چینی سرمایہ کار مشترکہ منصوبوںمیں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ‘ کاﺅ زی کونگ

چینی سرمایہ کار مشترکہ منصوبوںمیں گہری دلچسپی رکھتے ہیں ‘ کاﺅ زی کونگ

  

لاہور(کامرس رپورٹر) چینی سرمایہ کار پاکستانی تاجروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کا آغاز کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں لہذا دونوں ممالک کے نجی شعبے کو اس سلسلے میں فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار 19ر±کنی چینی وفد کے سربراہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آف بیورو آف فارن ٹرینڈ اینڈ اکنامک کوآپریشن آف گوانگزو میونسپلٹی کاﺅ زی کونگ (Cao Zhicong)نے لاہور چیمبر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینئر نائب صدر میاں طارق مصباح نے اجلاس کی صدارت کی جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی اراکین اسلم چودھری، ممشاد علی، شہزاد وحید، شہزاد احمد، طلحہ طیب بٹ اور چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے پاک چائنا آسیان اکنامک ریلیشنز صدیق الرحمن رانا بھی اس موقع پر موجود تھے۔ چینی وفد کے سربراہ نے کہا کہ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی عالمی معاشی صورتحال نے پاکستان اور چین کے لیے تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں جن سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہو ںنے کہا کہ پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہترین جگہ ہے اور بہت سے چینی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ چین پاکستان کا بہترین اور قابلِ اعتماد دوست ہے جس نے پاکستان کی معاشی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین کے اشتراک سے پاکستان میں بہت سے منصوبے کامیابی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہونے سے ساری قوم کو مایوسی ہوئی مگر امید ہے کہ جلد ہی چینی صدر پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں کے دوران پاکستان میں چینی سرمایہ کاری پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، اگرچہ پاکستان کی چین کو برآمدات بڑھ رہی ہیں ۔

لیکن تجارت کا توازن چین کے حق میں ہے۔ میاں طارق مصباح نے کہا کہ دونوں ممالک کی پوٹینشل کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارت میں کئی گنا اضافہ کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی درآمد کنندگان کو پاکستان کے کارپٹ، لیدر اور لیدر مصنوعات، آلات جراحی، کھیلوں کے سامان، پھلوں، سبزیوں، چاول، فارماسیوٹیکل اور کپاس کے شعبوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی طرح دونوں ممالک تعمیرات، ہوٹلز، سیاحت، ایس ایم ای سیکٹر، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کارپوریٹ فارمنگ اور فوڈ پراسیسنگ وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کا آغاز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں چینی مہارت پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر نے چینی وفد کو آگا ہ کیا کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے آئی ایف سی کے اشتراک سے لاہور چیمبر میں ثالثی سنٹر قائم کررکھا ہے جو کاروباری برادری کو مقامی اور بین الاقوامی تجارتی تنازعات عدالت سے باہر نمٹانے میں مدد دے رہا ہے۔

مزید :

کامرس -