ٹیم کے انتخاب میں ضروری نہیں کہ میری ہر بات مان لی جائے ¾ مصباح الحق

ٹیم کے انتخاب میں ضروری نہیں کہ میری ہر بات مان لی جائے ¾ مصباح الحق

  

لاہور (این این آئی)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کہا ہے کہ وہ بے اختیار کپتان نہیں ہیں تاہم ٹیم کے انتخاب میں ضروری نہیں کہ ان کی ہر بات مان لی جائے۔مصباح الحق نے یہ بات سابق کپتان یونس خان کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی ہے جس میں انہوں نے ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔مصباح الحق نے کہا کہ وہ اس حساس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے کیونکہ ایک طرف ان کی ٹیم کے ایک ساتھی کرکٹر ہیں اور دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ ہے۔مصباح الحق نے کہا کہ ٹیم کے انتخاب میں ان کی رائے یقینالی جاتی ہے تاہم وہ یہ بات پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ضروری نہیں کہ ہر وقت ان کی ہر بات مان لی جائے ¾جب ٹیم منتخب کی جاتی ہے تو مشاورت ہوتی ہے جس میں کبھی آپ کی بات مانی جاتی ہے اور کبھی نہیں مانی جاتی اور آپ کو دوسروں کی رائے کا احترام کرنا پڑتا ہے اسے تسلیم کرنا پڑتا ہے۔مصباح الحق سے جب کوچ وقاریونس کے حالیہ انٹرویو کے بارے میں پوچھا گیا جس میں انہوں نے مصباح کے بیٹنگ انداز میں زیادہ مثبت تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے تو پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ انہوں نے میدان میں جو بھی فیصلے کیے ہیں وہ صورتحال کے مطابق کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ جو کرکٹر فیلڈ میں سب سے زیادہ دوڑتا نظرآتا ہے وہی جارحانہ انداز کا حامل ہو۔مصباح الحق نے سوال کیا کہ اگر وہ دفاعی انداز کے کھلاڑی یا کپتان ہوتے تو ٹیم نے ان کی قیادت میں چار سال میں قابل ذکر کامیابیاں کیسے حاصل کیں؟انہوںنے کہاکہ انھوں نے دفاعی اور جارحانہ انداز کے امتزاج سے کھیلتے ہوئے فیصلے کیے تبھی ٹیم نے کامیابیاں حاصل کیں۔اگر یہ سب کچھ نہ ہوتا تو پاکستانی ٹیم عالمی نمبرایک انگلینڈ کے خلاف کلین سویپ کیسے کرتی۔ ایشیا کپ کیسے جیت لیتی۔ بھارت کو بھارت میں کیسے ہراتی اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچز کیسے جیتنےمیں کامیاب ہوتی؟مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف دونوں سیریز بڑی اہمیت کی حامل ہیں کہ ان میں بہترین کمبی نیشن تشکیل دیا جا سکے گا۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -