سپریم کور ٹ کانسلہ ٹاور کے بعد تجوری ہائٹس بھی گرانے کا حکم

سپریم کور ٹ کانسلہ ٹاور کے بعد تجوری ہائٹس بھی گرانے کا حکم

  

         کراچی (سٹاف رپورٹر) نسلہ ٹاور کے بعد سپریم کورٹ نے کراچی میں ایک اور عمارت گرانے کا حکم دیدیتے ہوئے ریلوے اراضی پر قائم تجوری ہائٹس کے رہائشیوں کو 3 ہفتوں میں متبادل جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے تجوری ہائٹس کو ایک ماہ میں مسمار کرنے کا حکم دیدیا۔تجوری ہائٹس کے وکیل رضا ربانی نے کہا سروے نمبر 190 پر قبضہ تھا، اسلئے سروے نمبر 188 میں متبادل زمین لی۔ عدالت نے کہا آپ کو سروے نمبر 190 کے بجائے 188 کی سیل ڈیٹ کروانی چاہیے تھی۔سماعت کے دوران رضا ربانی کہنے لگے میرے موکل جگہ خالی کرنے کو تیار ہیں۔ الاٹیز سے معاملات حل اور اسٹرکچر منہدم کرنے کیلئے مہلت چا ہئے۔ لارجر بینچ نے گلشن اقبال میں ریلوے اراضی پر قائم عمارت کے رہائشیوں کو 3 ہفتوں میں متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا اور بلڈر کو ریکارڈ و دیگر سامان نکالنے کی اجازت، کمشنر کراچی کو انہدام کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔ عدالتی احکامات کے مطابق ایک ماہ میں اسٹرکچر گرانے کا عمل مکمل کیا جائیگا۔ عدالت نے الاٹیز کو تین ماہ میں معاوضہ ادا کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ کمشنر کراچی اور بلڈر سے اسٹرکچر منہدم کر کے رپورٹ بھی مانگ لی۔بعدازاں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں  ہندو جیم خانہ سے ناپا کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے کراچی میں ہندو جِم خانہ کے اندر قائم ناپا کیلئے نئی جگہ کے تعین اور جِم خانہ میں قائم مارکی اور عارضی دفاتر فوری ختم کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا لوگ تو موہن جو دڑو اور مکلی سے اینٹیں تک اٹھا کر لے گئے ہیں، سندھ سب سے بد قسمت صوبہ ہے، جہاں بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، سماعت میں سیکریٹری کلچر سندھ، کمشنر کراچی و دیگر حکام عدالت پیش ہوئے۔ ثقافتی عمارتوں کی مناسب دیکھا بھال نہ ہونے پر چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد سیکریٹری کلچر پر برہم ہوئے اورریمارکس میں کہا شہر میں برنس روڈ، پاکستان چوک سمیت ثقافتی عمارتوں کی بھر مار تھی، یہ ورثہ کسی اور ملک میں ہوتا تو وہاں کی سیاحت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی، برنس روڈ پر جا کر دیکھیں ہیرٹیج بلڈنگ کا کیا حال کیا ہوا ہے۔ کراچی دیکھیں، شہر میں ہر طرف دھول، مٹی، گندگی اور بدبو ہے، روم میں جا کر دیکھیں ہیرٹیج کی کیا اہمیت ہے، ایک ایک اینٹ کو محفوظ رکھتے ہیں، سندھ سیکریٹریٹ کے پیچھے دیکھیں کیسی کیسی خوبصورت عمارتیں تھیں، سب تباہ کر دی گئیں۔ ایک موقع پر چیف جسٹس نے ناپا کے وکیل اور سیکریٹری سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ لوگوں نے ورثے کو تباہ کر دیا، آپ لوگ ڈبہ آفس سے باہر نکلیں تو پتا چلے۔ جس پر حکومتی نمائندے نے عدالت کو بتایا زیب النِسا اسٹریٹ سے پرانی عمارتیں باری باری گرا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کیا لکشمی بلڈنگ گرادی؟ جس پر وکیل نے کہا نہیں اس کی حالت دیکھیں کیا ہوگئی ہے۔ جسٹس گلزار نے جواباََ کہا آپ نے تو میرا ہارٹ اٹیک کرا دیا تھا۔ چیف جسٹس نے سیکریٹری سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے آج ایسی بلڈنگ بنانے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آپ تو کاپی بھی نہیں کر سکتے، سارے سیکریٹریز اپنے دفاتر میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کو کیا پتہ کلچر کیا ہوتا ہے، جس پر سیکریٹری کلچر سندھ نے کہا کلچر کیلئے بڑی رقم رکھی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس جوابا بولے کہ لیکن سب رقم کھا جاتے ہیں۔جسٹس اعجاز نے کہا حکومت سو رہی تھی جب آڈیٹوریم بن رہا تھا؟ ہیریٹیج بلڈنگ میں کیسے تعمیر کرسکتے ہیں؟۔ جس پر ناپا کے وکیل نے کہا خالی جگہ پر تعمیرات ہوئیں اوریجنل بلڈنگ کو نہیں چھیڑا گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا  ہر عبادت کی جگہ کا احترام کرتے ہیں، ہندو جیم خانہ کی ثقافتی حیثیت کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکم دیا ہندو جیم خانہ کی ڈرون فوٹیج بنائیں، عدالت میں بڑی اسکرین پر دیکھیں گے عمارت کی کیا صورتِحال ہے۔ اس موقع پر عدالت نے کمشنر کراچی کو ناپا کیلئے نئی جگہ کے تعین کا حکم دیا اور کہا کہ جیم خانہ کی حدود میں قائم مارکی اور عارضی دفاتر فوری ختم کیے جائیں۔ مارکی اور دفاتر کی ہندو جیم خانہ میں کوئی گنجائش نہیں۔ کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -