بلوچستان میں ایک اور زلزلہ

بلوچستان میں ایک اور زلزلہ

  

                                                                                                                بلوچستان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ایک اور زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔ پانچ روز قبل آنے والے زلزلے سے بچ جانے والے مکانات بھی منہدم ہوگئے۔ ملبے تلے دب کر مزید 25 افراد جاں بحق اور 50زخمی ہوگئے ہیں۔ زلزلہ ہفتے کی دوپہر 12 بج کر24منٹ پر آیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق یہ آفٹر شاکس نہیں، بلکہ نیا زلزلہ تھا۔اس کا مرکز آواران سے47 کلو میٹر دور تھا۔اس زلزلے کے جھٹکے بلوچستان اور سندھ کے علاوہ ایران اور اومان میں بھی محسوس کئے گئے۔ آواران کی تحصیل مشکے سب سے زیادہ متاثر ہوئی،جہاں ایک گاﺅں نوک کو میں سب مکان منہدم ہو گئے۔علاقے میں رہا سہا مواصلاتی نظام بھی تباہ ہوگیا۔24ستمبر کے بعد سے اب تک 400 کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں فوج اور ایف سی کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن دہشت گردوں کی طرف سے رکاوٹیں ڈالنے کے باوجود جاری ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ متاثرین کی بحالی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔ زخمیوں کو 10،10 ہزار روپے کی رقم فراہم کر دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے زلزلہ زدگان کی بحالی کے لئے تیسری امدادی کھیپ بھی روانہ کردی گئی ہے،جس میں ایک ہزار فوڈ ہیمپرز، 10 کلو آٹے کے ایک ہزار تھیلے اور آدھا ٹرک ادویات شامل ہیں۔ جماعت الدعوہ کی طرف سے گزشتہ روز متاثرین میں ایک ہزار سے زائد خیمے اور ترپالیں تقسیم کی گئیں۔ اس کے علاوہ وزیر داخلہ چودھری نثارعلی کے زیر صدارت ایک اجلاس میں زلزلہ زدگان کی بھرپور امداد کے لئے ایک جامع پلان تیار کر لیا گیا ہے، جو وزیراعظم کی واپسی پر منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ چین نے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے 63 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ زلزلہ زدگان پاکستانی بھائیوں کو اس مشکل میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ادھر بعض اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقوں کے دُور دُور تک پھیلے ہوئے ہونے کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر ابھی تک امداد نہیں پہنچ سکی، ہزاروں لوگ ابھی تک کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، دواﺅں کی قلت کی بنا پر بعض امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے۔

وفاق اور پنجاب کی حکومتوں اور بلوچستان کی حکومت کی طرف سے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بعد امدادی سرگرمیاں مناسب طور پر آرگنائز کرلی جائیں، تو قدرت کی طرف سے چند ہی روز میں انہی علاقوں میں بھیجی جانے والی اِس دوسری تباہی کے اثرات سے بھی نمٹا جاسکتا ہے۔ اگرچہ دوسری بار کے زلزلے نے علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے، جس سے ان میں ہیجانی کیفیت بھی پیدا ہوئی اور بھگڈر بھی مچی، لیکن مسئلہ ان افراد کی مدد کا ہو گا، جو اس صورت حال میں اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا کر در بدر ہوجائیں گے۔ حکومت کی طرف سے امدادی سرگرمیوں کا جاری رکھنا اس وقت زیادہ آسان ہوتا ہے جب لوگ قائم کئے گئے امدادی کیمپوں میں رہیں اور وہاں اپنے خاندانوں اور اہل خانہ کی تعداد کا درست اندراج کرائیں۔ اپنے گھروں اور دوسرے نقصان کی درست تفصیلات سے امدادی کارکنوں کو آگاہ کریں۔ ایسے مراکز پر رہنے والے تمام افراد کے کھانے پینے کا انتظام کر دیا جاتا ہے اور ان کے مکانوں کی مرمت و تعمیر ، نقد رقوم کی تقسیم یا دوسرے انتظامات کے لئے کچھ وقت درکار ہوتا ہے، لیکن اپنے گھروں کو چھوڑنے والوں کے لئے کیمپوں میں زندگی بسر کرنا اکثر محال ہوجاتا ہے ان کی اکثریت اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں پناہ لینے کی کوشش کرتی ہے، جس سے متاثرین کی اصل تعداد اور ان کے نقصانات کے صحیح تخمینے میں مشکل پیش آتی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھروں کے گرنے کے بعد بھی کیمپوں میں جانے کے بجائے ملبے تلے دَبے ہوئے اپنے سامان کی نگرانی کے لئے ملبے کے قریب ہی پڑے رہتے ہیں۔ اس طرح صرف وہی تباہ شدہ مقامات پر نظر آتے ہیں ۔ ان مقامات پر اپنے طور پر امدادی سامان لے کر پہنچنے والے لوگوں کے لئے بھی متاثرہ افراد اور ان کی ضروریات کا صحیح اندازہ لگانا ممکن نہیں ہوتا۔اس ساری صورت حال میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تربیت یافتہ لوگوں کی فوری منصوبہ بندی اور اس کے مطابق امدادی سرگرمیوں کے لئے بہتر سسٹم قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑے لوگوں کا موقع پر پہنچ کر نقصان کا صحیح اندازہ کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ایسی تجربہ کار اور مخلص تنظیموں اور اداروں کے کارکنوں کا تجربہ اور مہارت بھی بے حد اہمیت رکھتی ہے، جنہوں نے اس سے پہلے بھی ایسی آفات کے وقت امدادی کام کیا ہو۔ موجودہ صورت حال میں وزیر داخلہ کی قیادت میں ترتیب دئیے گئے امدادی پروگرام کی بہت اہمیت ہے جو یقینا اس طرح کے کام کی مہارت رکھنے والے لوگوں کی مشاورت سے بنایا گیا ہے ، امید کی جانی چاہئے کہ وزیر داخلہ وزیراعظم سے اس امدادی پلان کی منظوری سے قبل دوسری بار آنے والے زلزلے کے بعد پیدا ہوجانے والی صورت حال کے مطابق بھی اس میں ضروری رد و بدل کریں گے۔چین کی طرف سے دی جانے والی63 لاکھ ڈالر کی امداد بھی اس مشکل وقت میں متاثرین زلزلہ کے لئے ایک بڑی رقم ہے ۔ اس کا مناسب استعمال ہو تو یہ رقم ایک کمرے کے چھوٹے لاکھوں مکانات بنوانے کے لئے کافی ہوسکتی ہے۔ اپنے اپنے مکانوں کے ملبے کو استعمال کرتے ہوئے ان کی جگہ نئے مکانات تعمیر کرنے میں متاثرین کی مدد کی جائے تو ہر گھرانے کے لئے دو تین لاکھ روپے کی رقم سے بھی یہ کام ہوسکتا ہے۔ اگر دوسرے ممالک سے بھی امدادی رقم آتی ہے، تو اسے حکومتوں کی طرف سے متاثرین کے لئے مثالی شہر اور قصبات بنانے کے طویل منصوبوں کے نام پر دبا کر نہیں رکھنا چاہئے ۔ اسے موقع پر متاثرین کی رہائش اور خوراک کی فوری ضرورتوں، مواصلات اور لوگوں کے روزگار کے ذرائع کی بحالی پر خرچ کیا جانا چاہئے۔

اِس ساری صورت حال میں جہاں فوج، ایف سی اور سول انتظامیہ سرگرمی سے دن رات امدادی کاموں میں مصروف ہیںوہاں دہشت گرد امدادی کاموں میں رکاوٹ ڈالنے اور ان اداروں کو متاثرہ علاقوں سے دور رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ان کی سفاکی اور درندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس کے بعد ایسے لوگوں کے اپنے عوام کے خیر خو اہ یا ان کے حقوق کے لئے بندوق اٹھانے جیسے سب نعروں کا مفہوم اب علاقے کے لوگوں پر واضح ہو رہا ہے۔ دشمن طاقتوں سے تربیت اوراسلحہ لے کر ملک میں انتشار اوربدامنی پیدا کرنے کے لئے سرگرم ان لوگوں نے امدادی کاموں کی نگرانی کے لئے آنے والے پاک فوج اور ڈیزاسڑ مینجمنٹ کے سربراہ کے ہیلی کاپٹر پر بھی راکٹ حملے کئے۔ عین ممکن ہے کہ ان کی طرف سے پنجاب اور دوسرے علاقوں سے بھیجے جانے والے امدادی سامان کے ٹرکوں کو بھی لوٹنے کی کوشش کی جائے۔ یہ حقیقت پوری دنیا پر واضح ہے کہ ایسے دہشت گرد غریب اور بے بس لوگوں کو یرغمال بنا کر مختلف علاقوں کو اپنی سرگرمیو ں کا مرکز بناتے ہیں یا حکومت اور محب وطن سیاست دانوں کے ابلاغی نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھا کر جھوٹے پراپیگنڈے سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ بات قابل برداشت نہیں ہو سکتی کہ ایک مشکل وقت میں حکومتی امداد ان کے یرغمال بنائے ہوئے لوگوں تک پہنچے اور حکومت اور محب وطن لوگوں کا ان لوگوں سے ابلاغ اور رابطہ بحال ہو۔ ان علاقوں کے متعلق یہ اطلاعات عام ہیں کہ دہشت گردوں نے ان علاقوں میں اپنا کنڑول قائم کر رکھا تھا۔ ظاہر ہے اس صورت میں امدادی کام کرنے والوں کی دوہری ذمہ داری سے نمٹنا ہے ۔ دیکھا جائے تو آفت کی اس گھڑی میں ہنگامی طور پر مصیبت زدگان کے لئے کام کرتے وقت ہمارے ادارے قومی اتحاد اور اخوت اور نظم و نسق اور ایثار کا جس طرح ثبوت دیتے ہیں اس میں ہمارے قومی مسائل اور کمزوریوں کا حل بھی ہے۔ اسی جذبے اور عوامی اور حکومتی اداروں کے ایسے ہی تعاون سے اگر ہم ان دہشت گردوں اور ملک دشمنوں سے نمٹنے کے لئے کام شروع کریں تو بہت کم وقت اور بہت موثر طریقے سے ان کا خاتمہ اور عوامی خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کوئی دور کی بات نہیں ہے۔

مزید :

اداریہ -