”ایسا کرے گا تو مرے گا“

”ایسا کرے گا تو مرے گا“

  

                                                            ”خدائے بزرگ و برتر نے تمام کرہ ارض کو نوع انسانی کے لئے تخلیق کیا ہے اور خدا کی تخلیق کی ہوئی ہر شے لا جواب اور کامیاب ہے۔ کامیابی ہمیشہ اللہ کی رضا میں ہے، انسان اس دُنیا میں کامیاب رہتے ہوئے خدائے بزرگ و برتر کی رضا کے بغیر کامیاب ہو جائے ایسا ممکن نہیں ہے، اسی لئے تو زمین و آسمان اور اس کے درمیان میں بسنے والی تمام مخلوقات اللہ کی بڑائی بیان کرتی رہتی ہیں۔ مخلوق وہ ہے، جسے اللہ رب العزت نے تخلیق کیا ہو اور ہم سب کا یہ کامل ایمان ہے کہ یہ تمام جہان خدا ہی نے پیدا کئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کوئی بھی تخلیق کار اپنے بنائے ہوئے شاہکار کو بیکار نہیں ہونے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج روئے زمین پر ہونے والی تمام تر خرابیاں اِسی انسان کی پیدا کردہ ہیں، جس نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر فطری نظام میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

بے شک انسان خدا کی افضل ترین مخلوق ہیں، لیکن انسانوں کو ہمیشہ انسانیت کے دائرے میں رہ کر اپنے اپنے اختیارات کا استعمال عمل میں لانا چاہئے۔ کوئی بھی شخص جب اس کو دیئے ہوئے اختیارات میں تجاویز کرتا ہے، تو گویا وہ قدرت میں خلل ڈالنے کی سعی کرتا ہے ،یہ بالکل صحیح عمل نہیں ہے۔ آج ہماری دُنیا میں ہونے والی قتل و غارت گری اور بے راہ روی نے ہر طرف بے چینی اور لاچاری پیدا کر دی ہے، انسان نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر معاشروں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، امیری اور غریبی، طاقت اور کمزوری کی اصلاح کی طاقت کو یکسر ختم کر دیا ہے، ہر کوئی طاقت یا پھر کمزوری کے نشے میں اندھے مُنہ گرا پڑا ہے، کہیں گھمنڈ ہے، تو کہیں دُنیا کو فتح کرنے کی لاحاصل جستجو نے انسان کو بیوقوف سا بنا دیا ہے، سچ تو یہ ہے کہ بیوقوف ہمیشہ اپنی حرکات و سکنات کی بنا پر ہی نظروں سے گرتا ہے۔

 سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ آج ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات انسان کو انسان سے ِ خوف زدہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کبھی برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہے، تو کبھی مصر اور شام میں بھائی کو بھائی ذبح کرتا دکھائی دیتا ہے، کبھی کینیا میں عام شہریوں کو یرغمال بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے، تو کہیں پشاور میں عیسائی بھائیوں کو عبادت کے دوران لاشیں بنا دیا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انسانوں نے آج خدا کی تخلیق کی ہوئی اس دنیا پر اپنی چھوٹی اجارہ داری قائم کرنے کے لئے اسے لہولہان کر دیا ہے۔ آج انسان اس قدر خوف کے عالم میں مدہوش ہے کہ اسے اپنا اشرف المخلوقات ہونا بھی یاد نہیں ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ وہ درندہ بن کر پانچ سالہ کلیوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔

قصہ مختصر ہر طرف ظلم و ستم اور جبر کی ارزانیوں نے انسانوں کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسان کم اور بے حس حیوان زیادہ لگتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب بے حسی کی انتہا ہوتی ہے، تو انسانوں پر خدا کا قہر نازل ہوتا ہے، تو یہی وجہ بنتی ہے، قدرتی آفات کی، جو آفات انسانی ہوس کے لئے اموات ثابت ہوتی ہیں، پھر آسمان برستے ہیں، سمندروںمیں بھونچال آتے ہیں اور زمین لرزنے لگتی ہے۔ شہر کے شہر تباہ ہو جاتے ہیں، انسان خوف زدہ ہونے لگتے ہیں، لیکن ڈرتے نہیں ہیں، کہتے ہیں کہ جو خدا سے ڈرتا ہے وہ کسی غریبی، بھوک، لاچاری یا پھر بیماری سے نہیں ڈرتا، لہٰذا ہمیں اس دُنیا میں رہتے ہوئے غلط اور صحیح کی یقینا تمیز کرنی ہو گی تاکہ ہم خدا کی تخلیق کردہ اس زمین کو دوزخ کی بجائے جنت بنا سکیں، جو تب ہی ممکن ہو گا، جب ہم صحیح انسان بنیں گے اور کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ صحیح کو غلط کرنے کی لاحاصل سعی کرے، کیونکہ جو ایسا کرے گا وہ مرے گا۔   ٭

مزید :

کالم -