ریل گاڑی کے ڈبوں میں فیملی اور گیسٹ ہاﺅس عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا

ریل گاڑی کے ڈبوں میں فیملی اور گیسٹ ہاﺅس عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا
ریل گاڑی کے ڈبوں میں فیملی اور گیسٹ ہاﺅس عوام کی توجہ کا مرکز بن گیا

  

 لندن (بیورورپورٹ)ابیرسٹن ریلوے اسٹیشن پر مسافر گاڑی کے چند ڈبوں میں فیملی ہوم اور گیسٹ ہاﺅس لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اس ریلوے سٹیشن کو 1882میں چالو کیا گیا جبکہ آخری مسافر ٹرین 3جون 1950کو سٹیشن سے گزری 17سال قبل نارتھ یارک شائر کے اس سٹیشن کو ایک خاتون کارول اور اسکے خاوند مارک نے خرید لیا اور محکمہ ریلوے سے چار لگژری بوگیاں خرید کر ریلوے لائن پر کھڑی کر دیں اور اسے فیملی ہوم اور گیسٹ ہوم میں تبدیل کر دیا گیا مذکورہ ٹرین میں کچن ‘ واش روم اور بستر لگا دیے گئے اس ٹرین میں بعض افراد نے مستقل ڈیرے جما رکھے ہیں باقی گیسٹ ہاﺅس میں غیر ملکی طالب علم رات بسر کرنے کیلئے رجوع کرتے ہیں اس ریلوے سٹیشن کی مالکہ کارول کا کہنا ہے کہ اسے انتہائی معقول آمدن ہو رہی ہے اور اسکی کوشش ہے کہ وہ غیر آباد ریلوے سٹیشن خرید کر کے وہاں ٹرین کے ڈبوں میں بھی فیملی ہوم اور گیسٹ ہاﺅس بنا دے ۔

مزید :

بین الاقوامی -