ساٹھ سالہ پرانے مسئلے کی بحث

ساٹھ سالہ پرانے مسئلے کی بحث
 ساٹھ سالہ پرانے مسئلے کی بحث

  

                                                                     تحریک ختم ِ نبوت 1953ءکی بابت کچھ اعتراضات تو جسٹس منیر انکوائری کمیشن نے اٹھائے تھے، جن کا جواب مختلف جماعتوں نے دے دیا تھا اور اس سے متعلق چند کتب بھی شائع ہو چکی ہیں، اعتراضات کا ہدف مجلس تحفظ ختم نبوت بھی تھی، جو اس تحریک کی بانی جماعت ہے، اس کی طرف سے کئی مطبوعہ کتابیں تو دوبارہ شائع کی گئی ہیں، جن کی ضرورت ثانوی تھی، لیکن اس تحریک کی بابت اٹھائے گئے اعتراضات کا مسکت جواب نہ دیا جا سکا۔1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت کی بابت سب سے زیادہ اعتراض امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ نے یہ کہہ کر اُٹھایا تھا کہ ”یہ تحریک دراصل ”دستور اسلامی“ کا نفاذ روکنے کے لئے ایک سازش تھی“، چنانچہ اس تحریک سے وہ خود بھی الگ رہے اور اپنی جماعت کو بھی اس سے علیحدہ رہنے کی ہدایت کی تھی، جماعت اسلامی کے صرف دو ارکان نے اس میں حصہ لیا تھا، جنہیں اسی وقت جماعت سے خارج کر دیا گیا تھا“ (تصدیق کے لئے ملاحظہ فرمایئے: مولانا مودودی ؒ کی کتاب ”قادیانی مسئلہ“ صفحہ 165ایڈیشن نمبر4)

ممکن ہے قارئین کرام کے ذہنوں میں یہ سوال اُٹھے کہ آج اِس پرانے موضوع کو زیر بحث لانے کی کیا ضرورت تھی؟ جواباً عرض ہے کہ ملک کے ایک نئے روزنامہ ”دنیا“ فیصل آباد میں 26اگست 2013ءکو ”بھکر کا سانحہ“ کے زیر عنوان خورشید ندیم نے علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کا رُخ کردار زیر بحث لاتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہمارے جید علمائ، جنہوں نے مدرسے اور مسلک کی فضا سے باہر رہ کر سوچا اُن کا نتیجہ ¿ فکر بھی کم و بیش یہی ہے، جب پاکستان میں پہلی بار قادیانی مسئلہ اُٹھا، تو مولانا مودودی ؒ اس کے حق میں نہیں تھے کہ اسے کسی مذہبی تحریک کا عنوان بنایا جائے۔ وہ خود اس سے الگ رہے اور جماعت کو بھی اس سے الگ رکھا، انہیں حکومت نے زبردستی اس میں گھسیٹا۔ مولانا مودودی ؒ نے اس موقع پر جو عدالتی بیان دیا وہ اُن کے وقف کا صحیح ترجمان ہے، ان کا خیال تھا کہ جماعت اسلامی، اسلامی دستور کا جو مطالبہ کر رہی ہے، وہ دراصل ایسے مسائل کا حل ہے اسے گلی بازار میں نہیں گھسیٹا جا سکتا۔ گویا جب دستور اسلامی ہو گا، تو یہ سب مسائل ریاست کے نظم میں حل ہوں گے۔ سچ یہ ہے کہ علماءنے جب ان معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیا، تو اس کے بعد مذہب سماجی امن کے لئے ایک مسئلہ بن گیا، (روزنامہ ”دُنیا“ فیصل آباد 26اگست2013ئ)

خورشید ندیم حلقہ ¿ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں چاہئے تھا کہ وہ بھکر کے سانحے کا تذکرہ الگ کرتے اور1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت میں مولانا مودودی ؒ کے رُخ کردار کو الگ موضوع سخن بناتے، یہ تو ”بے وقت کی راگنی ہے“، جو انہوں نے نصف صدی کے بعد چھیڑی ہے، جبکہ امت مسلمہ کو جو مسائل آج درپیش ہیں، ان میں 1953ءکی تحریک شامل نہیں، سیاسی اور مذہبی انتہا پسندی کے دور میں ایک نیا شوشہ چھوڑ کر ”دُنیا“ کے کالم نگار نے لوگوں میں ایک خلفشار پیدا کرنے کی راہ ہموار کی ہے اور ایک جذبات انگیز نازک مسئلے کی بابت لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ بقول خورشید ندیم اگر مولانا مودودی ؒ اس تحریک ختم ِ نبوت کو مذہبی تحریک کا عنوان دینے کے خلاف تھے، تو ان کے ہاں مذہبی عنوان کے اس مسئلے کی بابت اور کون سا متبادل طریق کار تھا، جسے اختیار کیا جاتا؟ بھکر کے سانحے کے زیر عنوان، جن باتوں کا مضمون کے شروع میں تذکرہ کیا گیا اور مسلکی اختلاف کا جو تجزیہ ہے، وہی مناسب تھا۔

انہوں نے تکفیر کے اختیارات کی بابت بھی صحیح نشاندہی کی ہے کہ اس کا حق کس کو ہے؟ علماءکو ہے یا ریاست کو؟ نیز انہوں نے ٹھیک لکھا ہے کہ ہمارے سماجی امن کو کم و بیش30سال سے فرقہ واریت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس کا کوئی حل تلاش نہیں کیا گیا۔ (کیا اس سلسلے میں ٹی وی چینلوں پر مذاکرہ ممکن ہے؟)

ہمیں چاہئے کہ مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ کشمکش کو زبر بحث لا کر اس کا کوئی قابل عمل حل پیش کریں، محض نشاندہی کر کے اسے ترک کر کے نیا مسئلہ چھیڑنا چنداں دانشمندی نہیں، باقی رہا 1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت میں مولانا مودودی ؒ کے موقف اور اس تحریک سے علیحدہ رہنے اور دو جماعتی کارکنوں کو اپنی پارٹی سے الگ کر دینے کا مسئلہ، تو یہ حقیقت کے سرا سر خلاف ہے۔

صورت ِ حال کی حقیقت واضح کرنے سے پہلے یہ بات قابل ِ ذکر ہے کہ راقم الحروف (مجاہد الحسینی) اس تحریک کا بانی سیکرٹری نشرو اشاعت اور1951ءسے 1953ءتک تحریک ختم ِ نبوت کے ترجمان روزنامہ ”آزاد“ لاہور کا ایڈیٹر تھا۔ اس تحریک کے آغاز سے لے کر1953ءتک کے تمام اجلاسوں میں شرکت اور اہم فیصلوں کے مسودات کی تدوین و اشاعت کا اعزاز بھی اللہ کے فضل وکرم سے مجھے حاصل رہا ہے اور تحریک کے بانی حضرات (امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری خطیب مسجد وزیر خاں لاہور، مولانا عبدالحامد بدایونی بانی جمعیت علمائے پاکستان، ماسٹر تاج الدین انصاری صدر مجلس احرار اسلام پاکستان، شیخ حسام الدین سیکرٹری جنرل مجلس احرار اسلام پاکستان صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ سجادہ نشین آلو مہار شریف، مولانا محمد علی جالندھری ناظم اعلیٰ مجلس ختم نبوت پاکستان، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری سیکرٹری جنرل تنظیم اہل سنت والجماعت پاکستان، سید مظفر علی شمسی سیکرٹری جنرل تحفظ حقوق شیعہ اور دیگر اہم شخصیات کی رفاقت میں لاہور سنٹرل جیل میں ایک سال قید رہا ہوں اور اللہ کے فضل وکرم سے اس وقت میری معلومات کے مطابق اس وقت1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت کا کوئی بھی عینی شاہد موجود نہیں ہے۔ ختم نبوت کے مقدس نام سے اس وقت جتنی بھی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں اُن کے رہنماﺅں یا کارکنوں میں سے کسی نے بھی قیام پاکستان کے قبل سے لے کر حضرت امیر شریعت کی وفات (21اگست1961ءتک) 1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت کی ہمہ گیر تاریخی تحریک میں حصہ لے کر حضرت امیر شریعت اور دیگر مرکزی رہنماﺅں کے ساتھ نہ تو جیل کاٹی اور نہ ہی اس دور کے مرکزی اجلاسوں کے فیصلوں کی بابت انہیں معلومات حاصل ہوں گی۔

ان حقائق کی روشنی میں حضرت مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ اور جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کے بارے میں، جو معلومات فراہم کرنے کی کوشش ہے، وہ ”شنیدہ“ نہیں، بلکہ ”دیدہ“ ہیں، جہاں تک مولانا مودودی ؒ کی ذات گرامی کا تعلق ہے، ان کی علمی اور ملی عظمت مسلمہ ہے۔ وہ ایک بین الاقوامی شہرت کی مالک ممتاز شخصیت تھے،ان سے پہلی ملاقات اور زیارت 1940-41ءمیں اس وقت ہوئی تھی، جب وہ میرے سکونتی شہر سلطان پور لودھی میں خطاب کے لئے تشریف لائے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد1951ءمیں میری ان سے خط و کتاب ہوئی تھی کہ جماعت اسلامی اور مجلس احرار اسلام دونوں موثر دینی جماعتیں ہیں۔ یہ اگر متحدہ محاذ کی صورت میں سرگرم عمل ہوں گی، تو اس نئی مملکت میں اسلامی نظام کا نفاذ ممکن ہو سکے گا۔ مولانا مودودی ؒ نے میری یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ ”مَیں مجلس احرار کی پالیسی اور طریق کار سے نہ پہلے مطمئن تھا نہ اب ہوں، اگر مطمئن ہوتا تو ان کے ساتھ شامل کیوں نہ ہو جاتا یا کم از کم ان سے تعاون ہی کرتا، رہے عدم اطمینان کے وجوہ تو آخر بلا ضرورت ان پر کیوں بحث کی جائے.... (خاکسار ابو الاعلیٰ)“۔

 یہ خط مولانا مودودی ؒ کے اپنے قلم سے ہے، اس سے بآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مولانا فکری و نظری اعتبار سے مجلس احرار کے ساتھ کسی طرح بھی تعاون کے لئے آمادہ نہیں تھے، تو اسی مجلس احرار کے رہنماﺅں اور دیگر تمام مکاتب فکر کے علماءو مشائخ کے 1953ءکو قائم کردہ آل مسلم پارٹیز کنونشن برائے تحفظ ختم نبوت کے فیصلوں سے نہ تو وہ مطمئن ہو سکتے تھے اور نہ ہی تعاون پرآمادگی ممکن تھی، یہی وجہ ہے کہ تحریک کے آغاز میں تو جماعت اسلامی کے دیگر رہنما تحریک کے اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے، لیکن اس کے مرکزی اجلاس جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے ممتاز علماءو مشائخ نے شرکت کر کے دستور اسلامی کے 32نکات مرتب کئے اور اجتماعی صورت میں تحریک ختم ِ نبوت کا فیصلہ کیا تھا، اس میں مولانا مودودی ؒ نے بذات خود شرکت کی تھی، ان کی نشست حضرت امیر شریعت کے ساتھ تھی۔ مَیں نے سب کے دستخط لئے تھے، جو میرے پاس موجود ہیں، حتیٰ کہ تحریک کے آخری اجلاس میں بھی شیخ سلطان احمد امیر جماعت اسلامی کراچی ڈویژن نے شرکت کر کے فیصلے کی تائید مَیں دستخط کئے تھے، جس کی بابت مولانا نے لکھا ہے کہ جماعت کو تحریک ختم ِ نبوت سے علیحدہ رہنے کی جو ہدایات دی گئی تھیں، وہ شیخ سلطان احمد کو چونکہ دیر سے ملی تھیں، اس لئے وہ الگ نہیں ہو سکے تھے۔

سوال تحریک ختم ِ نبوت کے ٹیکنیکل فیصلوں کا نہیں ہے، کہ اسے مذہبی تحریکوں کا عنوان بنایا جائے یا نہ۔ اصل مسئلہ مولانا مودودی ؒ کی گو مگو پالیسی کا ہے۔ انہوں نے تحریک قیام پاکستان کے مرحلے میں ”سیاسی کشمکش“ نامی کتاب لکھ کر تحریک اور اس کے بانی قائداعظم ؒ کے خلاف زبردست تنقید کی تھی، جب پاکستان قائم ہو گیا تو جماعت کی پالیسی بدل گئی، پھر خوب پروپیگنڈا کیا گیا کہ مولانا مودودی ؒ واحد شخصیت تھے، جنہوں نے دو قومی نظریے کی زبردست تائید کر کے قیام پاکستان کے لئے راہ ہموار کی تھی، اسی طرح1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت میں سب حضرات شریک رہے، لیکن خود مولانا مودودی ؒ نے گورنر پنجاب اسماعیل ابراہیم چندریگر سے ملاقات کر کے انہیں یقین دہانی کرائی ہو گی کہ ہم اس تحریک کے ساتھ نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ خواجہ ناظم الدین وزیراعظم پاکستان نے مورخہ19مارچ1953ءکو پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران انکشاف کیا تھا کہ ملک کے ممتاز علماءاگرچہ نظریاتی طور پر قادیانیوں کے خلاف ہیں، لیکن وہ اس تحریک کے ساتھ نہیں ہیں۔

خواجہ صاحب سے اخبار نویسوں نے ان کے نام دریافت کئے، تو انہوں نے دیگر چند حضرات کے ناموں کے ساتھ مولانا مودودی ؒ کا بھی نام لیا تھا، جس کا تذکرہ خود جماعت اسلامی کے لٹریچر میں موجود ہے، جس میں مفصل تذکرہ ہے کہ جماعت اسلامی اور اس کے امیر مولانا سید مودودی ؒ جب اس تحریک میں شامل ہی نہیں تھے ، تو مولانا مودودی ؒ کو پھانسی کی سزا کیوں سنائی گئی؟ جبکہ وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے اعتراف کیا ہے کہ مولانا مودودی ؒ اس تحریک ختم ِ نبوت میں شامل نہیں تھے۔ بہرنوع مولانا مودودی ؒ کی سزا اِسی بنیاد پر تبدیل کر کے چند سال کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں مولانا مودودی ؒ ایک روز لاہور سنٹرل جیل میں واقع اپنے وارڈ سے امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری سے ملاقات کرنے ہمارے وارڈ دیوانی احاطے میں آئے تھے، اس ملاقات میں صدر مجلس عمل ابو الحسنات مولانا محمد احمد قادری، مولانا عبدالحامد مد بدایونی، ماسٹر تاج الدین انصاری، شیخ حسام الدین، مولانا محمد علی جالندھری، صاحبزادہ سید فیض الحسن اور سید مظفر علی شمسی موجود تھے۔ اس وقت مولانا نے قطعاً یہ تاثر نہیں دیا تھا کہ مجھے خواہ مخواہ اس تحریک میں گھسیٹا گیا ہے، مَیں تو خود بھی الگ تھا اور جماعت کے جن دو کارکنوں نے حصہ لیا تھا ، انہیں فوراً جماعت اسلامی سے خارج کر دیا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ِ ذکر ہے کہ جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت بھی ہمارے ساتھ جیل خانے کے بم کیس وارڈ میں قید تھی، جن میں مولانا امین احسن اصلاحی، نعیم صدیقی، ملک غلام علی، فقیر حسین، عبدالوحید خان، چراغ الدین، کوثر نیازی اور دیگر حضرات شامل تھے، ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا تھا کہ ہمیں تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں نہیں، بلکہ کسی دوسرے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، اس وقت حکومت کی پوری مشینری تحریک ختم ِ نبوت کو ناکام بنانے اور فتنہ قادیانیہ کو تحفظ دینے پر کمر بستہ تھی، چنانچہ اس سلسلے میں کوئی حربہ بھی استعمال سے نہیں رہ گیا تھا (یہاں بہت سے امور قابل ذکر ہیں) جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ جب مولانا مودودی ؒ دستور اسلامی کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے اور ان کا موقف یہ تھا کہ دستور اسلامی کے نفاذ سے یہ مسئلہ ختم ِ نبوت خودبخود حل ہو جائے گا، تو ختم ِ نبوت کے نام پرالگ تحریک چلانے اور گلی کوچوں میں اسے گھسیٹنے کی کیا ضرورت تھی؟

کیا کوئی بھی شخص یا جماعت اسلامی کا کوئی بھی رہنما اس بات کو ثابت کر سکتا ہے کہ 1953ءکی تحریک کے بعد مذہبی فکرو نظر کے چودھری محمد علی وزیراعظم کے دور ِ حکومت میں1956ءکا جو دستور منظور ہوا تھا، پھر صدر ایوب خاں کے دور میں1962ءکا۔ کیا ان میں یہ مسئلہ حل ہو گیا تھا؟ جبکہ اسی جماعت اسلامی نے تحریک کے بعد1954ءمیں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے، جماعت اسلامی کا خیال تھا کہ دستور منظور ہونے کے بعد یہ مسئلہ خودبخود حل ہو جائے گا، لیکن یہ معلوم کر کے کہ قادیانیوں نے اندر ہی اندر ملک میں جو خطرناک صورت اختیار کر لی ہے، اس کی موجودگی میں اسلامی دستور کا نافذ ہونا اور صحیح بنیادوں پر اس کا چلنا اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک کہ قادیانی مسئلے کو نہ حل کر لیا جائے.... (چراغ راہ)

جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کی سیاسی بصیرت اور اُن کی فراست کا، ان کی دِور اندیشی، دانشمندی اور پختہ شعور کا اس سے اندازہ لگایئے کہ جس بات کی نشاندہی ہم لوگ 1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت کے دوران کر رہے تھے جماعت کے رہنماﺅں کو وہ چند سال بعد سمجھ میں آئی تھی۔ باقی رہا کسی مسئلے کو گلی کوچوں میں احتجاج کی صورت میں گھسیٹنے کا تو آج مختلف جماعتیں جو روش اختیار کر رہی ہیں، کالم نگار حضرات کو ان کی بابت بھی قلم اُٹھانا چاہئے، کہ مصر سے لے کر پاکستان تک دستوری اور آئینی مسائل حل کرانے کے لئے انہیں کیا طریق کار اختیار کرنا چاہئے تاکہ 1953ءکی تحریک ختم ِ نبوت کی غلطی نہ دہرائی جا سکے۔ اس سلسلے میں ”عالمی مجلس ختم ِ نبوت“ کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق پر مبنی ”تاریخ ختم ِ نبوت“ شائع کرے اور مختلف اخبارات میں تحریک کی بابت جو شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ان کا بھی مسکت جواب دینے کی زحمت گوارا کرے تاکہ حقائق سے چشم پوشی اور مسلسل خاموشی فتنہ ¿ قادیانیہ کے فروغ اور تقویت کا باعث نہ بن سکے، نیز تمام دینی جماعتوں کے رہنماﺅں کو اپنی جماعتی حد بندیوں سے باہر نکل کر وحدت اُمہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ دُنیا کے حالات کے ساتھ ان میں بھی تبدیلی آنی چاہئے اور وہ ہے ایک نئی دینی جماعت کا قیام، کیونکہ موجودہ مذہبی سیاسی جماعتیں باہمی کشمکش کی وجہ سے ناکام اور غیر موثر ہو چکی ہیں۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجئے!

 شائد کہ اُتر جائے ”کسی“ دل میں مری بات

مزید :

کالم -