حالیہ سیلاب سے آم کے باغات کو پہنچنے والے نقصانات کو محکمہ زراعت

حالیہ سیلاب سے آم کے باغات کو پہنچنے والے نقصانات کو محکمہ زراعت

  

لاہور( اے پی پی )محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین نے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب سے آم کے باغات کو پہنچنے والے نقصانات کو محکمہ زراعت کی تجویز کردہ سفارشات پر عمل کرکے کم کیا جا سکتا ہے، سیلاب تھوڑے دن رہے یا زیادہ دن یہ پودے کو ضرور متاثر کرتا ہے اس لئے کاشتکار پودوں کی جڑوں کی بہتر نشوونما کے لئے فاسفورس اور پوٹاش والی کھادیں ضرور ڈالیں۔ ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے بتایا کہ وہ باغات جہاں سیلاب سے پودے مرجائیں اور علاج ممکن نہ ہو تو ان پودوں کو نکال کر نئے پودے لگائیں، کاشتکاروں کو چاہئے کہ آم کے باغات میں کھڑا پانی جلد از جلد نکال دیں اور پودوں کے تنوں کو صاف کردیں۔ انہوں نے کہاکہ تنوں پر 4فٹ اونچائی تک بورڈیکس پیسٹ لگانے سے پودوں کے تنوں کو بیماریوں کے حملہ سے بچایا جا سکتا ہے۔ پودوں کی حفاظت کےلئے بورڈوپیسٹ تیار کرنے کے لئے ایک کلوگرام چونا، ایک کلوگرام کاپر سلفیٹ (نیلاتھوتھا) اور 10سے 12لیٹر پانی استعمال کریں۔ آم کے پودوں پر کاپرآکسی کلورائیڈ 250گرام یا تھائیوفینیٹ میتھائل 250گرام یامیٹالکسل + مینکوزیب 250گرام 100لیٹر پانی میں ملا کر 15دن کے وقفہ سے دو بار سپرے کریں۔ باغات میں موجود پودوں کی بیماریوں سے متاثرہ سوکھی ہوئی شاخوں کو کاٹ کر جلا دیں ۔

یا زمین میں گہرا دبا دیں۔ باغات سے پانی نکالنے کے بعد زمین وتر آنے پر ہلکا ہل چلائیں یا کّسی سے آم کے پودوں کے نیچے ہلکی گوڈی کریں تاکہ چکنی مٹی کی وجہ سے بنی ہوئی سخت تہہ ٹوٹ جائے اور آکسیجن کا گزر آسان ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ جن باغات میں سڈن ڈیتھ (اچانک مرجھاﺅ) کا حملہ ہو وہاں ہل چلانے سے اجتناب کیا جائے۔ اگر ضرورت ہو تو نمی کو جذب کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لئے 2کلوگرام ایمونیم نائٹریٹ اور 80تا 100کلوگرام گوبر کی گلی سڑی کھاد فی پودا ڈالیں۔ باغات میں گرے ہوئے متاثرہ پھل کو اکٹھا کرکے جلا دیں یا زمین میں گہرا دبا دیں کیونکہ باغات میں گرا ہوا پھل منہ سڑی، پودوں کے مرجھاﺅ جیسی بیماریوں کو پھیلانے اور پھل کی مکھی کی افزائش نسل کا سبب بنتا ہے۔

 

مزید :

کامرس -