چلتے پھرتے بم

چلتے پھرتے بم

  

ہمارے نمائندہ کی سروے رپورٹ کے مطابق لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں غیر معیاری سی این جی سلنڈروں کی وجہ سے حادثات کا خطرہ ہے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ سلنڈر ٹائم بم ثابت ہو سکتے ہیں، جن کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہوں گی........ یہ بات سو فی صد درست ہے اور ایسے حادثات ہو بھی چکے ہیں۔ اس کے باوجود غیر معیاری گیس سلنڈر نہ تو تبدیل کئے گئے اور نہ ہی کسی متعلقہ محکمے نے ان کے خلاف کوئی کارروائی کی ۔

جہاں تک سی این جی گیس سلنڈروں کا تعلق ہے ان کے بارے میں ہر سی این جی سٹیشن پر تفصیلی ہدایات درج ہیں، ان کے مطابق سلنڈر معیاری رجسٹرڈ کمپنی کا ہونا چاہئے اور پھر مقررہ مدت کے بعد ان کی جانچ بھی ضروری ہے۔ تفصیلی ہدایات کے باوجود ویگنوں، بسوں اور ٹرکوں تک نے ڈیزل انجن گیس پر منتقل کئے اور ایک ایک ویگن بس یا ٹرک نے چار سے آٹھ تک بڑے سلنڈر لگا رکھے ہیں، جو نہ صرف نشستوں کے نیچے، بلکہ چھتوں پر بھی نصب ہیں۔ یہ سلنڈر غیر معیاری ہیں، جو کسی بھی وقت نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ گیس سٹیشنوں پر لکھی ہدایات کو نہ صرف ٹرانسپورٹر بلکہ خود گیس سٹیشن والے بھی نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ ہر گاہک کو بلا امتیاز گیس دے دیتے ہیں۔ ہدایات کے حوالے سے انہوں نے بھی کبھی غور نہیں کیا۔ اس کے علاوہ متعلقہ محکمے نے تو کبھی جانچ نہیں کی اور یہ پبلک ٹرانسپورٹ چلتے پھرتے بم لئے پھر رہی ہے۔ خدانخواستہ کبھی کوئی جان لیوا حادثہ پیش آگیا تو پھر دوچار دن ہلہ گلہ اور دو چار بیانات کے بعد معاملہ ٹھپ ہو جائے گا۔ اول تو ویگنوں ، بسوں اور ٹرکوں کو گیس پر منتقل کرنا ہی بے قاعدگی ہے، اس پرمستزادیہ کہ سلنڈر غیر معیاری ہوں اور پھر پڑتال بھی نہ ہو۔ پیشتر اس کے کہ کوئی حادثہ ہو، متعلقہ حکام اور حکومت کو فوری کارروائی اور غیر قانونی سی این جی کے استعمال کو روکنا اور گیس سلنڈروں کی تفصیلی جانچ پڑتال کرنا چاہئے۔        ٭

مزید :

اداریہ -