بھارتی فوج کی قابلِ نفرت حرکات

بھارتی فوج کی قابلِ نفرت حرکات
بھارتی فوج کی قابلِ نفرت حرکات

  

پاک فوج کے سربراہ نے مبینہ طور پر این ایل سی سکینڈل میں ملوث کئی اعلیٰ افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،جسے غیر جانبدار حلقو ں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ اِس ضمن میں روایتی ناقدین کی بھی کمی نہیں۔اِس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مبصرین نے کہا ہے کہ12 اگست 1978ءکو حکومت پاکستان کے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر 120-19-78-MIN کے تحت یہ ادارہ قائم ہوا تھا ،جس کا سربراہ”پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ“ کا وفاقی وزیر، جبکہ اِس کے ممبران میں خزانہ کے سیکرٹری ،ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اور این ایل سی کا انچارج افسر شامل ہیں جو جی ایچ کیو کا مقرر کردہ حاضر سروس میجر جنرل رینک کا افسر ہوتا ہے۔

فروری2009ءمیں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے اِس ادارے میں مبینہ بے قاعدگیوں کا ذکر کیا تو آرمی چیف نے نومبر2010ءمیں اِس معاملے کی ابتدائی چھان بین کے لئے لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔اگلے مرحلے میں ستمبر2011ءمیں سمری آف ایویڈنس کا حکم دیا گیا۔اِن فوجی افسران کا پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت ٹرائل کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے گئے اور آرمی کی قیادت نے واضح کیا کہ مذکورہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔واضح رہے کہ ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، جب انتہائی سینئر فوجی افسران کو مقدمے کا سامنے کرنے کے لئے مطلوبہ عملی اقدامات کئے گئے ہیں۔

یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ آرمی ایکٹ پاک فوج کا کوئی محکمانہ ضابطہ نہیں، بلکہ منتخب جمہوری اداروں نے اِسے ایکٹ آف پارلیمنٹ کے طو رپر منظور کیا ہوا ہے۔یوں دراصل یہ منتخب اور مسلمہ جمہوری روایتوں اور ضابطوں کے عین مطابق ہے۔ بدقسمتی سے ملک کے بعض حلقے اِس معاملے کو پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کرنے کی دیرینہ روش پر گامزن ہیں، کیونکہ اِس کھلے راز سے ہر ذی شعور کو آگاہی ہے کہ وطن عزیز کے اندرونی اور بیرونی مخالفین کی نظروں اور دلوں میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف خاص قسم کا کینہ اور بغض ہمیشہ سے موجود رہا ہے ،اور یہ حلقے ہرطریقے سے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں، حالانکہ عوام الناس بخوبی جانتے ہیں کہ ملک وقوم کے مفادات کے ضمن میں کون کتنا مخلص ہے؟ اِسی پس منظر میں اعتدال پسند اور انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ انڈین آرمی نے1962ءمیں چین کے ہاتھوں جو ذلت آمیز شکست کھائی تھی ،اِس بارے میں بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کول نے اپنی تصنیف ”اَن کہی کہانی“ میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے ۔ سری لنکا میں آپریشن”پون“ کے دوران پیشہ ورانہ نااہلی کے حوالے سے بھی کئی انکشات سامنے آچکے ہیں۔

1965ءکی پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے ہر محاذاور ہر سطح پر جس طرح انڈین حملہ آور فوج کو اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کیا، وہ بھی اب تاریخ کا حصہ ہے، مگر بھارتی سیاسی اور فوجی قیادت خصوصاً ہندوستان کے حکمران طبقات کا المیہ یہ ہے کہ وہ قول وفعل کے بدترین تضادات کا شکار ہیں، اِسی وجہ سے آئے روز بھارتی بالا دست حلقو ں کی جگ ہنسائی ہوتی رہتی ہے۔یہ ایک الگ موضوع ہے کہ عالمی رائے عامہ کی اکثریت یہ سب کچھ بخوبی جانتے ہوئے بھی اپنی وقتی مصلحتوں کی بناءپر تضادات پر مبنی بھارتی روش سے چشم پوشی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ 14اپریل2009ءکو پاکستانی انگریزی روزنامے”دی نیوز“میں بھارتی فوج کے کسی ریٹائرڈ کرنل ہریش پوری کی تحریر بعنوان.... ”جنرل اشفاق پرویز کیانی کے نام کھلا خط“.... شائع ہوئی تھی۔اِس میں کرنل (ر) ہریش پوری نے دل کھول کر افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انڈین آرمی کے افسر پاک فوج کی نسبت کہیں زیادہ انسان دوست اور اخلاقی اقدار کا دھیان رکھنے والے ہیں۔

کرنل (ر) ہریش پوری نے اپنی اِس تحریر کی بنیاد دو نکات کو بنایا ہے۔پہلی یہ کہ 16دسمبر 1971ءکو بھارت کے مقابلے میں پاک افواج کو عسکری محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی تحریر کی دوسری وجہ”سوات“کے حوالے سے ایک ویڈیو فلم بیان کی ہے، یعنی جانبدار تجزیہ نگاروں نے اِس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے متفقہ رائے ظاہر کی ہے کہ1971 ءمیں پاکستان کو دو لخت کرنے کی بھارتی سازش بلاشبہ ایک تاریخی واقعہ ہے، مگر اِس بابت ذرہ سا بھی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو محض فوجی شکست قرار دینا کسی بھی طور پر قرین انصاف نہیں۔یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ بہت سے عوامل کا مجموعہ تھا اور اِس بابت حتمی فیصلہ ابھی وقت اور آنے والے مورخ کو کرنا ہے کہ اِس المیے کے لئے کون کون سی بیرونی اور اندرونی قوتیں ذمہ دار تھیں اور موثر بین الاقوامی حلقوں نے اِس مکروہ کھیل میں کیا کردار اد ا کیا تھا اور خود وطنِ عزیز کے کچھ سیاسی رہنما دانستہ یا نادانستہ طور پر کس حد تک دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہوئے؟ بہرکیف انڈین آرمی کے کرنل (ر) ہریش پوری نے بھارتی فوج کی اخلاقی قدروں کے جس طرح گن گائے اور ہندوستانی آرمی کوقوانین اور اخلاقی اقدار کے احترام کا چیمپئن قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے، اُسے کوئی بھی باشعور اور انسان دوست حلقہ قطعاً تسلیم نہیں کرسکتا۔خود بھارت کے ہی چند اعتدال پسند دانشوروں نے رائے ظاہر کی ہے کہ انڈین آرمی کے افسر خواتین کے احترام میں کتنے مخلص ہیں، اِس کا اندازہ تو درج ذیل دو واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔

شمال مغربی بھارت کے صوبے منی پور میں جولائی2004ءکے دوران جو کچھ ہوا،اُس سے انڈین آرمی کے افسران کے حسن کردار کو بخوبی جانچا جاسکتا ہے۔11جولائی2004ءکو علی الصبح منی پور کے قصبے بامون لیکھائی سے32سالہ خاتون منورماکو انڈین آرمی کے ایک درجن سے زائد افسران نے گرفتار کیا اور اُس کے آٹھ گھنٹوں کے بعد منورما کی لاش اُس کی رہائش گاہ سے چار کلو میٹر دُور اِس حالت میں پائی گئی کہ کئی گھنٹوں تک اِس بے کس خاتون کی اجتماعی آبرو ریزی کی گئی تھی اور اِس گھناﺅنے عمل کے دوران اِس بے چاری کی موت واقع ہوجانے کے بعد اُس کی لاش کو گولیوں سے چھلنی کردیاگےا۔ پوسٹ مارٹم کے دوران اُس کے مردہ جسم سے16گولیاں نکالی گئیں۔ اِس وحشیانہ حرکت کے نتیجے میں منی پور کے طول وعرض میں ایک آگ سی بھڑک اُٹھی اور 15جولائی کو منی پور کے دارالحکومت امپھال میں واقع آسام رائفلز کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے منی پور سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین نے بطور احتجاج بالکل برہنہ ہوکر جلوس نکالا۔ اُنہوں نے اپنے ہاتھوں میں جو پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے، اُن پر تحریر تھا کہ ” بھارتی فوج کے درندہ صفت افسرو! اگر تمہیں انسانیت کا ذرا سا بھی لحاظ نہیں تو آﺅ اور مظلوم منورما کی مانند ہمارے برہنہ جسموں سے بھی اپنی حیوانیت کی پیاس بجھاﺅ“ ....سینکڑوں بے کس برہنہ خواتین زور زور سے .... Indian Army Officers Rape us,Indian Officers take FLESH .... کے نعرے لگاتے ہوئے آہ زاری کررہی تھیں اور بھارتی فوج کے ظلم کے خلاف دیوانہ وار چلا رہی تھیں۔

 بھارت کے صف اول کے صحافیوں، بشمول پرفل بدوائی، کلدیپ نیئر اور وجے گوئل نے اِس مظاہرے کو بھارت کی تاریخ میں ہی نہیں، دُنیا بھر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد المیہ قرار دیا تھا۔ جب انڈین آرمی کے ننگے جرائم کے خلاف مظلوم خواتین مکمل برہنہ حالت میں بے کسی اور مظلومیت کی عجیب سی تصویر بنی آہ زاری کررہی تھیں۔ اِس سانحہ کی سنگینی کا یہ عالم تھا کہ بھارتی فوج کی ایسٹرن کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل جے آر مکرجی نے نہ صرف عوام سے معافی مانگی، بلکہ تسلیم کیا کہ گزشتہ چار برسوں میں ہندوستانی فوج کے 66افسر اور جوان صرف منی پور سے ایسے گھناﺅنے جرائم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔

عورتوں کی بے حرمتی کے معاملے میں انڈین آرمی کے افسروں کے اعلیٰ کردار کا اندازہ اِس امر سے بھی ہوتا ہے کہ16جون 2006ءکو اودھ پورجموں کشمیر(مقبوضہ) میں تعینات انڈین آرمی کیASC 5071 بٹالین کی نوجوان خاتون آفیسر لیفٹیننٹ سشمیتا چکر ورتی نے اپنی آبرو ریزی کے بعد خودکشی کرلی اوراُس کا جسمانی استحصال اُس کے سینئر آرمی آفیسرز نے ہی کیا ،اور حد تو یہ ہے کہ اس گھناﺅنے جرم کا مرتکب ہونے کے بعد بجائے شرمندگی محسوس کرنے کے ہندوستانی افواج کے نائب سربراہ وائس چیف آف انڈین آرمی لیفٹیننٹ جنرل ایس پیتھمبرہن نے اعلانیہ کہا کہ بھارتی خواتین کو اگر اپنی عزت اتنی ہی عزیز ہے تو اُنہیں انڈین آرمی میں شمولیت سے گریز کرنا چاہیے۔

انڈین آرمی کے وائس چیف کے اِس مکروہ بیان کو خود بھارت کے انسان دوست حلقوں نے بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل کمیشن فار ویمن کی چیئرپرسن گرجھا ویاس اور بی جے پی کی رہنما سشما سوراج سمیت اکثر حلقوں کی طرف سے تنقید کے بعد جنرل نے اپنے بیان پر معافی مانگی۔ ایسے میں کرنل (ر) ہریش پوری جیسی شخصیات کو اور اُن کے بعض پاکستانی ہم نواﺅں کو پاک فوج پر کیچڑ اُچھالنے سے پہلے اپنے گربیان میں جھانک لینا چاہیے اور عالمی رائے عامہ کو بھی بھارتی بالا دست طبقات کو پیغام دینا چاہیے کہ اپنی پاک دامنی کی حکایت بیان کرتے ہوئے اپنے دامن پر موجود مکروہ دھبوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ امید کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز کے کچھ حلقے بھی بھارتی اعتدال پسندی کے گُن گانے سے پہلے اِن تلخ زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں گے۔     ٭

مزید :

کالم -