چینی کاشتکاری ماڈل کو اختیارکرکے غذائی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں

چینی کاشتکاری ماڈل کو اختیارکرکے غذائی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں

  

لاہور(کامرس رپورٹر)پاک چائنہ جوائےنٹ چےمبر آف کامرس اےنڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں چین کے کاشتکاری ماڈل ” ایکو فارمنگ“ ؑEco-Farming)) پر عملدرآمد کر کے مستقبل قریب میں متوقع غذائی بحران کے خطرے کو دور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے پاک چائینہ جوائینٹ چیمبر کے زیر اہتمام ” پاکستان کی زرعی طاقت کی بقا ئ“ کے موضوع پرمنعقدہ ایک مباحثہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ، آنے والی نسلوں کو غذائی بحران سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ زراعت کو ترقی دی جائے اور زرعی پےداوار کو بڑھاےا جائے ۔فےصل آفرےدی نے تجوےز دی کہ پاکستان مےں زرعی پےداوار کو بڑھانے کےلئے حکومت کو چاہئے کہ ملک مےںچےن کے کاشتکاری ماڈل ایکو فارمنگ کو متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے بتا یا کہ چین میں مذکورہ ماڈل کے تحت ہابرڈ بیج اور پانی کے نظام کو ترقی دیکر اناچ کی پیداوار اور اسکے ذخائر کو حکومتی سطح پر باقاعدہ طور پر مانیٹر کیا جاتا ہے جس سے زرعی پیداوارمیں اضافہ یقینی ہو جاتا ہے۔فےصل آفرےدی نے بتا یا کہ چین میں کل رقبے میں سے صرف 10% فےصد زمےن قابلِ کاشت ہے مگر اس کے باوجود چےن اتنی خواراک پید کرتا ہے کہ اس سے پوری دنےا کی 20% آبادی کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

 ،اُنہوں نے بتاےا کہ اےسااس لئے ہے کہ چےن نے باقاعدہ منصوبہ بندی اور تحقےق کی مدد سے ایکو فارمنگ کا نظام وضع کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میںجلد ازجلد اس ماڈل کو متعارف کراےا جانا چاہیے تاکہ کم وقت مےں زےادہ خوراک پےدا کر کے متوقع غذائی بحران پر قابو پاےا جا سکے ۔فےصل آفرےدی نے مذکورہ نظام کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے بتا یا کہ چےن مےں چاول کی پےداوار کو بڑھانے رائس ڈک فارمنگ ©"Rice Duck Farming" کا طریقہ رائج ہے جس کے تحت چاول کے کھےتوں مےں بطخوں کو پالا جاتا ہے جو کہ کےڑوں مکوڑوں اورفالتو گھاس کو کھا لےتی ہےں جس کی وجعہ سے کسان مشقت سے بھی بچ جاتے ہےں اور فصل کیمیائی جرم کش ادویات سے بھی محفوط رہتی ہے جبکہ بطخ کا فضلہ کھاد کا کام سرانجام دےتا ہے۔انہوں نے چےن اور پاکستان کی فی ہیےکٹر زرعی پےداوار کا موازنہ کرتے ہوے بتاےا کہ پاکستان مےں چاول کی فی ہےکٹر پےداوار3.1ٹن ہے جبکہ چےن مےں چاول کی فی ہےکٹر پےداوار 6.5 ٹن ہے اسی طرح پاکستان مےں دالوں کی فی ہےکٹر قل پےداوار0.6 ٹن ہے جبکہ چےن مےں دالوں کی فی ہےکٹر پےداوار1.2 ٹن ہے جو کہ پاکستان سے دگنی ہے ۔اسی طرح پاکستان مےں گنے کی فی ہےکٹر پےداوار 52.4 ٹن ہے جبکہ چےن مےں گنے کی فی ہےکٹر پےداوار 65.7ٹن ہے۔لہٰذا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چےن کا زرعی ماڈل اس وقت دنےا کا بہترےن اور کارگر نمونہ ہے جس کو پاکستان مےں استعمال کر کے نسلوں کو غذائی بحران سے بچاےا جا سکتا ہے۔فےصل آفرےدی نے کہا کہ پاکستان میں آبادی میں بے بہا اضافے اور مگر غذائی اجناس کی پیداوار میں بدستور کمی کی وجہ سے ذرعی اجناس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو تا جا رہاہے جو مستقبل قریب میں خطرناک غذائی بحران کی شکل اختیار کرنے والا ہے۔جس کے تدارک کیلئے پاکستان میں جلد از جلد ایکو فارمنگ کا نظام رائج کیا جانا چاہیے۔

مزید :

کامرس -