پٹرول پر ٹیکسوں کاخاتمہ کر کے قیمتوں میں استحکام لانے کا مطالبہ

  پٹرول پر ٹیکسوں کاخاتمہ کر کے قیمتوں میں استحکام لانے کا مطالبہ

  

          پشاور(سٹی رپورٹر) خیبر پختونخوا کے کاروباری طبقہ اور تاجروں نے بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ  ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی بے قدرتی اور بیرونی قرضوں کا مزید بوجھ ملک کے غریب عوام پر ڈالنے موجودہ حکومت کی نااہلی اور معاشی پالیسیوں کے عدم استحکام قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول پر مختلف ٹیکسوں کا خاتمہ کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے اور ملک کی غریب عوام کو ریلیف دیا جائے۔ حکومت گذشتہ تین سالوں سے صرف معاشی اعشاریہ کو درست کرنے کی نوید سناتی رہی لیکن اس نے عملی طور پر ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پہنچادیا ہے اور ملکی یکسپورٹ میں واضح کمی سمیت تجارتی خسارہ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے غریب عوام پر اضافی قرضوں کا بوجھ ڈالا گیا ہے اور ملک کی معیشت کو عالمی اداروں کے پاس گروی رکھ دیا گیا۔ وفاقی محصولات کا اہداف کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنادیاگیا ہے۔ سستی بجلی و گیس پیدا کرنیوالے صوبہ پر مہنگی فروخت کرنا غیر آئینی اور حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حکومت فوری طور پر بجلی  گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافہ کو واپس لے بصورت دیگر بزنس کمیونٹی احتجاج پر مجبور ہوگی۔ گذشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر حسنین خورشید احمد نے پریس کانفرنس سے چیمبر ہاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پیئرز ملکی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں لیکن حکومت انڈسٹریلائزیشن ٹریڈنگ اور کاروبار آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے ایسی صورتحال پیدا کردی ہے جہاں پر کاروباری طبقہ گوناگوں مشکلات سے دوچار ہے بزنس کمیونٹی حکومت کے معاشی استحکام  ایز آف ڈوئنگ بزنس اور بہتری کے تمام دعووں کو یکسر مسترد کرتی ہے کیونکہ ای آف ڈوئنگ بزنس رینکنگ 147 سے 80 پر آگئی ہے جو کہ ایک انداز ے کے مطابق پاکستان کی EODB رینکنگ بہتری کی بجائے کئی گنا خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ بالخصوص ڈالر کی اونچی اڑان اور روپے کی قدر میں تیزی سے کمی موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب سے نئے قرضوں کی یقین دہانی کے بعد ڈالر کے ریٹ میں کچھ استحکام نظر آیا ہے لیکن سعودی عرب سے قرضوں کے وصولی پر سود سے ملکی معیشت مزید دبا کا شکار ہوئی ہے جو کہ ملک و قوم کے کسی صورت بہتر مفاد میں نہیں ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران سرحد چیمبر کے سینئر نائب صدر عمران خان مہمند  سابق صدر ایف پی سی سی آئی غضنفر بلور  سابق صدر ریاض ارشد  سابق نائب صدور عبدالجلیل جان  حارث مفتی  ایگزیکٹو ممبران فضل مقیم خان فرہاد اسفندیار  اعجاز خان آفریدی  نعیم قاسمی اور غلام بلال جاوید سہیل جاوید  امین بابر سمیت ایکسپورٹرز  امپورٹرز اور تاجروں کی کثیر تعداد میں موجود تھی۔ سرحد چیمبر کے صدر حسنین خورشید نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی بجلی کے نرخوں کی وجہ لائن لاسز کو قرار دیا ہے اور اس حوالے سے واپڈا اور بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی جانب سے لائن لاسز پر کنٹرول کے موثر اقدامات نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت خیبر پختونخوا میں RLGN ریٹ پر گیس فراہم کر رہی ہے جو کہ صوبہ جہاں پر قدرتی گیس سرپلس پیدا ہوتی ہے نہ صرف غیر آئینی اور حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور صنعتوں  کاروباری مراکزی اور بازاروں کو بلا تعطل بجلی گیس کی فراہمی اور سہولیات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں صنعتی ترقی و معاشی خوشحالی میں ایف بی آر کے ماتحت حکومتی اداروں کو بڑی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ ان حکومتی اداروں کی بدمعاشی  کرپشن  اقربا پروری اور بلیک میلنگ ہمیشہ سے رہی ہے لیکن اب کچھ عرصہ سے یہ عروج پر پہنچ گئی ہے اور کاروباری لوگوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر چھاپے  ہراسمنٹ اور بلیک میلنگ سے تنگ آکر بہت سے کاروبار بند ہونے کو آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ کو چور کی نظر دیکھنا اور ان کے ساتھ بدترین بدسلوکی روا رکھنا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلی خیبر پختونخوا کی کاروباری طبقہ کے مسائل کے حل کیلئے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ سمجھ سے بالاتر ہے جس کے پاس گذشتہ تین سالوں سے بزنس کمیونٹی سے ملاقات کے لئے وقت ہی نہیں ہے اگر ایک صوبہ کے وزیراعلی کاروباری طبقہ کی مشکلات کو حل نہیں کرسکتاتوصوبہ کی معیشت کو کیسے درست کیا جاسکے گا۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -