خلاءمیں عجیب و غریب ذر ے کا انکشاف

خلاءمیں عجیب و غریب ذر ے کا انکشاف
خلاءمیں عجیب و غریب ذر ے کا انکشاف

  

بوسٹن (نیوز ڈیسک)زمین پر زندگی کا آغاز کیسے ہوا؟کیا دینا میں کہیں اور بھی زندگی پائی جاتی ہے یا ہم کائنات میں تنہا ہیں؟یہ وہ سوالات ہیں جو صدیوں سے انسانی زہن میں سمائے ہوئے ہیں ۔ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ایک ایسی دریافت کر لی ہے جو ان عظیم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے میںمدد دے سکتی ہے ،میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کو رنیل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کولوں کی ایک مشترکہ تحقیق میں معلوم ہو کہ ہماری کہکشاں کے مرکز میں ایک نامیاتی عنصر پایا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کے علاوہ بھی کائنا ت میں ایسی جگہیں ہے جہاں زندگی کے لیے مطلوب عناصر پائے جاتے ہیں ۔یہ عنصر آئسو پروپائل سایانائیڈ ہے جوکاربن کی ایک شکل ہے ۔اس کے علاوہ کہکشاں کے مرکز میں الکوحل کے مالیکیول بھی پائے جاتے ہیں ۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ مالیکیول زمین سے 27ہزار نوری سال کے فاصلے پر ملے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کائنات کے دیگر حصوں میں بھی ایسے مالیکیول پائے جاتے ہیں کہ جن سے زندگی کا آغاز ہو سکتا ہے ۔ حالیہ دریافت سے اس نظریے کوتقویت ملی ہے کہ ہمارے علاوہ بھی کائنات میں ہمارے جیسی مخلوقات آباد ہیں لیکن بے پناہ فاصلوں کی وجہ سے ہم ابھی ان سے رابطہ نہیں کر سکتے۔

مزید :

بین الاقوامی -