عدم مداخلت کی پالیسی

عدم مداخلت کی پالیسی

  

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان بھارت اور افغانستان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے اسی طرح وہ بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ نیویارک میں پاکستان کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ تنازعات کا حل مذاکرات سے چاہتے ہیں۔ حامد کرزئی کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر عمل درآمد کیا جارہاہے۔ افغانستان کے امن سے خطے کا امن وابستہ ہے۔ بھا رت کو بھی پاکستان کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔ پاکستان امن پسند ملک ہے اور ہم امن پسند لوگ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایک دوسرے کے معاملات میں عدم مداخلت کی ضرورت پر زور دراصل خطے کی سب سے بڑی ضرورت کی نشاندہی ہے۔ امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے۔ پاکستان دہشت گردی کا عذاب بھی اسی وجہ سے بھگت رہا ہے۔ نواز حکومت نے اپنی طرف سے اس طرح کی کسی شکایت کا موقع نہ دینے کا عزم کر رکھا ہے، جس کے بعد ان کی اس بات میں بھی بہت وزن ہے۔ دنیا دیکھ سکتی ہے کہ پاکستان ہمسایہ ملکوں کے اندرونی معاملات سے بالکل الگ تھلگ رہنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس کی طرف سے کسی کو شکایت ہے تو محض اپنے ان انتہا پسندوں کے دباﺅ کی وجہ سے، جن کی سیاست کا انحصار ہی انتہا ءپسندی اور دھونس پر ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی صحیح معنوں میں امن پسند قوم ہیں۔ ہمارے 95 فیصد عوام اپنے ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں۔ چند مذہبی جنونی یا دہشت گردوں کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور وہ دوسرے ملکوں کے بجائے پاکستان کے امن کو تہس نہس کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے امریکہ سے بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ پاکستان اب زیادہ دیر تک ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ اب تک پاکستانی قوم مصائب کے سمندر سے گزر کر جس نتیجے پر پہنچی ہے وہ یہی ہے کہ نہ کسی کے معاملات میں مداخلت کرو نہ کرنے دو۔ اب معاملات دو ٹوک کرنے کی ضرورت ہے۔ امن اور صلح اور اس کے عوام کے لئے بے پناہ فوائد حکومتوں کے کھلے فیصلوں ہی سے حاصل ہوں گے۔    ٭

مزید :

اداریہ -