ڈاکٹروں کی اقسام!

ڈاکٹروں کی اقسام!
ڈاکٹروں کی اقسام!

  

ہر چیز کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں، مثلاً اعلیٰ قسم، اچھی قسم۔ اسی طرح ڈاکٹروں کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ڈاکٹروں کی پہلی قسم وہ ہے جو مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایم بی بی ایس ضرور ہوتے ہیں، لیکن بعض اور بھی بہت کچھ ہوتے ہیں۔ یہ بہت کچھ وہ سائن بورڈ پر لکھ کر اپنے مطب پر آویزاں کر دیتے ہیں تاکہ سند رہے اور بعض اپنے لیٹر پیڈ پر بھی چھاپ دیتے ہیں تاکہ مزید سند رہے۔

ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ایم بی بی ایس کرنا پڑتا ہے۔ ایم بی بی ایس کرنے کے لئے پہلے تو صرف ایف ایس سی کرنا پڑتی تھی ۔ اب صرف ایف ایس سی سے کام نہیں چلتا، اس کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ محنت کرنے کے بعد ایک ٹیسٹ پاس کرنا پڑتا ہے۔ اس کو انٹری ٹیسٹ کہتے ہیں۔ انٹری ٹیسٹ پاس کرنے سے پہلے انٹری فیس بھی دینا پڑتی ہے اور اس کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے، لیکن یہ محنت امیدوار کو نہیں، بلکہ اس کے والدین کو کرنا پڑتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس کے والدین کو نہیں صرف والد کو ہی کرنا پڑتی ہے۔ اس پڑتا ہے، پڑتی ہے، میں کئی سال لگ جاتے ہیں، لیکن آدمی ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی یہ قسم عموماً ہسپتالوں میں پائی جاتی ہے، البتہ بعض ڈاکٹر اپنا ہسپتال بھی کھول لیتے ہیں۔ اپنے ہسپتال کو کلینک کہا جاتا ہے، عموماً ڈاکٹر لوگ ہسپتال میں فیس بھی نہیں لیتے۔ صرف اپنے کلینک پر آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ مشورہ بھی مفت ہوتا ہے، جس کی وہ کوئی فیس نہیں لیتے، جو مریض کلینک پر آئے اس سے بہت اخلاق سے ملتے ہیں، اس کو تسلی دیتے ہیں: ”آپ ٹھیک ہو جائیں گے، تندرست ہو جائیں گے“۔ صحت بڑی نعمت ہے، آپ پیسوں کی پروا نہ کریں“: جیسے جملے کہتے ہیں۔ سب کے لئے یہ مشورہ مفت ہوتا ہے۔

ایم بی بی ایس ڈاکٹر، جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہسپتالوں میں ہوتے ہیں، لیکن عموماً وہاں موجود نہیں ہوتے۔ کوئی پوچھ لے تو راو¿نڈ پر ہوتے ہیں یا ان کا آپریشن ڈے ہوتا ہے، اس طرح یہ ڈاکٹر حضرات ہسپتال نہ ہوتے ہوئے بھی ہوتے ہیں، کیونکہ یہ ڈے نہیں بلکہ مڈوے ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر بس ڈاکٹر ہی ہوتے ہیں اور کچھ نہیں ہوتے۔ مریضوں کا علاج کرتے ہیں، ان کی دعائیں لیتے ہیں، اس کے علاوہ وہ کچھ نہیں کرتے۔ ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ ڈاکٹروں کے اندر ڈاکٹروں کی مزید اقسام ہیں، مثلاً ادیب ڈاکٹر، شاعر ڈاکٹر وغیرہ۔ ہم سوچ میں پڑے رہے کہ بھلا ڈاکٹر اور ادب کا باہم کیا تعلق؟.... ڈاکٹر ، ڈاکٹر ہوتا ہے اور ادب، ادب ہوتا ہے اور شاعری، شاعری ہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کی ان قسموں کا پتہ اس وقت چلا جب ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی ایک ادبی تنظیم نے ہمیں اپنی تقریب میں بطور مہمان خصوصی دعوت دی۔

ہم نے اپنی یہ اُلجھن ان کے سامنے رکھی تو انہوں نے بتایا کہ بہت سے ڈاکٹر اوپر سے ڈاکٹر ہوتے ہیں، لیکن اندر سے ادیب اور شاعر ہوتے ہیں۔ ایسے ہی ایک ڈاکٹر نے کتاب لکھی ہے۔ آپ نے اس تقریب میں تشریف لانا ہے۔ کتاب کا نام ”کشتِ ویراں“ ہے۔ ہم بڑے خوش ہوئے۔ شاداں و فرحاں اس تقریب میں چلے آئے۔ اس تقریب میں انہوں نے بہت ہی محدود بندوں، بندوں کو نہیں، بلکہ ڈاکٹروں کو بلایا۔ تقریب بھی گمنام سی جگہ پر تھی۔ ہم نے کہا: ”ادیب اور شاعر ہونا تو بڑے اعزاز کی بات ہے۔ آپ اپنے اس اعزاز کا تذکرہ کھل کر کیوں نہیں کرتے“؟.... وہ بولے:” ہماری روٹی کا سوال ہے۔ اگر ہم نے اپنی ادب نوازی کا اعلان کیا تو ہمیں لوگ اصل ڈاکٹر نہیں مانیں گے، بلکہ شاعر اور ادیب ہی سمجھ بیٹھیں گے، حالانکہ ہم اصلی ڈاکٹر ہیں“۔ ہم نے کہا: ” ادیب اور شاعر ہونا بھی تو بڑے اعزاز کی بات ہے“۔ بولے: ” ہوگا، لیکن اس اعزاز سے پریکٹس نہیں چلتی“۔

ڈاکٹروں کی ایک قسم اور بھی ہے۔ وہ خود کو پی ایچ ڈی ڈاکٹر کہتے ہیں، لیکن لوگ ان کو ڈاکٹر نہیں مانتے۔ پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ان کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ صرف تحقیق کرنا پڑتی ہے۔ البتہ اس تحقیق کے لئے خوشامد کرنا پڑتی ہے اور اگر پی ایچ ڈی کی ڈگری خیبر پختونخوا کی کسی یونیورسٹی سے لینی ہو تو وہاں خوشامد نہیں کرنا پڑتی، بلکہ خوشامد کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہاں مذکر و مو¿نث کے پیمانے مختلف ہیں۔ ہمارے ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر دوست بھی پشاوری ہیں۔ وہ تقریر کرتے ہوئے فرمانے لگے: ” ہمارا قوم، ہمارا قوم“۔ ہم نے ان سے کہا: ”بھائی صحیح بول ، ہماری قوم کہو“۔ انہوں نے جواب دیا: ”تمہاری قوم مو¿نث ہے، ہمارا قوم مذکر ہے“۔ ہمارے ایک دوست ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کو ڈاکٹر نہیں مانتے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے پاس صرف ایم بی بی ایس کی ڈگری ہوتی ہے۔ ان کی ڈگری میں کہیں ڈاکٹر کا لفظ لکھا نہیں ہوتا، لہٰذا جب ڈگری پر لفظ ڈاکٹر نہیں ہوتا تو یہ ڈاکٹر کیسے ہوئے؟ اصل ڈاکٹر وہ ہوتے ہیں جو پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں۔ ان کی ڈگری پر باقاعدہ ڈاکٹریت کا لفظ لکھا ہوتا ہے۔

اس بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ڈاکٹروں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ڈاکٹر وہ جو ڈاکٹر نہیں ہوتے، لیکن ڈاکٹر کہلاتے ہیں۔ دوسرے ڈاکٹر وہ جو ڈاکٹر ہوتے ہیں، ان کو لوگ ڈاکٹر نہیں کہتے، نہ ہی ڈاکٹر سمجھتے ہیں ، مثلاً ڈاکٹر علامہ اقبال، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر عبدالقدیر خاں وغیرہ۔ ان کے ڈاکٹر نہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ پی ایچ ڈی ڈاکٹروں کا کوئی کلینک نہیں ہوتا، نہ ہی یہ ہسپتال میں پائے جاتے ہیں، بلکہ یہ کالجوں میں کم اور یونیورسٹیوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ کسی سے ملتے نہیں۔ عموماً لائبریوں میں گھسے رہتے ہیں۔ ان سے کوئی نہیں ملتا۔ اگر کوئی ان سے ملنے جائے تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ کسی بھی سوال کا جواب بہت طویل دیتے ہیں۔ اتنا طویل کہ سوال کرنے والا آنکھ بچا کر کھسک جاتا ہے، یہ پھر بھی بولتے رہتے ہیں۔ سنا ہے کہ ان کی اپنی بیویوں سے نہیں بنتی، بلکہ بیویاں ان کو بناتی رہتی ہیں۔ ایک بار ایسے ہی ایک ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے پوچھا: ”پی ایچ ڈی کن الفاظ کا مخفف ہے“؟ بولے: ” یہ علمی سوال ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو کے لئے لمبا وقت درکار ہے ۔ مَیں اس وقت اپنی اہلیہ کے حکم پر سبزی لینے جا رہا ہوں۔ اس موضوع پر پھر گفتگو ہوگی“۔

ڈاکٹروں کی ایک قسم اور بھی ہے۔ یہ ڈاکٹروں کی درمیانی قسم ہے۔ ان کے پاس نہ تو ایم بی بی ایس کی ڈگری ہوتی ہے، نہ ہی پی ایچ ڈی کی ڈگری، لیکن یہ بڑے کامیاب ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ یہ عموماً حکومت کی صفوں میں پائے جاتے ہیں، مثلاً ڈاکٹر بابر اعوان، ڈاکٹر رحمان ملک، ان کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ عدلیہ کی ان سے نہیں بنتی۔ ڈاکٹروں کی ایک قسم عطائی ہوتی ہے۔ ان کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ان کو ڈاکٹر نہیں مانتے، بلکہ ان کے دشمن ہوتے ہیں۔ حکومت بھی ان کو ڈاکٹر نہیں مانتی۔ یہ جہاں پائے جائیں ان کو پکڑ لیتی ہے اور جج حضرات ان کو جیل بھیج دیتے ہیں، لیکن کسی کے کسی کو ڈاکٹر ماننے یا نہ ماننے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ان کی پریکٹس تو خوب چلتی ہے۔ ان کے پاس بہت مریض آتے ہیں اور چلتے بنتے ہیں۔

ایک قسم ڈاکٹروں کی اور بھی ہے۔ اس قسم کا پتہ حال ہی میں چلا ہے۔ ان کا نام ہڑتالی ڈاکٹر ہے۔ یہ ڈاکٹر کچھ بھی نہیں کرتے، بس ہڑتال کرتے ہیں، کیونکہ ہڑتال میں کچھ نہیں کرنا پڑتا، بس ہڑتال ہی کرنا پڑتی ہے۔ ان ڈاکٹروں کو معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ یہی ان کا پیشہ ہے۔ عام لوگ ان کو بُرا سمجھتے ہیں اور حکومت بھی ان کو اچھا نہیں سمجھتی۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ ڈاکٹر کچھ نہیں کرتے، حالانکہ وہ ہڑتال کرتے ہیں۔ ہڑتال کرنا بذات خود ایک بہت بڑا کام ہے۔ اس کے لئے گلے میں ہار پہننے پڑتے ہیں۔ فٹ پاتھ پر کیمپ لگانا پڑتا ہے۔ وہاں باقاعدہ بیٹھنا پڑتا ہے اور اگر حکام کو غصہ آجائے تو پولیس کے ڈنڈے بھی کھانا پڑتے ہیں پھر بھی لوگ کہتے ہیں ہڑتالی ڈاکٹر کچھ نہیں کرتے، بس وہ صرف ہسپتالوں میں کام نہیں کرتے اور اکثر و بیشتر سڑکوں پر ٹریفک بند کر دیتے ہیں، نہ مریضوں کو دیکھتے ہیں، کیونکہ ایک وقت میں ایک ہی کام کیا جاسکتا ہے۔ دو کام کریں تو دونوں کام ادھورے رہتے ہیں۔ ویسے اہل خرد کا کہنا ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹروں کو صرف ہڑتال کرنا ہی آتی ہے۔ وہ اسی میں ماہر ہوتے ہیں، لہٰذا بہتر ہے کہ وہ وہی کام کریں، جس کے وہ ماہر ہیں۔ اگر وہ اپنا اصل کام چھوڑ کر مریضوں کودیکھنا شروع کر دیں تو ان کا اصل کام متاثر ہوتا ہے اور مریضوں کا بھی بھلا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹروں کی اور بھی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً ڈنگر ڈاکٹر، ٹیڈی ڈاکٹر، چنگا ڈاکٹر، بوٹا ڈاکٹر، بڑا ڈاکٹر، چھوٹا ڈاکٹر، مہنگا ڈاکٹر، دل کا ڈاکٹر، گردے کا ڈاکٹر، ہڈی ڈاکٹر، دماغی ڈاکٹر وغیرہ۔ اسی طرح بعض ڈاکٹر اپنے نام کے ساتھ ماہر امراض مخصوصہ بھی لکھتے ہیں۔ اگر مزید تحقیق کی جائے تو ڈاکٹروں کی اور بھی بہت سی قسمیں معلوم کی جاسکتی ہیں۔   ٭

مزید :

کالم -