چوبارہ،پولیس افسر کی ملی بھگت مخالفین کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

چوبارہ،پولیس افسر کی ملی بھگت مخالفین کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

  

  چوبارہ (نمائندہ خصوصی)ڈی ایس پی سرکل چوبارہ انور خان نے مخالفین کے ساتھ ملی بھگت کر کے بغیر انکوائری کیے(بقیہ نمبر13صفحہ6پر)

 مقدمہ درج کرنے کا حکم صادر کردیا ایس ایچ او چوبارہ محمد افضل نے کہا ڈی ایس پی کا آرڈر ہے پرچہ لازم درج ہوگا جھوٹا مقدمہ خارج کیا جائے ورنہ احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے شاہ محمدلیل,, تفصیل کے مطابق تحصیل چوبارہ کے موضع آرائیں کے رہائشی شاہ محمد لیل نے ملک عمرحیات لیل چوہدری ظفراقبال کنگ,سلیمان,ثقلین,طاہر,اقبال,ودیگررشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ چار سال پہلے 2017 میں نور محمد لیل کا اپنی برادری کے مابین چوری کے شبہ میں تنازعہ چلا آ رہا تھا اس دوران متعددلوگوں کوحراساں کیاگیا پولیس تھانہ چوبارہ بھی چارسالوں میں تفتیش مکمل نہ کرسکی چارسال پرانیوقوقہ میں اب مجھے برادری رنجش پر خواہ مخواہ ملوث کیا گیا اس کا مجھے علم تک نہ تھااس بابت ڈی ایس پی سرکل چوبارہ انور خان کے پاس انکوائری مقرر ہوئی لیکن مجھے مطلع نہ کیا گیا اور ہمارے مخالفین جن کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے کے ساتھ ملی بھگت کر کے ڈی ایس پی نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم صادر کر دیا ہم معززین علاقہ کے ساتھ ڈی ایس پی کو ملے تو انہوں نے کہا ایس ایچ او چوبارہ کے پاس چلے جائیں ایس ایچ اوچوبارہ محمد افضل کے پاس گئے تو انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی کا آرڈر ہے پرچہ لازم درج ہوگا اورمیرے خلاف ناجائز مقدمہ درج کر دیا خارج نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے مقدمہ خارج کر کے ایس ایچ او چوبارہ محمد افضل اور ڈی ایس پی سرکل چوبارہ انور خان کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔

حکم

مزید :

ملتان صفحہ آخر -