عمران خان کا جلسہ ءلاہور

عمران خان کا جلسہ ءلاہور
عمران خان کا جلسہ ءلاہور
کیپشن: 1

  

مَیں عمران خان کے پرستاروں میں تو نہیں ہوں، لیکن خدا لگتی بات یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کی بے روزگار، تعلیم یافتہ یا نیم خواندہ اور نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ دی ہے۔وہ جس نئے پاکستان کا نام لیتے ہیں وہ ہے تو ایک ملک کا نام اور ملک ہمیشہ سنگ و خشت، سیمنٹ، گارے، بجری اور لکڑی سے بنتے ہیں۔لیکن یہ خود بخود نہیں بن جاتے ، نہ ہی خود بخود ان میں آب و تاب آتی ہے۔ان کو انسان بناتے ہیں اور انسانوں کی عمروں اور عقلوں کے پیمانوں کو مدنظر رکھ کر بات کی جائے تو نوجوانوں کا حصہ بہ نسبت بڑے بوڑھوں کے زیادہ ہوتا ہے۔جہانِ تازہ، افکارِ تازہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ان کے لئے سنگ و خشت کی بجائے نادر اور جدید افکار کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی افکار ہیں جو اعمال کے پیشرو ہیں۔کوئی عمل، بغیر فکر کے ظہور میں اگر آتا بھی ہے تو الل ٹپ کہلاتا ہے، ناقابلِ یقین ہوتا ہے اور کسی بھی معاشرے کی مثبت تعمیر، ایسے عمل سے ممکن نہیںہوتی۔

پرسوں رات 28ستمبر2014ءکو عمران خان نے لاہور میں جو جلسہ کیا، میں اس پر کچھ تبصرہ نہیں کروں گا کہ اس کی ضرورت ہی نہیں۔میں صرف عمران خان صاحب کی ان درجنوں تقاریر کا ذکر بھی نہیں کروں گا جن کا نہ صرف متن ایک ہوتا ہے بلکہ طرزِ ادا، اسلوبِ گفتار، صوت و صدا کا نشیب و فراز اور آہنگ و ترنگ تقریباً مضمون واحد والا معاملہ ہوتا ہے۔چاہیے تو یہ تھا کہ لوگ اس تکرارِ مکرر سے بور ہو جاتے اورکئی بار ایک ہی وعظ سن سن کر کبھی جلسہ گاہ کا رخ نہ کرتے.... عمران خان صاحب سے پہلے بھی جو مقررین تشریف لاتے ہیں، ان کو میڈیا کی مہربانیوں نے گویا عوام و خواص کا یارانِ دیرینہ بنا ڈالا ہے۔وہی چہرے، وہی گھن گرج، وہی”گو نواز گو“ کی گردانیں اگر 45،50 روز تک مسلسل کسی کے کانوں میں پڑتی رہیں تو ایک وقت آتا ہے جب من و سلویٰ بھی نامرغوب ہو جاتا ہے.... پھر وقفے وقفے سے سازینوں کی وہی گونج، وہی اشعار، وہی دھنیں اور وہی ترانے سن سن کر سامعین آخر کب تک جھومتے جھامتے رہ سکتے ہیں۔ایک لمحہ آتا جب تکرارِ صوت، سماعت پر گراں گزرتی ہے۔

لیکن اس بار بار کی ”دہرائی“ اور ”تکرار“ کے باوجود بھی اگر عمران خان کے جلسوں اور دھرنوں میں لوگ ٹوٹ ٹوٹ کر آئے پڑتے ہیں اور پھر جانے کا نام نہیں لیتے تو آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ اس کی اناٹومی کیا ہے۔

کسی فارسی شاعر کا شعر ہے کہ اگر اندھیرا زیادہ ہو تو زیادہ شمعیں روشن کرو.... اگر سامعین کسی نغمے کو بار بار سننے سے اکتانے لگیں تو اپنی لَے کو مزید اونچا کر دو اور اگر آپ ساربان ہیں اور صحرا میں اپنے اونٹوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ تھک کر سست رفتار ہو گئے ہیں تو ”حدی“ کو تیز تر اور بلند تر گانا شروع کر دو۔

نوا را تلخ ترمی زن جو ذوقِ نغمہ کم یابی

حدی را تیز تر می خواں چو محمل راگراں بینی

جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں ۔عمران خانی جلسوں میں نژادِ نو کے ہجوم کے پس پشت پانچ بڑے پاور فل عناصر اور اسباب ہیں....

اول یہ کہ غریب غربا اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور اس کے مقابلے میں امرا و رﺅسا مئے غفلت میں بدمست ہیں.... دوم یہ کہ اقوام و ملّل کی عالمی برادری میں پاکستان کی توقیر اب تذلیل بنتی جا رہی ہے.... سوم یہ کہ حکمران طبقہ اللّے تللّوں سے باز نہیں آتا.... چہارم یہ کہ پڑھا لکھا نوجوان کسی نہ کسی طرح، کسی نہ کسی پیمانے پر پڑھنا لکھنا تو سیکھ جاتا ہے لیکن معاشرے میں اس کو ضم کرنے اور اس سے کام لینے کا کوئی حکومتی پروگرام نہیں۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کا وجود بیکار محض ہے۔یہی حال ملک کی نوجوان اور تعلیم یافتہ لڑکیوں کا بھی ہے۔ان کو آپ اگر شعور و ادراک کی کسی سطح پر ایجوکیٹ کر دیں اور پھر ان میں اور جاہل لڑکیوں میں کوئی فرق نہ کریں تو سوسائٹی کا اوسط وژن والا ترازو ڈگمگانے لگے گا.... اور پنجم یہ کہ اگر آپ کو اپنے مستقبل کے علاوہ اپنے بچوں کے مستقبل کی طرف سے بھی ناامیدی ہو تو ایسی یاسیت ، باقاعدہ پہلے بیزاری اور پھر بغاوت کی شکل اختیارکر لیتی ہے۔

میرے نزدیک یہی وہ چار پانچ وجوہات ہیںجو عمران خان کی تقاریر کی یکسانی کو قابلِ توجہ بناتی اور پاکستان کی غالب آبادی کو گوش برآواز رکھتی ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی شخصیت (بطور سیاستدان) ابھی ناآزمودہ ہے۔ان کے پاس اگرچہ پاکستان کے ایک صوبے کی باگ ڈور ضرور ہے لیکن یہ کیا ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنے صوبے ہی کو گل و گلزار بنانے تک محدود رکھیں اور باقی پاکستان کی طرف نہ دیکھیں کہ خزاں رسیدہ ہو رہا ہے۔بڑی شخصیات کی فکر ایک خاص قطعہ ءزمین تک تو محدود نہیں رہتی۔2013ءکے الیکشنوں سے پہلے مجھے ہر گز یقین نہ تھا کہ تحریک انصاف، پختونخوا میں اتنی سیٹیں لے جائے گی کہ حکومت بنا سکے گی۔لیکن اس کے ساتھ یہ یقین بھی نہ تھاکہ نون لیگ اس طرح جیتے گی کہ سارے گزشتہ ”ریکارڈ ٹوٹ“ جائیں گے۔

میری یہ تحریر شائد بہت سے حضرات پر گراں گزرے ۔ میں نے قبل ازیں کہا ہے کہ تحریک انصاف ہنوز ناآزمودہ ہے اس لئے اس کے بارے میں یہ حکم لگانا بڑا مشکل ہوگا کہ اگر کل کلاں اس کی حکومت اسلام آباد میں بن بھی گئی تو اس کے تمام امروزہ وعدوں کا ایفاءحسب توقع ہو سکے گا۔عمران خان صاحب کی کور کمیٹی کے کئی اراکین بھی چونکہ ہنوز ناآزمودہ ہیں اس لئے ان کے بارے میں بھی کوئی حکم نہ لگانا ہی بہتر ہوگا۔ شفقت محمود، اسد عمر، عارف علوی، اعظم سواتی، جہانگر ترین، اعجاز چودھری، محمود الرشید کے علاوہ تحریک انصاف کے وہ نوجوان مرد و خواتین جن کو ہم اکثر ٹیلی ویژن پر سنتے ہیں، تازہ ہوا کے خوشگوار جھونکے ہیں۔ان کازورِ بیان، طرزِ استدلال اور حالات حاضرہ پر ان کی گرفت ان کے سیاسی مستقبل کی روشن دلیل کہی جا سکتی ہے۔پھر خورشید محمود قصوری، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید کی طرح کے وہ آزمودہ سیاست دان بھی ہیں جن کے دامن کسی کرپٹ پریکٹس سے آلودہ نہیں۔آنے والے کل میں اگر تحریک انصاف مرکز میں حکومت بنانے کی اہل ٹھہرتی ہے تو اس کو قحط الرجال کا وہ مسئلہ درپیش نہیں ہوگا جو ملک کی دوسری سیاسی پارٹیوں کو درپیش ہے۔دوسری سیاسی پارٹیوں کے پاس ویسے تو بہت سے عقاب ہیں اور اگر کوئی فاختہ ہے بھی تو وہ بھی عقابوں میں رہ رہ کر خوئے عقابی اختیار کر چکی ہے، لہٰذا ہمہ خانہ آفتاب ہے....رانا ثناءاللہ، رانا مشہود، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف، چودھری نثار وغیرہ ایسی ٹیم نہیں بن سکے جو اپنے لیڈر کو کوئی صائب مشورہ دے سکتی اور صد حیف کہ دوسری طرف خود لیڈر میں بھی اپنے ماضی سے سبق اندوز ہونے کا وژن موجود نہیں۔

میں نے کئی بار سوچا ہے کہ اگر عمران خان منہ پھٹ ہونے کی حدوں تک بے باک نہ ہوتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔سیاست کی دنیا میں مثبت اخلاقی روایات میں ایک روائت یہ بھی ہے کہ سیاستدان اپنی زبان کو 32دانتوں کے کنٹرول میں رکھتا ہے اور سخن کو ہاچ ہاچ اور واہی تباہی سے آلودہ نہیں ہونے دیتا۔ لیکن پھر یہ خیال بھی آیا کہ اگر سیدھی انگلیوں سے گھی نہ نکلے تو ان کو اوک بنانا پڑتا ہے۔پاکستانی میڈیا نے کئی برس سے ملک کے ہر طبقے کو نشانہ ءتضحیک بنانے کا جو پروگرام وضع کر رکھا تھا، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عوام خطاب و تقریر کے اخلاقی اصول فراموش کرتے چلے جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ جب کسی لیڈر میں اپنے دل کی آواز کی بازگشت سنتے ہیں تو جھومنے لگتے ہیں.... عمران خان کے جلسوں میں خود ان کی تقریرکی اخلاقیات اور حاضرین جلسہ کا، اس ”طرز اخلاقیات“ کو والہانہ شرفِ پذیرائی بخشنا شائد ہمارے موجودہ سماجی حالات کا جبر ہے جو اگرچہ ناپسندیدہ کہا جائے گالیکن کیا کیا جائے کہ : ”زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی!“

1969ءیا شائد 1970ءکے اوائل کی بات ہے۔کراچی میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کیا تھا۔میں ان دنوں کراچی میں ایک کورس کررہا تھا۔ہم نئے نئے نیم لفٹین بنے تھے۔ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ مزار قائد پر جا کربھٹو کا ”تماشا“ دیکھتے ہیں۔بھٹو مرحوم نے ان ایام میں تاشقند کے ”اصلی رازوں“ کو بے نقاب کرنے کی مہم چلائی ہوئی تھی اور لوگ 1965ءکی جنگ میں ”پاکستانی فتح“ کو شکست میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری صدر ایوب پر ڈال رہے تھے۔اس لئے ہم نے خیال کیا بھٹو صاحب شائد تماشا کررہے ہیں۔

بھٹو صاحب کا مخصوص اور نرالا اندازِ تقریر انہی ایام میں تخلیق پا رہا تھا۔وہ پہلے اپنے بازوﺅں کے کف اوپر چڑھاتے تاکہ دست و بازو آزاد ہو سکیں اور ان کو تیزی سے ”ہُلارا“ دیا جا سکے۔پھر وہ اپنی ٹائی کی گرہ کھولتے، پھر کوٹ اتارتے اور آخرمیں سر کو ٹوپی سے آزاد کرکے اور ماتھے پر زلفیں لہرا لہرا کر حاضرین کو مبہوت کر دیتے تھے۔

اسی جلسے میں جناب بھٹو نے کہا تھا کہ ”اگر میری قوم بے وقوف ہے تو میں خود سب سے بڑا بے وقوف ہوں۔بے وقوفوں کی قوم کو عقلمند لیڈر، لیڈ نہیں کر سکتا۔بکریوں کے ریوڑ کے چرواہے کو خود بھی بڑی بکری (یا بکرا؟)بننا پڑتا ہے!“.... ان کے یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں ایک لازوال حقیقت بن کر گونج رہے ہیں۔

اس تناظر میں اگر عمران خان منہ پھٹ ہے تو یہ پاکستانی قوم کی عمومی اخلاقی کیفیت کی ترجمانی ہے۔ خلقِ خدا جب تنگ ہوتی ہے تو بجنگ ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے!

مزید :

کالم -