محبت رسولﷺ کا اوّلین تقاضہ اطاعت واتباع ہے

محبت رسولﷺ کا اوّلین تقاضہ اطاعت واتباع ہے
محبت رسولﷺ کا اوّلین تقاضہ اطاعت واتباع ہے

  

محبت رسول ﷺ دینِ اسلام کی اساس،ایمان کا جزو ِلازم ہےاور تکمیلِ ایمان کیلئے اطاعت واتباع شرط ہے۔اطاعت کے معنی ہیں حکم ماننا، حکم کی تعمیل کرنا اور اتباع کےمعنی ہیں ’’پیروی کرنا‘‘ یعنی پیچھے چلنا،یہ دونوں الفاظ قریب المعنی ہونے کے باوجود، ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔مثلاً اطاعت کا دائرہ محدود ہوتا ہے اور اتباع کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہوتا ہے۔اطاعت میں فرائض اور واجبات شامل ہوتے ہیں، جبکہ اتباع میں فرائض اور واجبات کے علاوہ نوافل اور مستحبات بھی شامل ہوتے ہیں۔

بعض حالات میں اطاعت ظاہری اور رسمی بھی ہوسکتی ہےلیکن اتباع میں ظاہر اور باطن دونوں یکساں ہو جاتے ہیں۔اطاعت میں ’مطاع‘کی عظمت پیش نظر ہوتی ہے،جب کہ اتباع میں ’متبع‘ کی محبت اور عقیدت کا جذبہ غالب ہوتا ہے۔دینِ اسلام ایک کامل اور مکمل دستورِ زندگی ہے۔رسالتمآبﷺ کی ذاتِ کریمہ اور سیرت طیبہ اس دستورِ زندگی کی عملی تفسیر ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،اخلاقیات ہوں یا معاشرت،زندگی کے تمام شعبوں میں آپﷺ نے اپنے اقوال و افعال سے،اپنے اخلاق و کردار سے،اپنی عادات و طبائع سے اس نظام حیات کے ایک ایک جز کی مکمل وضاحت اور تشریح کی ہے اور اپنے مطیع و متبعین کو اس دستور کے مطابق زندگی گزارنے کیلئے ایک ایسا صاف اور بےغبار راستہ بتا گئے ہیں کہ جس پر چلنے میں انہیں کوئی دقّت اور پریشانی نہ ہو اور جس پر چل کر وہ بہ آسانی اپنے رب کی رضا و خوشنودی حاصل کر سکیں۔

فرقانِ حمید کی بہت سی آیات اور احادیث مبارکہ اس بات پر شاہد ہیں کہ آپﷺ کی اطاعت واتباع ہی انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کا نسخۂ اکسیر اور دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی کا ضامن ہے۔ یہی وجہ ہیکہ نہ صرف عبادات میں آپﷺ کی اطاعت و اتباع کا مطالبہ کیا گیا بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں،اخلاقیات معاملات اور معاشرت حتٰی کہ عادات و طبائع میں بھی آپﷺ کی اطاعت و اتباع کی تاکید کی گئی۔گویا آپﷺ کو ان کی امت کے درمیان تمام خصائص و کمالات کیساتھ ایک آئیڈیل کی حیثیت سے مبعوث فرما کر امت کی فوز و فلاح کیلئے آپﷺ کی اطاعت و اتباع کو لازم قرار دیا گیا۔

محبت رسولﷺ کا اوّلین تقاضہ اطاعت واتباع ہے جنہیں پورا کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے،وگرنہ محبت رسولﷺ اور غلامی رسولﷺ کا دعوی فضول و بیکار اور بے فائدہ ہے۔ یہ فطری بات ہے کہ انسان جس سے محبت وعقیدت رکھتا ہے اسکے طور طریقوں کو اپنانا اس کی مکمل پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہےکیونکہ محب کی تمام تر توجہ اپنے محبوب کی طرف ہوتی ہے۔ 

اطاعت واتباع قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔۔۔!!!

آپﷺ سے محبت وعقیدت رکھنے والے پر لازم و واجب ہیکہ وہ آپﷺ کی مکمل اتباع اور پیروی کرے۔جو کام آپ ﷺ نے کیا اور پھر کرنے کا حکم دیا یا اپنے سامنے دیکھ کر خاموشی اختیار کی اور اسکی اجازت فرمائی وہ کام کرے اور جس کام سے آپﷺ نے روکا اس سے رُک جائے۔ سورۂ حشر میں اللہ تعالی کا فرمان! اور رسول(مکرمﷺ) تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو اور جس سے تمہیں روک دیں تو (اُس سے) رُک جاؤ۔

امتی پر لازم ہے کہ آپﷺ کے ہر فرمانِ عالیشان کے سامنے فورًا اپنا سرتسلیمِ خم کر دے۔ 

؀ جدھر حکم نبوتﷺ ہو اُسے گردن جھکائی ہو 

آپﷺ کی اطاعت واتباع ہی دراصل آپﷺ سے حقیقی محبت کا تقاضہ ہے۔جیسے عفیفۂ کائنات اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ ایک شخص آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔۔۔۔ یارسول اللہ ﷺ!اللہ کی قسم !بلاشبہ آپﷺ مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں،بلاشبہ آپﷺ مجھے میرے گھروالوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور مجھے میری اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں اور بیشک میں گھر میں ہوتا ہوں اور آپﷺ کو یاد کرتا ہوں تو مجھ سے صبر نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپﷺ کی زیارت نہ کر لوں۔جب میں اپنی موت اور آپ ﷺ کی رحلت طیبہ کو یاد کرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ جب آپﷺ جنت میں ہونگے تو انبیاء کرام علیھم السلام کیساتھ بلند مقام (مقام محمود) پر فائز کر دیے جائینگے اور مجھے ڈر ہے کہ میں آپﷺ کا دیدار نہ کر سکوں گا۔

آپﷺ نے اسکی بات کا کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ جبریل امین علیہ السلام سورۂ نسآء کی یہ آیت مبارکہ لیکر حاضر ہوئے۔ ترجمہ! اور جو کوئی اللہ  ( تعالی )اور اسکے رسول(مکرمﷺ) کی اطاعت کرے تو وہ ایسے لوگوں کیساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام کیا(یعنی ایسے لوگ) انبیآء کرام (علیھم السلام ) صدیقین،شہیدوں اور صالح لوگوں ( کیساتھ ہوں گے)۔اللہ تعالی نے آپﷺ کی اطاعت واتباع کا بار بار حکم دیا ہے اور رسالتمآبﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔چنانچہ سورۂ احزاب میں ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ! جس نے رسول اللہ(ﷺ)کی اطاعت کی تو یقیناً اُس نے اللہ(جل شانہُ) کی اطاعت کی۔۔۔۔حدیث مبارکہ میں ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی تو یقیناً اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالی کی نافرمانی کی۔) (بخاری شریف 7137)

 اطاعت واتباع رسول ﷺ کے فوائد و ثمرات۔۔۔۔!!!!

آپﷺ کی غیر مشروط اطاعت واتباع کرنے والا جہاں محبت رسولﷺ کے اس تقاضے کو پورا کرتا ہے،وہاں اسے درج ذیل فوائد و ثمرات بھی حاصل ہوتے ہیں۔اُسے اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی اور مغفرت حاصل ہو جاتی ہے۔ فرمان باری تعالی ہے کہ ترجمہ! (اے پیغمبر ﷺ) آپ فرما دیجیئے !اگر تم اللہ (تعالی)سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو ،اللہ(تعالی) تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخشش دے گا اور اللہ (تعالی) بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔(سورۂ آل عمران آیت نمبر 31)

2- وہ رحمتِ الٰہی کا مستحق بن جاتا ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے کہ ترجمہ! اور رسول (مکرم ﷺ)کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔( سورۂ نور آیت نمبر 56)

3-وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے،فرمانِ باری تعالٰی ہے۔ ترجمہ! اور تم اس رسول(مکرم ﷺ)کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔(سورۂ نور آیت نمبر 54) اور اسی طرح سورۂ اعراف کی آیت نمبر 158 میں فرمایا ترجمہ! اور تم اُس رسول(مکرمﷺ)کی اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

4- وہ سب سے بڑی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے ترجمہ! اور جو اللہ ( تعالی) اور اُس کے رسول( مکرم ﷺ)کی اطاعت کرتا ہے تو یقیناً اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی۔(سورۂ احزاب آیت نمبر 71)

5-وہ جنت کا حق دار بن جاتا ہے۔چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔میری پوری امت جنت میں داخل ہو گی،سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین نے عرض کیا کون انکار کرے گا۔۔؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی تو تحقیق اس نے ( جنت میں جانے سے) انکار کیا۔( بخاری شریف 7280)

؀کتاب وسنت پہ چلا چل اے سالک بے دھڑک

کہ جنت الفردوس کو جاتی ہے سیدھی یہ سڑک

6- وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو جاتا ہے۔ فرمانِ باری تعالی ہے۔ ترجمہ! پس آپ(ﷺ)اس چیز کو مضبوطی سے تھام لیں جو آپ(ﷺ)کی طرف وحی کی گئ ہے۔ یقیناً آپ(ﷺ)سیدھے راستے پر ہیں۔(سورۂ زخرف آیت نمبر 43)

سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ آپﷺ نےہمارےلیےایک سیدھی لکیرکھینچی،پھر فرمایا۔یہ اللہ(تعالی)کا راستہ ہے۔پھر آپ ﷺ نے اس کے دائیں اور بائیں چند لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں،ان میں سے ہر ایک راستے پر ایک شیطان ہے تو اس راستے کی طرف بلاتا ہے پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ترجمہ!اور یقیناً یہ میرا سیدھا راستہ ہے،لہذا تم اسی کی پیروی کرو اور تم دوسرے راستوں کی پیروی مت کرو اور وہ تمہیں اس(اللہ تعالی ) کے راستے سے الگ کر دیں گے۔(سورۂ انعام 154) ۔(مسند احمد 435) 

7- وہ حق کو اختیار کر لیتا ہے۔فرمان ِ باری تعالی ہے۔ترجمہ!اور جو لوگ ایمان لائےاورانہوں نےاچھےاعمال کیےاوروہ اس پربھی ایمان لائےجو(حضرت ) محمد(ﷺ)پر نازل کیا گیا، اور وہ اُن کے رب کی طرف سے حق ہے۔ اس (اللہ) نے ان سے ان کی برائیاں دور کر دیں اور ان کے حال کی اصلاح کر دی۔ (سورۂ محمد آیت نمبر 2)

8- وہ فرقۂ ناجیہ(نجات پانے والا فرقہ) میں شامل ہو جاتا ہے۔چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا بلاشبہ بنی اسرائیل 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔سب کے سب جھنم میں ہوں گے سوائے ایک گروہ کے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یارسول اللہﷺ! وہ کون سا گروہ ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔(رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین)۔( ترمذی شریف 2641)

9- وہ دنیا وآخرت میں اللہ تعالی کے غضب اور عذاب سے نجات پا جاتا ہے۔ چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا!بلاشبہ میری مثال اور جو دے کر اللہ تعالی نے مجھے بھیجا ہے،اس کی مثال ایک شخص کی طرح ہے جو کسی قوم کے پاس آئے اور کہے اے میری قوم! بلاشبہ میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہےاورمیں تمہیں کھلم کھلاڈرانےوالاہوں،چنانچہ بچاؤ کی فکر کرو۔ تواس قوم کےایک گروہ نےاسکی بات مان لی اور وہ رات کے آغاز ہی میں نکل بھاگے اور اپنی حفاظت کی جگہ چلے گئے۔لہٰذا نجات پا گئےاور ان میں سےایک گروہ نےجھٹلایااوراپنی جگہ پرہی رہے،چنانچہ صبح سویرے ہی لشکر نے انہیں آ لیا اور ان کو ہلاک اور تباہ و برباد کر دیا۔پس یہ مثال ہے اسکی جس نے میری اطاعت کی اور جو چیز (کتاب وسُنّہ)میں لیکر آیا ہوں،اسکی پیروی کی اور اسکی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لیکر آیا ہوں،اُسے جھٹلایا۔ (بخاری شریف 7283)

قارئین کرام!اگر کوئی شخص محبت رسول ﷺکا دعوی تو کرتا ہے لیکن اسکا دامن اطاعت واتباع رسول(مکرم ﷺ) سے خالی ہےاور وہ سنت کی مخالفت کرتا ہے اور رسومات و بدعات پر عمل پیرا ہے تو اسکا یہ کھوکھلا دعوی محبت اسے کچھ فائدہ نہ دے گا۔آپﷺ سے سب سے زیادہ محبت وعقیدت ہادی ومہدی اور مفلحون و فائزون کا خدائی تمغہ پانے والے،رشد و ہدایت کےمینارے حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو تھی لیکن انکی محبت کا معیار سنتوں کی مخالفت کرنا اور بدعات و رسومات پر عمل پیرا ہونا نہ تھا بلکہ وہ آپ ﷺکی مکمل اور غیر مشروط اطاعت و اتباع کیا کرتے تھے اور اس معاملے میں کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ انہوں نے اطاعت اتباعِ رسول (مکرمﷺ) کے ایسے نمونے چھوڑے ہیں جن کی مثال پیش کرنے سے دنیا قاصر و عاجز ہے۔ اسی لئے اللہ تعالی نے ان کے ایمان اور اطاعت واتباع کو پوری انسانیت کیلئے نمونہ بنایا ہے اور ارشادِ ربانی ہوتا ہے کہ۔ ترجمہ !اگر وہ ایسا ایمان لائیں جیسا ایمان تم (صحابہ کرام رضی اللہ عنھم) لائے لو تو یقیناً وہ ہدایت پا گئے۔ (سورۂ بقرہ آیت نمبر 137)

رسالتمآبﷺکی مخالفت و نافرمانی کا انجام۔۔۔۔!!!!

1-رسالتمآبﷺ کی مخالفت و نافرمانی کرنا اور بدعات و رسومات پر عمل پیرا ہونا ضلالت و گمراہی ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ !اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد اور نہ کسی مومن عورت کو یہ حق ہیکہ جب اللہ (تعالی)اور اسکے رسول(ﷺ)کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو انکے لیے اپنے معاملے میں ان کا کوئی اختیار(باقی) رہے اور اللہ(تعالی) اور اسکے رسول(مکرمﷺ)کی نافرمانی کرے تو وہ یقیناً کھلی گمراہی میں جا پڑا۔(سورۂ احزاب آیت نمبر 36)

2- آپﷺ کی مخالفت ایمان کے منافی ہے،ارشاد باری تعالی ہے کہ۔ ترجمہ! پس(اے نبی ﷺ) آپ کے رب کی قسم!وہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں آپﷺ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں۔پھر آپﷺ کے کیے ہوئے فیصلے پر ان کے دلوں میں کوئی تنگی نہ آنے پائے اور اس(فیصلے) کو دل و جان سے مان لیں۔ (سورۂ نسآء آیت نمبر 65)

3-آپﷺ کی مخالفت و نافرمانی کرنے والا دنیا وآخرت میں غضب الہی کا نشانہ بنتااوررحمتِ الٰہی سےمحروم ہو جاتاہے،نیز دنیا میں طرح طرح کی مصیبتوں اور فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے اور آخرت میں بھی دردناک عذاب کا شکار ہو گا۔چنانچہ ارشاد باری تعالی ہیکہ ترجمہ! پس چاہیے کہ جو لوگ اس(رسول مکرمﷺ ) کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں اس(بات) سے ڈریں کہ انہیں کوئی آزمائش آ پڑے یا انہیں دردناک عذاب آ لے۔(سورۂ نور آیت نمبر 63)

4-وہ روزِقیامت حسرت و افسوس اور ندامت وشرمندگی کا اظہار کرےگاجیساکہ اللہ تعالی کافرمان ہےکہ ترجمہ!جس دن اُن کےچہرے آگ میں اُلٹ پُلٹ کیے جائیں گے تو وہ کہیں گے۔اے کاش!ہم نے اللہ(تعالی) کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول(مکرمﷺ)کی اطاعت کی ہوتی۔(سورۂ احزاب آیت نمبر 66)

5۔روزقیامت اپنےہاتھوں کو دانتوں سےنوچ نوچ کرکھائےگااوراپنےآپ کوملامت اورسرزنش کرےگا،اس کانقشہ اللہ تعالی نےاس طرح کھینچا ہےکہ ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ ترجمہ! اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹ کھائےگا(اور)کہےگااے کاش!میں رسول(مکرمﷺ)کا راستہ اختیار کرتا۔ہائے میری کم بختی!کاش!میں فلاں(شخص)کودوست نہ بناتا۔بلاشبہ اس نےمیرے پاس ذکر(قرآن)آ جانےکےبعدمجھے(اس سے)بہکا دیا اورشیطان انسان کو( مصیبت میں)بےیارومددگارچھوڑدینےوالاہے۔(سورۂ فرقان آیت نمبر 27,28,29)

6-وہ روزقیامت یہ آرزو کرے گاکہ اے کاش!اسےزمین کیساتھ برابرکردیاجاتا،چنانچہ ارشادِ ربانی ہوتاہےکہ ترجمہ!اس دن وہ لوگ جنہوں نےکفر کیااوررسول (مکرمﷺ) کی نافرمانی کی،خواہش کریں گے کہ اے کاش! انہیں زمین کیساتھ برابر کر دیا جاتا۔(سورۂ نسآء آیت نمبر 42)

7-مخالفت رسول(مکرمﷺ) کی وجہ سے انسان کے سارے عمل تباہ و برباد ہو جاتے ہیں،خواہ اس نے ان میں کتنی ہی محنت و مشقت کی ہو،چنانچہ اللہ تعالی فرمان ہوتا ہےکہ ترجمہ! اے ایمان والو!تم اللہ تعالی کی اطاعت کرو اوررسول اللہ(ﷺ) کی اطاعت کرواور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو۔(سورۂ محمد آیت نمبر 33)

8- جو عمل خلاف سنت ہو وہ بارگاہ الہی میں مقبول نہیں ہوتا، چنانچہ آپﷺ کا فرمان مبارکہ ہے کہ ترجمہ!جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ (عمل) مردود ہے۔(مسلم شریف1718)

9-سنت کی مخالفت کرنے والا دنیا وآخرت میں ذلیل و رسوا ہوتا ہے،چنانچہ آپﷺ کا فرمان ترجمہ!ذلت ورسوائی اس انسان کے مقدر کر دی گئی ہے جس نے میرے حکم کی مخالفت کی۔(مسند احمد 50)

سنت سے اعراض اور بے رغبتی کرنے والے سے آپﷺ نے لاتعلقی اور بیزاری کا اعلان فرمایا ہے،چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان عالیشان ہےکہ ترجمہ !جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی،وہ مجھ سے نہیں ہے(یعنی میری اُمت خارج ہے) ۔ ( بخاری شریف 5063) 

مذکورہ آیات مبارکہ اور احادیث مطہرہ سے معلوم ہوا کہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر آپ ﷺ کی مخالفت و نافرمانی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اطاعت واتباع والی پاکیزہ مسنون زندگی گزارنی چاہیے۔کوئی عمل خواہ وہ کتنا ہی اچھا لگے،اگر سنت کے خلاف ہو تو اسے ترک (چھوڑ) کر دینا چاہیے،اور دارین کی کامیابی وکامرانی اور فوزوفلاح کے حصول کیلئے مسنون اعمال کو ہی اپنانا چاہیئے۔۔۔

بارگاہِ خداوندی میں دعا ہے کہ اللہ کریم پوری مسلم اُمّہ کو رسول اکرمﷺ،حضور خاتم النبیینﷺ کی محبت وعقیدت،ادب واحترام کے ساتھ اطاعت و اتباع والی پاکیزہ مسنونہ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین یا رب العالمین۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -