سیلاب معشیت کی شرح نمو میں 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے : حفیظ پاشا

سیلاب معشیت کی شرح نمو میں 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے : حفیظ پاشا

  

  اسلام آباد (اے پی پی) حالیہ تباہ کن سیلاب کی وجہ سے ملکی معیشت کی متوقع شرح نمو میں 50 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے جبکہ سیلاب سے ملکی معیشت کو 500 تا 600 ارب روپے کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ معروف اقتصادی ماہر اور سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ حالیہ سیلابوں سے پنجاب اور سندھ بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس سے ملک کی اقتصادی شرح ترقی 2.5 فیصد تک کم ہوسکتی ہے جبکہ رواں مالی سال کےلئے شرح نمو میں اضافہ کا تخمینہ 5.1 فیصد لگایا گیا تھا۔ سیلابوں کی تباہ کاریوں کے باعث ملک معیشت کی شرح ترقی میں 50 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملکی معیشت کو سیلاب سے پہنچنے والے نقصان کے اعدادوشمار حال ہی میں کئے گئے فیلڈ سرویز سے اخذ کئے گئے ہیں جبکہ اقتصادی شرح نمو میں ہونے والی کمی کا بنیادی سبب شعبہ زراعت کو پہنچنے والا بھاری نقصان ہے۔ حکومت نے ملک اقتصادی ترقی کےلئے مختلف میکرو اکنامک اہداف کا تعین کیا تھا جن میں شرح نمو میں اضافہ، تجارتی خسارے، افراط زر اور غیر ملکی قرضوں میں کمی شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2014-15ءکےلئے زراعت کے شعبہ کی شرح نمو کےلئے 3.3 فیصد اور صنعتی شعبہ کےلئے 6.8 فیصد کے اہداف کا تعین کرکے ملکی معیشت کی مجموعی ترقی کا ہدف 5.1 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ حکومت کی بہتر اور کامیاب اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے افراط زر کی شرح ماہ اگست میں 7 فیصد تک کم ہوئی تھی تاہم حالیہ نقصانات سے افراط زر کی شرح میں دوبارہ اضافہ کا بھی امکان ہے اور یہ پھر 9 سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ کن بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں ملکی معیشت کو پہنچنے والے بھاری نقصانات سے عہدہ برا ہونے کےلئے پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی حل نہیں آتا کہ وہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگراموں کے فنڈز کو بحالی کےلئے استعمال کرے۔ انہوں نے کہا سیلاب سے کپاس اور چاول کی فصلوں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے جبکہ اس سے گندم کی کاشت میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے جس کا آغاز آئندہ ماہ ہورہا ہے جبکہ لائیو سٹاک کے شعبہ کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔

 

مزید :

کامرس -