مارچ،حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، مظہر سعید کاظمی

  مارچ،حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کرے، مظہر سعید کاظمی

  

ملتان (سٹی رپورٹر)جماعت اہل سنت پاکستان کے امیر علامہ سید مظہر سعید کاظمی،علامہ محمد فاروق خان سعیدی،پیر سید رمضان شاہ فیضی،احسن سعید کاظمی،مولانا خادم حسین سعیدی،مولانا فیض بخش رضوی،محمد عثمان پسروری،مرزا ارشد القادری نے عید گاہ خانیوال(بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

 روڈ میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت موجودہ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے پرامن اور نہتے کارکنوں پر سفاکیت اور ظلم وتشدد کی انتہاکردی اور لبیک یارسول اللہ ؐ کا نعرہ لگانے والوں پر لاٹھیوں،آنسو گیس،فائرنگ،اور اب ہیلی کاپٹر سے فائرنگ اور ریلی کے راستوں میں تیزاب گردی کے واقعات تشویشناک ہیں ان اقدامات کی وجہ سے کئی کارکنان شہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں اس سے بیشتر اتنا بڑا اقدام دہشت گردوں کیلئے بھی نہیں کیا گیا جبکہ موجودہ حکومت کے وزراء نے ٹی ایل پی کے قائدین کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق فرانسیسی حکومت اور سفیر کا معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانا تھا لیکن حکومت اس تمام تر معاہدے سے منحرف ہوگئی معاہدے پر عمل درآمد کی بجائے تحریک کے قائد علامہ حافظ محمد سعد حسین رضوی ودیگر رہنماؤں اور ملک بھر سے ہزاروں کارکنوں کو پابند سلاسل کردیا گیا اور سات ماہ سے قید تنہائی میں رکھا گیا آخر پہلے لاہور ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے ان کی رہائی کا حکم دیا لیکن آزاد عدلیہ اور قانون کی پاسداری کے نام نہاد پہرے داروں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا معاہدے کی خلاف ورزی اور علامہ حافظ سعد رضوی کی بلاجواز گرفتاری اور قید تنہائی کے خلاف پرامن احتجاج پر گرفتاریاں،تشدد اور خون ریزی کا بازار گرم کیا گیا ٹی ایل پی بلاشبہ ملک بھر میں موثر ترین مذہبی اور سیاسی قوت ہے جس نے گذشتہ انتخابات میں پہلی مرتبہ مقبولیت حاصل کرکے مقتدر حلقوں کو ہلاکر رکھ دیاہے یہ امران لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جن کا خیال ہے کہ ملک میں مذہبی فیکٹر ختم ہوگیا ہے جب حکمرانوں کا زوال قریب آتا ہے تو ان سے ایسی غلطیاں اور حماقتیں سرزد ہوتی ہیں جو ان کے اقتدار کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ وطن عزیز کی اکثریت سواداعظم اہل سنت کو مزید مشتعل نہ کرے ٹی ایل پی پر پابندی اور ان کے امیر اور کارکنوں سمیر علماء وعوام اہل سنت پر تشدد بہت بڑی حماقت ہے جس کا خمیازہ موجودہ حکمرانوں کو بھگتنا پڑے گا انہوں نے اس موقع پر مطالبات پیش کئیے کہ رینجرز کی تعیناتی سے اشتعال پھیلے گا،معاہدے میں طے شدہ مطالبات کو فیالفور تسلیم کیا جائے جو یہ ہیں معاہدے کے مطابق پارلیمنٹ میں توہین رسالت اور فرانسیسی سفیر کے بارے میں قرارداد پیش کریں،ٹی ایل پی کے امیر اور شوریٰ کے ارکان سمیت تمام امیروں کی فوری طورپر غیر مشروط رہائی عمل میں لائی جائے،تمام یف آئی آرز واپس لی جائیں،تمام علماء کے نام فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں،تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کو فی الفور اٹھایا جائے،نہتے مظاہرین پر مسلح ہونے کا جھوٹا الزام فی الفور واپس لیاجائے،وزرا کی اشتعال انگیزبیانات کو فی الفور بند کیا جائے،وزیراعظم  اور  چیف  آرمی سٹاف سے مطالبہ ہے کہ سنجیدہ افراد کے ذریعے مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔  

مظہر سعید کاظمی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -