کیا سوال پوچھنے والے پاگل ہیں؟

کیا سوال پوچھنے والے پاگل ہیں؟
کیا سوال پوچھنے والے پاگل ہیں؟

  

                                                                                        کسی شخص کی آنکھوں میں آنسوﺅں کی جھڑی لگی ہو اور آپ اس کی داستان غم کے سامع ہوں تو ساری دانشوری اور بقراطی ہوا ہو جاتی ہے۔ ہم جو لفظوں سے طوطا مینا کی کہانیاں تراش کر سمجھتے ہیں کہ دنیا، ملک اور اس کے نظام کو سیدھاکر دیا ہے، نجانے کس دنیا، کس ملک اور کس نظام کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ مَیں جب کسی بوڑھی عورت کو دیکھتا ہوں، تو مجھے اپنی ماں یاد آجاتی ہے۔ مجھے اس کے چہرے پر ابھرنے والی جھریاں اور ان کی بھوﺅں سمیت بالوں میں اُترنے والی چاندی میرے اندر درد مندی، رحم اور محبت کے جذبات بھر دیتی ہے۔ مَیں ان جذبوں کے حوالے سے پورے کا پورا بھر جاتا ہوں، لیکن جب اِسی دوران مجھے ضلع کچہری میں گھومنے والی وہ عورت یاد آتی ہے، جس نے کاغذات کی گٹھڑی بنا رکھی ہے اور جو روزانہ صبح سویرے کچہری آتی ہے اور عدالتوں اور وکلاءکے چیمبرز میں جا کر صرف ایک ہی سوال پوچھتی ہے: ”میکوں انصاف کنڈن مل سی“ (مجھے انصاف کب ملے گا؟) تو مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میری اپنی ماں میرا گریبان پکڑ کر سراپا سوال ہے۔

اس سوال کے سوا اُس بوڑھی عورت کو کچھ یاد نہیں۔ مَیںاسے ایک عرصے سے کچہری میں دیکھ رہا ہوں۔ اس سوال کے سوا اسے سارے لفظ، ساری یادداشتیں اور سارے دُکھ بھول چکے ہیں، باقی سب کچھ اس کے لئے بے معنی ہو چکا ہے۔ مَیں اُس کے چہرے کو دیکھتا ہوں، تو اس تاثر کی گرفت میں آجاتا ہوں کہ جھریاں سب چہروں کو ایک جیسا کر دیتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں اور اس کے چہرے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ یہ بوڑھی عورت ضلع کچہری کی چلتی پھرتی داستان ہے۔ وہ خود اب کسی کو کچھ نہیں بتا سکتی، لیکن جو اُسے پہلے سے جانتے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ بڑھیا بے اولاد تھی، بڑھاپے میں شوہر کا انتقال ہوا تو اس کے اپنے ہی رشتہ داروں نے کرپٹ اور بے رحم نظام کے سفاک اہلکاروں کے ساتھ ساز باز کر کے اس کی جائیداد ہتھیالی اور وہ مکان بھی چھین لیا، جو اُس کے شوہر کی ملکیت تھا۔ ایسے کردار اس معاشرے میں انہونے نہیں، ملک کی کسی بھی ضلع کچہری میں چلے جائیں، ایسے مظلومین اور انصاف مانگتے مجبور سائلین آپ کو بآسانی مل جائیں گے۔

جس معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں، وہاں تو اچھے بھلوں کو انصاف نہیں ملتا، ایک بے سہارا بوڑھی عورت کو کہاں مل سکتا ہے؟ اسے ہر جگہ سے دھکے ہی ملتے۔ عدالتوں سے، وکیلوں کے چیمبروں سے، تھانوں سے، اقتدار کے ایوانوں سے، ہر طرف دھکے ہی دھکے، ہر طرف ذلت ہی ذلت، مایوسی ہی مایوسی، ظلم ہی ظلم اور پھر وہ یہ سب سہتے سہتے پاگل ہو گئی، لیکن پاگل ہونے سے پہلے نجانے یہ جملہ کیوں اس کے ذہن سے چپک کر رہ گیا: ”میکوں انصاف کنڈن مل سی“۔

بوڑھی عورت کی زبان سے ٹیپ کے مصرعے کی طرح نکلنے والا یہ جملہ معاشرے کے لئے کسی تازیانے سے کم نہیں۔ یہ ایسا سوال ہے، جس کا جواب فی الوقت تو کسی کے پاس نہیں۔ ایک ایسی گالی ہے، جو اپنے ہدف کو ڈھونڈ رہی ہے۔ ایک شرمندگی ہے، جو شرمندہ ہونے والوں کی تلاش میں ہے، ایک آہ ہے جو کسی وقت بھی عرش ہلا سکتی ہے، ایک عذاب ہے، جو ظلم کے ایوانوں پر ٹوٹنے کے لئے بے قرار ہے۔ ضلع کچہری جہاں ہر قسم کے ججوں کی کھچا کھچ بھری عدالتیں، ڈی سی او کا عالیشان دفتر، سی پی او کی پوری سلطنت، وکیلوں کے ہزاروں چیمبرز، ٹاﺅٹ مافیا، جعلی ضامن اور سرکاری دستاویزات میں ہیرا پھیری کرنے والے بیٹھے ہیں، اس جملے کا جواب نہیں دے پاتے۔ وہ جواب دے بھی کیسے سکتے ہیں، انصاف تو معاشرے کے ہاتھوں سے پھسل کر کرپشن کے گہرے سمندر میں کہیں غرق ہو چکا ہے، وہ بوڑھی عورت کو کیسے بتا سکتے ہیں کہ انصاف کب اور کہاں سے ملے گا؟

 مَیںنے بڑھیا کے اِسی جملے کا تذکرہ دانشوروں کی ایک محفل میں کیا تو وہ اس سوال میں الجھے ہوئے تھے کہ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں؟ اس لئے اُن کے پاس بڑھیا کے سوال پر توجہ دینے کی فرصت نہیں تھی۔ سیاست دانوں کی بیٹھک میں اِس جملے کو دہرایا، تو اُن کا کہنا تھا کہ بڑھیا کو ان چکروں میں پڑنا ہی نہیں چاہئے تھا، کیونکہ تھانے کچہری کی شکل خدا کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ بڑھیا نے بلاوجہ آخری عمر میں بے مقصد روگ لگا لئے۔ جب اولاد ہی نہیں، تو اس نے جائیداد کا اچار ڈالنا ہے۔ سی ایس پی افسران کی موجودگی میں اِس مسئلے کا ذکر کیا، تو انہوں نے بات ٹھٹھہ مخول میں اُڑا دی، البتہ ایک نے مشورہ دیا کہ بڑھیا کو دارالامان یا ایدھی ہوم میں بھجوا دیا جائے۔ مہربان ججوں سے ملاقات ہوئی، تو انہوں نے قانون کے اندھے اور جذبات سے عاری ہونے کا ذکر کیا۔ جب کہیں سے بھی بڑھیا کی طرح مجھے اِس سوال کا جواب نہیں ملا تو مجھے لگا کہ مَیں بھی اس کی طرح پاگل ہوتا جا رہا ہوں۔ مَیں نے ایک جھٹکے سے خود کو بڑھیا کے تصور سے آزاد کرانے کی کوشش کی، تو کامیاب ہو گیا، مگر یہ کامیابی ایسی ہی تھی، جیسے آدمی دریا کی بجائے جوہڑ میں جا گرے۔ بڑھیا کے تصور سے نکل کر اپنے ارد گرد، اپنے شہر اور ملک پر نگاہ ڈالی تو یہ سوال ہر جگہ ایک چیخ بن کر گونج رہا تھا۔ ہمیں انصاف کہاں ملے گا ،ہمیں انصاف کون دے گا؟

یہ سوال اخبارات کے صفحات پر چیختی چنگھاڑتی سرخیوں میں بھی موجود تھا اور ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں بھی، کہیں اس کا کردار ننھی سنبل تھی اور کہیں انصاف مانگنے والی بڑھیا۔ یہ سوال گورنروں اور وزرائے اعلیٰ ہاﺅسوں کے سامنے بھی گونج رہا تھا اور سول سیکرٹریٹ کی راہ داریوں میں بھی سسکتا پایا گیا، کیونکہ جواب دینے والے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے تھے۔ یہ سوال عدالتوں میں پیش ہونے والے ہر سائل کے ماتھے پر لکھا تھا، لیکن زبانیں توہین عدالت کے خوف سے گنگ ہو چکی تھیں۔ یہ سوال ارکان اسمبلی کے ڈیروں اور اسمبلیوں کی غلام گردشوں میں بھی خلق خدا کی زبانوں پر مچل رہا تھا، لیکن جواب دینے والے خود سوالوں میں الجھے ہوئے تھے۔

جس سوال کا جواب مانگتے مانگتے بڑھیا پاگل ہو چکی ہے، اُس سوال کی اذیت میں توہزاروں پاکستانی گرفتار ہیں۔ کیا اس سوال کا جواب صرف پاگل پن ہے، کیا وہ سب اس سوال کو پوچھتے پوچھتے پاگل ہو جائیں گے؟ اللہ کرے ایسا ہو جائے، ایک پاگل بڑھیا نے پوری کچہری کا ناک میں دم کر رکھا ہے، کروڑوں پاکستانی پاگل ہو گئے، تو اپنی دیوانگی سے اس نظام کو اکھاڑ پھینکیں گے، جسے اس ملک کے چالاک داناﺅں نے بڑی ڈھٹائی سے18 کروڑ پاکستانیوں پر مسلط کر رکھا ہے۔ انصاف ملنے کا اب اس کے سوا کوئی راستہ باقی رہا بھی نہیں۔    ٭

مزید :

کالم -