ملکی ترقی.... محض ایک خواب ؟

ملکی ترقی.... محض ایک خواب ؟

  

                                                                                                جناب ِ من! مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے 5جون 2013ءکو ملک خدادا د پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 19اگست کو ٹیلی ویژن پر قوم سے پہلا خطاب کیا۔ اس میں ایک تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی آج کے دور کا ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کے خاتمے تک ملک کو حقیقی ترقی کی منزل کی جانب لے جانے کا سفر شروع نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ چین کے ساتھ انہوں نے جو معاہدے کئے ہیں، ان کے نتیجے میں یہاں معاشی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، تاہم موجودہ صورت حال کے تناظر میں اگر طائرانہ نظر سے دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے، پٹرول ، گیس او ربجلی کو مہنگا کرنے کے نتیجے میں مہنگائی ہر طرف اپنے پنجے گاڑ چکی ہے، پاکستانی روپیہ شرمندگی سے اپنا سر جھکاتا چلا جا رہا ہے،جبکہ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر روپے کا مُنہ چڑا رہا ہے، یعنی اب ڈالر ایک سو سات (107) روپے کا ہو چکا ہے اور یہ معاشی انحطاط کی انتہا ہے۔ تمام اہل دانش کا اس بات پر اجماع ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینا گویا اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے، مگر آئی ایم ایف (IMF)کی جانب ہمارے حکمران کا سہ¿ سر ہاتھ میں لے کر گدائی کے لئے تیار اور اس کی شرائط کو بسر و چشم ماننے پر راضی ہیں، اس سلسلے میں پہلی قسط باقاعدہ وصول بھی کر چکے ہیں، بقول شاعر:

کوچہ ¿ قاتل تلک اے دل رسائی کیجئے

کاسہ ¿ سر ہاتھ میں لے کر گدائی کیجئے

جناب ِ من !ہماری سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ ہمارے حکمران ترقی کے نام پر ملکی آمدنی سے زیادہ اخراجات کے مرتکب ہوتے ہیںاور جس گھر میں آمدنی سے زیادہ خرچہ ہو، وہ لازمی طور پر قرض کی جکڑ بندی کا شکار ہو جاتا ہے، یہی حال اس وقت پاکستان کا ہو چکا ہے۔ پوری پاکستانی قوم سر سے پاﺅں تک اندرونی اور بیرونی قرضوں کی دلدل میں دھنس چکی ہے۔ یہ قرض اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ملکی بجٹ کا 60فیصد ان قرضوں کے سود کی ادائیگی کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہماری حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خود وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ انتہائی دردناک انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کا 60فیصد حصہ غربت کی لکیر کے نیچے کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ گویا یہ متذکرہ لوگ ایسے ہیں کہ قوت لایموت تک کا حصول ان کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ دوسری طرف حال یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ (Elite Class) جو ملکی وسائل کے 80فیصد پر قابض ہے، لوٹ کھسوٹ ، بدعنوانی اور بے ایمانی کی تمام حدوں کو پھلانگ چکی ہے اور سب سے بڑے ٹیکس چور بھی اسی طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں.... تو کیا ان حالات میںملکی ترقی کا خواب ” ایں خیال است و محال است و جنوں“کے مصداق محض خیالی پلاﺅ پکانے کے مترادف نہیں ہو گا؟ کیا ہماری اشرافیہ پاکستان کو بچانے کے لئے اتنی سی قربانی بھی دینے سے قاصر ہے کہ یہ لوگ ،جو ملکی وسائل کے 80فیصد پر قابض ہیں اور جن کی تقریباً 70 فیصد سے زائد دولت بیرون ملک بینکوں میں پڑی گل سڑ رہی ہے، وہ یہ دولت اپنے ملک میںہی واپس لے آئیں؟ خدا کے لئے وزیراعظم صاحب اس جانب اپنی توجہ مبذول فرمائیں کہ اب قربانی دینے کا وقت سرمایہ دار اور جاگیر دار طبقے کا ہے!

جنابِ من! ایک بہت بڑی رکاوٹ ہماری ملکی ترقی کے راستے میں توانائی کی قلت بھی ہے، جو اس وقت ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کی وجہ سے صنعت کا پہیہ رُک چکا ہے اور صنعتوں کے مالک اپنا کاروبار اونے پونے بیچ کر بیرون ملک بگ ٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں، باقی ماندہ افراد کسی معجزے کے انتظار میںنفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں تھر کول پراجیکٹ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان نزاع کی وجہ سے کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔ اب اس معاملے پر حکومت کی خاموشی سے بہت سارے خدشات اور وسوسے جنم لے رہے ہیں، جن کا ازالہ ضروری ہے۔ تھرکول کی کانیں تقریباً85 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہیں اور تقریباً2بلین ٹن کوئلے کے ذخائر اس میں موجود ہیں، جن سے 20ہزار میگاواٹ بجلی انتہائی سستے داموں پیدا کی جا سکتی ہے، مگر اس معاملے میں تغافل شعاری اہل دانش کی سمجھ سے بالا تر ہے۔ پھر دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا معاملہ بھی کا معلق ہو چکا ہے۔ اسی طرح مزید (آبی ذخیروں پر) چھوٹے ڈیموں کی تعمیر بھی گویا ایک چیستاں کی صورت اختیار کر چکی ہے، جن کی تعمیر اس وقت ملکی ترقی کے لئے ایک شہتیر کی حیثیت رکھتی ہے۔

جناب ِ من! موجودہ حالات کے تناظر میں تان آ کر اہم حکومتی اداروں، جن میں پی آئی اے ، پاکستان ریلوے اورسٹیل ملز وغیرہ شامل ہیں، کی جزوی یا کلی نجکاری کے عمل پر آ کر ٹوٹے گی، پھر بھانت بھانت کی بولیاں ہوں گی، اور من پسند لوگوں کو نوازنے کی کوششیں ہوں گی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد میڈیا اور عدلیہ کی موجودگی میںیہ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا، اس لئے خود انحصاری کی پالیسی کو اپنائے بغیر اوراشرافیہ کی قربانی کے بغیر ملکی ترقی ناممکن ہے اور ” ڈنگ ٹپا ﺅ “ پالیسی اور عارضی لیپا پوتی سے کچھ بھی ”خاص “ حاصل ہونے کی امید خیال خام کے سوا کچھ بھی نہیں ۔      ٭

مزید :

کالم -