بریسٹ کینسر کی شرح ابتدائی مرحلہ میں تشخیص سے کم کی جاسکتی ہے،ثمینہ علوی

بریسٹ کینسر کی شرح ابتدائی مرحلہ میں تشخیص سے کم کی جاسکتی ہے،ثمینہ علوی

  

لاہور(این این آئی)خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ بریسٹ کینسر کی شرح ابتدائی مرحلہ میں تشخیص سے کم کی جاسکتی ہے جس کیلئے خواتین کو ہر ماہ اپنے خود معائنہ کی عادت کو اپنانا ہوگا،کسی بھی تبدیلی کی صورت میں میمو گرافی کی جاسکتی ہے،بریسٹ کینسر کے حوالے سے شعور کو اجاگر کرنے کیلئے مہم کا دائرہ کار اب دور دراز علاقوں تک بڑھانے جارہے ہیں،بریسٹ کینسر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھرمیں خطرے کا نشان بن چکا ہے تاہم پاکستان میں آگاہی نہ ہونے اور شرم کا عنصرپائے جانے کی وجہ سے شرح اموات باقی ملکوں کی نسبت زیادہ ہے،بریسٹ کینسر اب نوجوان لڑکیوں کو بھی ہورہاہے جبکہ اب یہ بیماری مردوں میں بھی پائی جارہی ہے،ہر آٹھ میں سے ایک خاتون اس بیماری میں مبتلا ہے جبکہ ہر 30منٹ بعد ایک خاتون میں اس کی تشخیص ہورہی ہے،عالمی ادارہ صحت  پاکستان میں اس بیماری کی آگاہی کیلئے اہم کردار ادا کررہا ہے جبکہ شوکت خانم، کینسر کئیر ہسپتال،الشفا انٹر نیشنل، آرمڈ فورسز ہسپتال اور بڑے سرکاری ہسپتال بھی اس بیماری کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔وہ جمعہ کے روز پنجاب یونیورسٹی لاہور میں بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار سے خطاب کررہی تھیں۔بیگم گورنر پروین سرور،وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر،اراکین پارلیمنٹ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کثیر افراد اس موقع پر موجود تھے۔بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ آج انہیں اس پروگرام میں آ کر خوشی ہورہی ہے کہ یونیورسٹی میں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی کی جارہی ہے،طالبات کے لئے ضروری ہے کہ نصابی کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیاں بھی منعقد ہوں۔انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں خطرے کی علامت بن چکا ہے تاہم پاکستان میں آگاہی نہ ہونے اور خواتین میں شرم و حیا کا عنصر پائے جانے کی وجہ سے شرح اموات دیگر ملکوں کی نسبت زیادہ ہے،خواتین کو چاہئے کہ وہ ہرماہ اپنا خود معائنہ کریں اور اگر جسم میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر میمو گرافی کرائی جائے۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت پاکستان میں اس بیماری کی آگاہی کیلئے اہم کردار ادا کررہا ہے،پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جہاں  صحت کی سہولیات بھی بہت بہتر نہ ہیں جبکہ شوکت خانم،کینسر کئیر ہسپتال،الشفا انٹر نیشنل جیسے بڑے ادارے آرمڈ فورسز ہسپتال اور بڑے سرکاری ہسپتال بھی اس بیماری کیخلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

  ثمینہ علوی

مزید :

صفحہ آخر -