کوئی بھی یونس خان کو کھلانے کے حق میں نہیں تھا شہر یار خان

کوئی بھی یونس خان کو کھلانے کے حق میں نہیں تھا شہر یار خان

  

 لاہور(این این آئی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے سر براہ شہر یار خان نے کہا ہے کہ کپتان ¾ چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ سمیت کوئی بھی یونس خان کو کھلانے کے حق میں نہیں تھا ¾ فیصلے پر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی تھی ¾ یونس خان جیسے سنیئر کھلاڑی کو ڈراپ کرنے سے پہلے مجھے یا معین خان کو ان سے بات کر لینی چاہیے تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یونس خان کا ایشو میڈیا کا تخلیق کردہ ہے جس نے ایک دن پہلے یہ خبر دے دی کہ یونس خان کے سلیکشن پر پی سی بی چیئر مین، سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ میں ڈیڈلاک ہے۔ غلط خبروں سے معاملات خراب ہوئے ¾ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے کہا کہ میں نے سلیکشن میں مداخلت کی اور نہ آئندہ کروں گا ¾اگر میں چاہتا تو ان کے فیصلے پر اثر انداز ہوسکتا تھا تاہم میرا کام کرنے کا انداز ہے کہ کپتان ،کوچ اور سلیکٹرز خود مختار ہیں تاہم میں واضح کردوں کہ معین خان لاہور ڈیڈ لاک کی وجہ سے نہیں آئے تھے انہوں نے مجھ سے ملاقات کی مجھے قائل کیا اور میں نے ٹیم منظور کرلی۔ شہریار خان نے کہا کہ یونس خان سے مجھے ہمدردی ہے۔ جب بھی کسی بڑے اور سینئر کھلاڑی کو ڈراپ کیا جاتا ہے تو وہ ناخوش ہوتا ہے۔ یونس خان کی ناراضگی درست ہے۔ تاہم بورڈ کو بھی اپنی اتھارٹی منوانی ہوتی ہے اسی لئے ہم نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے یاد دلایا جائے کہ آپ نے بورڈسے سینٹرل کنٹریکٹ بھی سائن کیا ہوا ہے۔

 اگر نوٹس جاری نہ کرتے تو کل کوئی اور کھلاڑی میڈیا میں آجاتا البتہ یہ بات طے کہ سنیئر مڈل آرڈر بیٹسمین کے خلاف بورڈ کے خلاف بیان بازی بازی کے باوجود سنجیدہ نوعیت کی کسی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے البتہ پی سی بی نے دونوں خطوط میں ان کو یاددلایا کہ وہ ضابطہ اخلاق توڑ رہے ہیں اوور ری ایکشن درست نہیں ہے وہ کرکٹ پر فوکس کریں اور کھیل میں واپس آئیں

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -