حکومت اور کالعدم تنظیم  کے درمیان مذاکرات ،  12 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی 

حکومت اور کالعدم تنظیم  کے درمیان مذاکرات ،  12 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی 
حکومت اور کالعدم تنظیم  کے درمیان مذاکرات ،  12 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی صاحبزادہ ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ حکومت اور کالعدم تنظیم  کی قیادت کے درمیان مذاکرات کے لیے 12 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے علمائے کرام اور مذہبی سکالرز کے وفد کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا کہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا اور یقین ہے کہ  مذاکرات کے ذریعے صورتحال بہتر ہو جائے گی،علمائے کرام اور مذہبی سکالرز نے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور معاملے کو پرامن طریقے سے  حل ہونے کے عزم کا اظہار کیا ہے،حکومت خون خرابہ نہیں چاہتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نےاجلاس کےشرکاء کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے ہمیشہ بامقصداورسنجیدہ اقدامات کاخیرمقدم کیا ہے ،علماء کی ایسی رائے جس سے ملک کو خونریزی سے بچایا جا سکے،حکومت اس رائے کا مکمل احترام کرے گی ۔

اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کے صدر صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دلایا ہے کہ حکومت کسی قسم کی خونریزی نہیں چاہتی تاہم قومی سلامتی اور حکومتی رٹ پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ سنی اتحاد کونسل کے صدر نے کہا کہ ہم مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں کیونکہ مذاکرات جاری ہیں اور حکومت نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ تشدد نہیں ہوگا ،ہمیں تھوڑا انتظار کرنا ہو گا ،مجھے یقین ہے کہ مثبت رپورٹس آئیں گی۔

مزید :

قومی -