کون دہشتگردی کررہاہے۔ ۔ ۔ بھارتی وزیراعظم کی توجہ دہشتگردی اور بلوچستان کی طرف دلائی ہے: نوازشریف کا لندن میں اظہارخیال

کون دہشتگردی کررہاہے۔ ۔ ۔ بھارتی وزیراعظم کی توجہ دہشتگردی اور بلوچستان کی ...
کون دہشتگردی کررہاہے۔ ۔ ۔ بھارتی وزیراعظم کی توجہ دہشتگردی اور بلوچستان کی طرف دلائی ہے: نوازشریف کا لندن میں اظہارخیال

  

لندن(مرزا نعیم الرحمان) وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی پاکستان سے باہر سے ہو رہی ہے اور میں نے بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات میں انہیں پاکستان کے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں بہت زیادہ غریب لوگ ہیں ہمیں ان کی بہتری پر توجہ دینی چاہئے۔ وطن واپس آتے ہوئے لندن میں مختصر قیام کے دوران صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا بھارتی وزیراعظم سے ملاقات میں بلوچستان کا مسئلہ اٹھایا، خدشات سے آگاہ کیا۔ منموہن سنگھ سے کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کو پاکستان کے سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا، خدشہ ہے کہ پاکستان میں باہر سے دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے اور ملک میں دہشت گردی کے پیچھے جو خفیہ ہاتھ ہیں ان کو بے نقاب کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف پاکستان کا نہیں بلکہ کئی ملکوں کا مسئلہ ہے، بات چیت کے ذریعے مشکل سے مشکل مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے، خطے کے عوام کیلئے امن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں بہت زیادہ غریب لوگ ہیں ہمیں ان کی بہتری پر توجہ دینی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے حوالے سے نواز شریف نے کہا کہ میں نے متعدد مسائل پر پاکستان کا اصولی موقف پیش کیا اور ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا۔ طالبان سے مذاکرات سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ میری وطن واپسی کے بعد حکومت اس حوالے سے حکمت عملی وضع کرے گی۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کے الزامات کے حوالے سے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم کے بارے میں اپنے بیان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میرا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو ''دیہاتی بڑھیا'' نہیں کہا تھا۔ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دینے کے الزام پر نواز شریف نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم سے ان امور پر بات ہوئی ہے۔ طالبان نے پشاور دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تو پھر کون ہے جو دہشت گردی کر رہا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی کے حوالے سے خدشات ہیں۔ منموہن سنگھ کے ساتھ ملاقات میں تمام معاملات پر بات کی۔ ان سے کہا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کااصولی موقف پیش کیا۔ آئندہ ماہ امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات میں بھی ڈرون حملوں کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -