اینٹی کرپشن اداروں کی کارکردگی بہتر کی جائے

اینٹی کرپشن اداروں کی کارکردگی بہتر کی جائے

  

                                                                    پاکستان کے طول و عرض میں واقع بیشتر شہروں کے سرکاری دفاتر میں کرپشن یا بدعنوانیوں کا سلسلہ کبھی رُکنے، تھمنے یا کم ہونے کی اطلاعات، پڑھنے یا سُننے کو آنکھیں اور کان ہر وقت منتظر ہی رہتے ہیں، لیکن ایسے مثبت لمحات و اوقات وقوع پذیر ہونے کی نوبت ہی نہیں آتی، بلکہ اخباری اطلاعات اور ٹی وی چینلوں پر نظر رکھنے سے آئے دن بدقسمتی سے کرپشن کے نئے نئے واقعات کے رونما ہونے کی پریشان کن اور اذیت ناک تازہ خبروں کے ارتکاب کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ اہلِ فکر و نظر اس منفی روش اور معاشرتی تنزل سے اکثر اوقات مایوس اور فکر مند ہو کر قومی وسائل کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے امکانات کی تعبیر و تکمیل کو ناممکن قرار دینے لگے ہیں۔ اُن کا بڑا استدلال یہ ہے کہ قومی وسائل کی لُوٹ کھسوٹ اور خورد بُرد تو شب و روز، اور ملک گیر سطح پر، کھلے عام ہوتی رہتی ہے، لیکن ان غیر قانونی کارروائیوں، سرگرمیوں اور غلط کاریوں کے سدباب اور سرکوبی کے لئے متعلقہ ادارے، افسران اور گواہان، بدقسمتی سے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں، بَروقت، ہوش مندی، محنت و لگن اور دیانتداری سے سر انجام دینے سے گریزاں ہی رہتے ہیں؟

یہ امر اپنی جگہ درست اور صحیح سہی کہ بدعنوان عناصر کو غنڈہ گرد افراد کی حمایت اور معاونت حاصل ہوتی ہے، لیکن دراصل وہ قانونی طور پر، کمزور موقف اور پوزیشن کے حامل ہوتے ہیں، اس لئے اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے متعلقہ اداروں اور افسران کو جرا¿ت و ہمت کا مظاہرہ کرنے میں، کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کو حائل نہیں ہونے دینا چاہئے، کیونکہ قانون شکنی کے مرتکب ملازمین اور ان کے ہمراہی افراد کو قانون کے مطابق زیر تفتیش لانا اور قصور وار افراد کو متعلقہ عدالتوں کے حوالے کرنا، اُن کی اہم ذمہ داری ہے تاکہ وہاں اُن پر مقدمات چلا کر، بددیانتی سے لُوٹی ہوئی قومی دولت یا دیگر وسائل، واپس لینے کے ساتھ، اُن کو متعلقہ جرائم کے ثابت ہونے پر سزائیں بھی دلائی جائیں، لیکن ٹھوس ثبوت پیش کئے بغیر ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں نہیں مل سکتیں۔

چیئرمین نیب کا تقرر اب جلد کر دیا جائے۔ سیاسی مفاہمت، قومی مفاد کے حصول کے لئے ایک مثبت پیش رفت ضرور خیال کی جاتی ہے، لیکن اس کارروائی کا ہرگز یہ مقصد اور مدعا نہیں کہ اس مفاہمت کو اس قدر ترجیح اور فوقیت دی جائے کہ اینٹی کرپشن اداروں کی اصل کارکردگی کو نظر انداز اور فراموش کرنے کی پالیسی اختیار کر لی جائے۔ یہ اندازِ فکر و عمل، کسی طور، مثبت اور تعمیری وقعت و اہمیت کا حامل نہیں، کیونکہ اس طرح تو قومی مفاد کو پسِ پشت ڈالنے، ملک و قوم کے قیمتی وسائل کروڑوں اور اربوں روپے کے نقصانات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ سرکاری محکموں میں شاید ہی کوئی محکمہ ایسا ہو، جو ہر سال اربوں روپے کی کرپشن کے نقصانات سے وطن عزیز کو محروم نہ کر رہا ہو۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے محکمے الگ الگ ہیں۔ اُن میں زیادہ تر دفاتر کے ملازمین اور بنکوں کے اہلکار، اپنے اپنے اداروں کے وسائل کی خورد برد، مختلف ذرائع اور اوقات میں کرتے رہتے ہیں۔ یوں وطن عزیز، معاشی طور پر، تعمیر و ترقی میں پس ماندہ رہ کر، خود کفالت اور خود انحصاری کی قابلِ قدر، حالت کے حصول کے خواب کی تعبیر، تاحال پانے میں ناکام رہا ہے۔ نیب اور دیگر وفاقی اور صوبائی تفتیشی اداروں کو، اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر بنانے پر خلوص نیت سے بھرپور توجہ دینی چاہئے تاکہ کرپشن کے رواں حالات اور واقعات کی تفتیش غیر جانبداری سے کی جائے اور ملزمان سے قومی دولت واپس لی جائے۔  ٭

مزید :

کالم -