دھرنے کا دجل داخلِ دفتر ہوا

دھرنے کا دجل داخلِ دفتر ہوا
 دھرنے کا دجل داخلِ دفتر ہوا
کیپشن: 1

  

خواب تو بڑا مسحور کن اور مبہوت کر دینے والا تھا مگر برا ہو تعبیر کا ،تدبیر تو توانا تھی لیکن تقدیر نے اسے ناتواں بنا دیااور پھٹ پڑے قسمت کہ منزل جب قریب آئی تو نصیب نے نیند لے لی ۔دارالحکومت میں دھرنا دینے والوں کا خواب تو کب کا ٹوٹ چکا ،تدبیر چلے ہوئے تیر کی مانند رائیگاں گئی اور بخت نے بھی یاوری کب کی؟اب حکومت کو بھی دھرنا دینے والوں کو گھر بھیجنے کی تمنا کہاں کہ خوف و خدشات کے گہرے ہوتے سائے سمٹ چکے ،ندی چڑھ کر اتر چکی ،آندھی آ کے گزر گئی اور با اسالیب مختلف یوں کہئے کہ پھولا ہوا یا پھیلایا ہوا غبارہ پھٹ پڑا۔ اب چہار سوٹوٹی ہوئی طنابیں اورکٹے پھٹے خیمے ہیں ۔ادھڑے ہوئے خیموں کے باہر بکھری پڑی اشیاءصاف کہانی سنانے چلی ہیں کہ شکستہ دلوں اور ٹوٹے حوصلے کے مکینوں پر مایوسی و پژ مردگی طاری ہے ۔یہ الگ بات کہ مات کھائے ہوئے لشکر نے ہنوز مورچے نہیں چھوڑے۔

چھوڑیں بھی تو کیسے ؟حکام مذاکرات کی میز سے اٹھ گئے ہیں کہ جب دریا چڑھا ہوا تھا تو انقلابیوں اور سونامیوں نے ایک نہ سنی ،وہ مان کر نہیں دیئے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ مذاکرات کرنا بھی نہیں چاہتے تھے کہ ان کا منصوبہ اور ایجنڈا بذریعہ فساد و بلوہ تخت گرانااور تاج اچھالنا تھا ۔دھرنے کے بچھڑے میں روح پھونکنے کا تب سنہری وقت تھا جب پی ٹی وی کی عمارت پر مشتعل کارکنان نے دھاوا بولا تھا ۔جلاو¿ گھیراو¿،تھوڑ پھوڑ اور چھینا جھپٹی کا منظر تھا کہ آسمان کی نیلی بوڑھی آنکھیں بھی حیرت سے تکا کیں کہ پل بھر میں یہ کیا ماجرا ہو گیا ۔گماں گزرتا تھا کہ نادر شاہ ہرات سے اٹھ کر دہلی پر حملہ آور ہونے چلا ہے اور دہلی ہے کہ دہل رہی ہے ۔کیل کانٹوں اور ڈنڈے سوٹوں سے لیس ہمارے اپنے ہی بھائی ریاستی املاک کو یوں تباہ کرنے چلے تھے جیسے وحشی و اجڈ منگول دشمن کی سرزمین کو ۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ اُس وقت دھرنے کے دعوے دار ساتھ ساتھ داد خواہی کی دہائی بھی دیا کیے یاس یگانہ چنگیزی نے کیا خوب کہاہے:

وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

 دھرنے کا دجل داخل دفتر کرنے میں بنیادی و جوہری کردار وقت نے ہی اد اکیا ورنہ حکومت تو ٹک ٹک دیدم ،دم نہ کشیدم کی عملی تصویر بنی پڑی تھی۔دھرنے والے جب اپنے اقبال و عروج پر کھڑے دھاڑا کیے اور ساتھ ساتھ ریاستی عملداری کو عملًامفلوج و معطل کیا کیے، تب باغی کی بازگشت نے پانسہ ہی پلٹ ڈالا۔پھر آنے ولا ہر لمحہ انہیں زوال کے مدار اور منطقے میں ہی دھکیلا کیے اور نوبت با ایں جا رسید شیر کی دھاڑ اب بلی کی میاو¿ں معلوم ہوتی ہے ،جسے سن کر لمحہ بھر کو ہونٹوں پر ہنسی پھیل جاتی ہے ۔بوڑھا شیر کہ جس کے پنجے اکھڑ اور دانت جھڑ چکے ہوتے ہیں ،تن من اور پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر جب دھاڑتا ہے تو منہ سے ہلکی سی آواز ہی نکال پاتا ہے اور بس۔یہی وجہ ہے کہ حکام پہلے دھرنے والوں کے پاو¿ں پڑتے تھے اور اب پگڑی پکڑتے ہیں کہ انہیں خوب معلوم ہے دھرنے کا دارا وقت کے سکندر سے مات کھا چکا ۔اب حکومت کی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی یہی ٹھہری کہ بس بے بسی سے تماشا دیکھتے جاو¿اور لبوں پر مسکان بھی مت لاو¿۔ اب دھرنوں کو مذاکرات سے دور رکھ کر بے یارومددگار کرنا اور ان کے ناز نخرے نہ اٹھانا ہی حکومت کی پالیسی ہے۔ گویا حکومت اب انہیں فراموش کر چکی اور ویسے وقت بھی آگے بڑھ گیا ہے۔ میڈیا کی محدود کوریج نے بھی دھرنوں کا جوبن لوٹ لیا ہے اور تھکے ہارے لوگ بھی اب اپنے گھروں کی راہیں دیکھنے لگے ہیں۔ دھرنے کی طوالت ہی کیا کم تھی کہ اوپر سے دفاعی اداروں میں چوٹی کے تقرر وتبادلے نے ایک ساتھ آسمان گرا دیااور زمین پھاڑ ڈالی ،گویا وہ شاخ ہی نہ رہی جس پر آشیانہ تھا ۔

ایک لحاظ سے یہ سب درست اور صائب ہوا کہ اگر شیخ الاسلام کو مذاکرات کے ذریعے دھرنے کے کے۔ٹو پہاڑ سے نیچے اتارا جاتا تو وہ یقینا سحر انگیز مبالغے کے ساتھ فتح کے پھریرے لہراتے اوراپنی جیت کے ترانے گنگناتے رخصت ہوتے۔اور ان پر شادمانی و سرشاری کی ایسی کیفیت طاری ہوتی کہ شاید و باید ۔پھر کیا پتہ آنجناب کے آبگینوں کو کب ٹھیس لگتی اور وہ پھر سے ایسی ہی مہم جوئی اور مشق دہرانے نکل کھڑے ہوتے ۔حسرت موہانی کی ماند وہ چکی کی مشقت بھی جاری رکھتے اورمشقِ سخن بھی ۔تکلف برطرف! دم توڑتے دھرنے کو اب کسی دم درودسے بھی ولولہ تازہ نہیں دیا جا سکتااور کسی بھی تیل سے یہ چراغ اب دوبارہ روشن نہیںہو سکتا۔دھرنے کی دلفریب داستاںاب اختتام کو پہنچی ،اگرچہ ایسی داستانیں کب اختتام کو پہنچتی ہیں ۔

مزید :

کالم -