حج کی آمد پر غلاف کعبہ ساڑھے تین میٹر اونچا کردیا گیا

حج کی آمد پر غلاف کعبہ ساڑھے تین میٹر اونچا کردیا گیا

  

مکہ المکرمہ (اے پی پی) حج کی آمدکے پیش نظر غلاف کعبہ کوساڑھے تین میٹر اونچا کردیا گیا ہے ۔جس سے اس کی زمین سے اونچائی ایک عام انسانی قد سے بھی زیادہ اونچی ہوگئی ہے۔ عازمین حج اب غلاب کعبہ کو ہاتھ نہیں لگا سکیں گےاور نہ ہی اب اسے چوما جاسکے گا۔سعودی عرب میں حج کے موقع پرعموماً ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ غلاف اونچا کرنے کا مقصد اس کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ عام طور پر ہر عازم حج دوران عبادت اسے چھونا، چومنا اور اسے پکڑ کر دعا مانگنے کا متمنی ہوتا ہے۔ اس سے ایک طرف تو لاکھوں حاجیوں کے طواف میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہےبلکہ وہاں رش بڑھ جاتا ہے، دوسرا اکثر لوگ غلاف کعبہ کو کاٹ کر بطور تبرک ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔زائرین اور مطوفین کے چھونے اور رگڑ لگنے سے غلاف کعبہ خراب ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لئے کچھ برسوں سے سعودی حکومت نے غلاف کو گھسنے سے بچانے کے لیے اسے نچلی سمت سے ساڑھے تین میٹر اوپراٹھا نے کی روایت ڈال دی ہے جو دراصل ایک ضرورت بھی ہے۔اسی روایت اور ضرورت کے پیش نظر رواں سال حج کی آمد کے موقع پر خانہ کعبہ کا غلاف اوپر اٹھا دیا گیا ہے۔ غلاف کا زیریں حصہ سفید رنگ کے خالص ریشم سے تیار کیا جاتا ہے۔ غلاف خانہ کعبہ کے چاروں سمت اس کے زیریں حصے کے گرد لپیٹا جاتا ہے۔

غلاف سازی امور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد باجودہ نے بتایا کہ غلاف کعبہ کو اس کی زیریں سمت سے اوپر اٹھانے کا مقصد اس کی حفاظت کرنا ہے، اس کے پیچھے اور کوئی فلسفہ کار فرما نہیں ہے۔

مزید :

عالمی منظر -