی او پی ایچ سی کے چیئرمینچنگ باچونگ نے کہا صرف ''گرین گوادر'' بندرگاہ کو بہتر طریقے سے چلانے کے قابل بنائے گا اور مقامی لوگوں کی آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچا سکے گا۔ کانفرنس میں انڈس یونیورسٹی کراچی، کراچی یونیورسٹی اور فیصل آباد نے بھی شرکت کی۔

گوارد منصوبہ

مزید :

پشاورصفحہ آخر -