منموہن بھارت کی داخلی سیاست کے باعث پاکستان کے ساتھ لچک نہ دکھانے پر مجبور تھے

منموہن بھارت کی داخلی سیاست کے باعث پاکستان کے ساتھ لچک نہ دکھانے پر مجبور ...
منموہن بھارت کی داخلی سیاست کے باعث پاکستان کے ساتھ لچک نہ دکھانے پر مجبور تھے

  

 میاں نواز شریف اور من موہن سنگھ کی ملاقات آخر کار ہوگئی۔ کئی بار اس ملاقات کی منسوخی کے امکانات پیدا ہوئے۔ وقت کے تعین سے لے کر ملاقات کے مقام کے تعین تک کئی معاملات بڑے کٹھن لگ رہے تھے۔ بھارت کی داخلی سیاست بھی من موہن سنگھ کو کہیں بھی لچک نہ دکھانے پر مجبور کررہی تھی۔ نریندر مودی کی انتخابی اکھاڑے میں اترنے کی تیاریاں ہی بھارتی حکومت کو پاکستان کی طرف سخت رویہ رکھنے کے لیے کافی تھیں لیکن اوپر سے سونے پر سہاگہ راہول گاندھی بھی میدان میں اتر پڑے اور حکومت کو ایک حالیہ آرڈیننس کے حوالے سے لگے ہاتھوں لے لیا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اگلے سال کے وسط میں ہونے والے انتخابات میں کانگریس بھی انتخابی گھوڑے کی تبدیلی کا سوچ رہی ہے اور ایسے موقع پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری یا مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے حوالے سے کسی بھی کمزوری کا اثر سیدھا جلدہی شروع ہونے والی انتخابی مہم پر پڑ سکتا ہے۔ منموہن سنگھ اپنی داخلی محاذ پر روزبروز گھٹتی ہوئی طاقت کے پیش نظر کم ازکم پاکستان کے لئے کسی لچک کا مظاہرہ کرنے پر تیار نظر نہیں آتے تھے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور صدر اوباما سے ملاقات میں بھی پاکستان کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔ وزیرخارجہ سلمان خورشید بھی پاکستان آرمی پر اپنا غصہ نکالتے رہے، لیکن اس کے باوجود بھارتی حکومت کو یہ احساس بھی تھا کہ بہرحال مذاکرات کے عمل کو کہیں سے شروع ہونا ہے کہ ”آپ دوست تو تبدیل کرسکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں“ اس ماحول میں ملاقات کے لیے من موہن سنگھ نے اپنی تمام شرائط منوانے کی کوشش کی۔ دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف کا عرصہ درازسے یہ یقین ہے کہ بالآخر دونوں ممالک کو امن قائم کرنا ہے کہ بہرحال اس کے بغیر معاشی وسماجی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے بیشتر دفعہ اپنے اس عزم کا اعادہ بھی کیا اور اس ملاقات کے وقوع پذیر ہونے میں ان کی ذاتی کوشش اور رویہ کا بڑا دخل رہا۔ وہ ملاقات کے لیے بھارتی وزیراعظم کے ہوٹل میں گئے اور وقت کی تبدیلی کو بھی ہضم کرگئے کہ ان کے نزدیک رابطہ مذاکرات کے عمل کو شروع کرنے کی پہلی کڑی تھا ۔ ناشتے کی دعوت بھی بس سیدھی سادھی ملاقات تھی ۔ صبح کے وقت 10بجے شروع ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی اور اس کے بعد دونوں ممالک کی طرف سے الگ الگ بریفنگ دی گئی۔ صاف نظر آرہا تھا خصوصاً بھارتی حکومت کوئی ایسا تاثر دینا نہیں چاہتی تھی جس سے نظر آئے کہ اس کی شرائط مانے بغیر بھارت اور پاکستان کے تعلقات معمول پر آرہے ہیں۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر شیو شنکرمینن نے بڑے نپے تلے انداز میں صحافیوں کو ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کے بقول یہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کے لیے ضروری مگر حتمی نہیں تھا۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے مراکز ختم کرنے اور ممبئی حملوں کے ملزموں کو سزادینے تک پاکستان سے کوئی مذاکراتی عمل شروع ہونا مشکل ہے۔ اسی لیے اگلے مذاکراتی راﺅنڈ کی کوئی بھی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔ انہوں نے البتہ محتاط الفاظ میں اس بات سے اتفاق کیا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت امن کے قیام میں مخلص دکھائی دیتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بہرحال اس بات کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں ہوگا۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ کہ من موہن سنگھ نے پاکستان پر واضح کیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے آغاز سے پہلے پاکستان کو اپنے رویے میں واضح تبدیلی لانا ہوگی اور اس کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کی بریفنگ میں ذرا مختلف انداز میں ملاقات کو بہت کارآمد کہاگیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات اٹھانا ہوں گے اور حل طلب مسائل بشمول کشمیر، سرکریک،سیاچن اور پانی کی تقسیم کی طرف توجہ دیئے بغیر دونوں کے درمیان پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

دونوں بریفنگز میں شرکت کرنے والے صحافیوں پرپاکستان اور بھارت کے ترجمانوں کی طرف سے استعمال کئے گئے الفاظ کے چناﺅ میں فرق صاف ظاہر تھا ۔ بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرملاقات کو ”کارآمد اور ضروری“ قرار دے رہے تھے جبکہ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اسے ”مثبت اور تعمیری“ قرار دے رہے تھے۔ ملاقات کو جو بھی نام دیا جائے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور دونوں ہمسائے لمبے عرصے تک ایک دوسرے سے منہ بسوڑے بھی نہیں بیٹھ سکتے بداعتمادی کی اس فضا کو بہرحال چھٹنا چاہیے۔ پہلاقدم چاہے کتنا ہی کٹھن کیوں نہ لگے لینا ہی تھا اس حوالے سے نواز شریف پہلا قدم ضرور لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -