سید علی گیلانی کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کے کشمیر بارے بیان کا خیر مقدم

سید علی گیلانی کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان کے کشمیر بارے بیان کا خیر مقدم

  

 

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف کے خطاب کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر کو عالمی ادارے کی متعلقہ قراردادوںکے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری بیان میں حکومت پاکستان سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کے قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو عالمی فورموں پر اجاگر کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی لائے۔بزرگ رہنما نے کہا کہ وہ اصولی طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کو باہمی تجارت کے بجائے مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ مرکوز کرنی چائیے۔انہوںنے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات محض ایک سفارتی رسم ثابت ہوتے رہے ہیں۔ سید علی گیلانی نے کہا کہ جب تک بھارت ہٹ دھرمی پر مبنی اپنا موقف ترک نہیں کرتااس وقت تک مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے کسی پیش رفت کی امید نہیں کی جاسکتی۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہو رہی ہے، مقبوضہ کشمیرکے لوگ شہید محمد افضل گورو کے جسد خاکی کی واپسی کے منتظر ہیںاور وہ مارکنڈل، گول اور شوپیاں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ نوجوانوں کے قتل پر سوگوار ہیں۔ انہوںنے کہا جب دونوں وزرائے اعظم آپس میںملیں گے تو کشمیری چاہئیں گے کہ وہ ان دس ہزار کشمیریوں کے مسئلے پر توجہ دیں جنہیں بھارتی فورسز نے گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کیا ہے۔ دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما جاوید احمدمیرنے سرینگر میں ایک بیان میں محمد نواز شریف کے بیان کو سراہتے ہوئے اسے بروقت قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری محمد نواز شریف اور من موہن سنگھ کے درمیان نیویارک میں مجوزہ ملاقات کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم یہ ملاقات اس وقت تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو گی جب تک مسئلہ کشمیر کو مرکزی حیثیت نہیں دی جاتی اور حریت قیادت کو مذاکراتی عمل میں شریک نہیں کیا جاتا۔ جاوید احمد میر نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

عالمی منظر -