زرداری سے غداری؟ توبہ توبہ... درمیانی راستہ نہ ملا، راجہ نے ” راہ“ پکڑ لی، عدالت بھگتنے کیلئے تیار

زرداری سے غداری؟ توبہ توبہ... درمیانی راستہ نہ ملا، راجہ نے ” راہ“ پکڑ لی، ...
زرداری سے غداری؟ توبہ توبہ... درمیانی راستہ نہ ملا، راجہ نے ” راہ“ پکڑ لی، عدالت بھگتنے کیلئے تیار

  

لاہور (سعید چودھری سے) وفاقی حکومت نے ” درمیانی راستہ“ کے بغیر سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کیس دوبارہ 18 ستمبر سے پہلے کی پوزیشن پر چلے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ 26 ستمبر اور اس کے بعد وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور وسیم سجاد نے ایک سے زیادہ مرتبہ وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں سوئس حکام کو خط لکھنے کے حوالے سے عدلیہ کی منشاءسے آگاہ کیا جس کے بعد وزیراعظم نے انہیں دوٹوک ہدایت جاری کر دی ہیں کہ سوئس حکام کو کوئی ایسا خط نہیں لکھا جائے گا جس سے صدر آصف علی زرداری کے خلاف ” منی لانڈرنگ کیس“ ری اوپن ہونے کا ایک فیصد بھی امکان ہو۔ وزیراعظم نے اپنے وزیرقانون پر واضح کر دیا ہے کہ عدالت اگر درمیانی راستہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے تو وہ توہین عدالت کیس کا سامنا کریں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور وسیم سجاد نے وزیراعظم کو سپریم کورٹ کے بند کمرے میں ہونے والی کارروائی کے بارے میں بتایا کہ پانچ رکنی لارجر بینچ کے ارکان کی اکثریت کسی بھی قسم کا درمیانی راستہ اختیار کرنے کیلئے تیار نہیںہیں بلکہ وہ این آر او کیس میں عدالت عظمی کے فل کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد چاہتے ہیں اور اس فیصلے کی منشاءہے کہ سوئس کورٹ میں منی لانڈرنگ کیس اسی مرحلہ سے دوبارہ کھولا جائے جہاں وہ سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے خط لکھنے سے پہلے تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیر قانون نے خط لکھنے کے حوالے سے ایسے اختیارات قبول کرنے سے بھی معذوری کا اظہار کیا جن سے عدالتی حکم پر عملدرآمد کی تمام تر ذمہ داری ان کے کندھوں پر آ جائے اور انہیں توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ وزیر قانون اور سینئر وکیل وسیم سجاد نے وزیراعظم کو بتایا کہ عدالتی منشاءکے مطابق خط کا مسودہ تیار نہ کیا گیا تو یہ بات بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ پانچ اکتوبر کو معاملہ پھر 18 ستمبر سے پہلے کے مرحلے پر واپس چلا جائے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لارجر بینچ کو اس کے سربراہ کے ان ریمارکس میں الجھانے کی کوشش کی جائے جن میں انہوں نے آصف علی زرداری کو اپنا بھی صدر قرار دیتے ہوئے درمیانی راہ نکالنے کا عندیہ دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وزیر قانون انہی خطوط پر کیس کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اور ان کی کوشش ہو گی کہ عدالت سے زیادہ سے زیادہ مہلت حاصل کی جائے۔ 18 ستمبر کو وزیراعظم نے عدالت عظمیٰ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کا خط واپس لینے کیلئے سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے تیار ہے تاہم 25 اور 26 ستمبر کو عدالت عظمیٰ میں جو مجوزہ مسودے پیش کئے گئے انہیں فاضل بینچ نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کیس کی مزید سماعت کیلئے پانچ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے اور اس بابت حکومت نے مذکورہ لائحہ عمل تیار کر کے انہی خطوط پر مقدمہ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

لاہور -