خواب سہانا ضرور ہے، لیکن ....!

خواب سہانا ضرور ہے، لیکن ....!
خواب سہانا ضرور ہے، لیکن ....!
کیپشن: 1

  

سراج الحق جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ جمعہ کے روز سندھ کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے تھے۔ جماعت کے صوبائی رہنماﺅں نے سندھ میں ان کا دورہ ہوائی دورہ بنا دیا ۔ زیرین سندھ کے زیادہ سے زیادہ علاقوں کا دورہ کرا دیا۔ جلسے اور تقاریر کر دی گئیں، لیکن کہیں بھی ایسا نہیں کیا گیا کہ جماعت سے وابستہ ہمدرد، متفقین اور اراکین کے ساتھ ان کی نشست کا اہتمام کیا جاتا، تاکہ لوگ ان نے بالمشافعہ گفتگو کر پاتے۔ کچھ اپنی سنا پاتے، کچھ ان سے سن لیتے۔ سندھ میں جماعت اسلامی کی ہر ضلع میں تنظیم تو موجود ہے ۔ کارکنوں کا ایک مخصوص طبقہ بھی ہے جو کسی نتیجے کے حصول کے بغیر کام کئے چلے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی سیاست کرتی ہے۔ سیاست میں جہاں کارکن اثاثہ ہوتے ہے وہیں ہمدرد، حامی، اور ووٹر سیاسی جماعت کے لئے خزانہ ہوتے ہیں۔ تجوری کی دیکھ بھال کرنے والے تو موجود ہیں، لیکن تجوری خالی ہو تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ سراج الحق کا حیدرآباد میں جلسہ خاصا متاثر کرنے والا تھا۔ جماعت سے تعلق رکھنے والے سامعین کی تعداد نمایاں تھی، لیکن شہریوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جس کا جماعت کو اہتمام ضرور کرنا چاہئے تھا۔ میاں طفیل محمد ، قاضی حسین احمد، منور حسن، امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے حیدرآباد اور اندروں سندھ دورے کرتے رہے ہیں، لیکن ان دوروں کے باوجود عام لوگوں میں جماعت اسلامی کسی کشش کا سبب نہیں بن سکی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی گلی گلی کارکن نہیں پیدا کر سکی۔ ماضی میں جو کچھ بنایا تھا اسی پر گزارہ رہا ،بلکہ وہ بھی سکڑ گیا ہے۔ ایک زمانہ میں مولانا جان محمد عباسی صوبائی امیر تھے۔ ان کے بعد مولانا اسد اللہ بھٹو صوبائی امیر منتخب ہوئے ۔ وہ گزشتہ کئی سالوں سے اس عہدے پر مقرر ہیں، لیکن جماعت اسلامی محدود ہی رہی۔اکابرین کے پاس تنگی وقت ہے۔ ہوائی دورے تو انتخابات کے دوران ہی کئے جاتے ہیں ،وگر نہ بہت زیادہ وقت ملاقاتوں پر دینا پڑتا ہے۔ ایک جماعت ہی کیا، اکثر سیاسی جماعتوں کو امر بیل لگ گئی ہے جو کسی اور بیل کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں دیتی ہے۔

سراج الحق کی تقریر کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی تقریر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی ان کے دھرنوں کے دوران کی جانے والی تقاریر کی کتاب کا ہی اگلا صفحہ لگتی تھی۔ ان کی تقریر کے چند نکات کچھ یوں تھے۔

٭.... اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی پنڈتوں اور برہمنوں کو چھوڑ دیں اور ایسی جمہوریت کو خیر باد کہہ دیں، جس میں غریب کا بچہ پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا ہو‘ وزیر اعظم نہیں بن سکتا ہو‘ ہمیں ایسی سیاست کو تین طلاقیں دے دینی چاہئیں۔

٭.... ساٹھ سال سے کرپٹ لوگوں نے آپ کو استعمال کیا ہے اور نسل در نسل آپ ان کی کیوں بندگی کر رہے ہو ؟

٭.... ظلم اور غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پارٹیاں بدلنے والے بازی گروں سے بچنا ہوگا۔

٭.... آپ لوگوں نے 1970ءسے مسلسل جدو جہد کی، لیکن چالیس پچاس سال گزر گئے ، نہ روٹی ملی، نہ کپڑا ملا، نہ مکان۔

٭.... پی پی ،مسلم لیگ ،ایم کیوایم کوباربارآزمایا،لیکن عوام کی حالت نہیں بدلی اگر بدلی ہے تومٹھی بھر اشرافیہ کی قسمت بدلی ہے ۔

٭.... مٹھی بھر کرپٹ اشرافیہ نے وسائل پر قبضہ کر لیا، بنکوں کو لوٹا، تمام قومی اداروں کو تباہ کر دیا۔ پیسہ جمع کر کے باہر لے گئے۔

٭.... عورتوں کے پاﺅں میں جوتی نہیں ہے، پھول جیسے بچے ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں، میرے ملک کے غریب لوگ گندگی کے ڈھیر پر سونے پر مجبور ہیں۔

٭.... یہ کیسا ملک ہے جہاں وڈیروں کے کتے پلاﺅ کھاتے ہیں اور انسان کا بچہ عزت کی روٹی سے محروم ہے۔ دھکے کھاتا ہے۔

٭.... مثبت کام کرنے والوں کوامریکہ سے کیاگلہ کرناچینل ہی کوریج نہیں دیتے ۔چینل والوں سے گلہ کرتا ہوں کہ اگر ہم اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو کسی کو رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔

٭.... ملک میں دو طبقات ہیں ، اشرافیہ نہیں چاہتی کہ عوام کی حقیقی حکومت قائم ہو اور پاکستان قائد اعظمؒ کے خوابوں کی تعبیر بن سکے ۔

٭.... یہ کیسا ظلم ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی ملک میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں اور یہاں کی اشرافیہ عوام کا خون چوس کر باہر کے بنکوں میں پیسہ لے جاتی ہے ۔

٭.... میں دو مرتبہ کے پی کے کا صوبائی سینئر وزیر خزانہ رہا ہوں میں نے اشرافیہ کے اللے تللے دیکھے ہیں یہ غریب عوام کا درد نہیں رکھتے ۔

٭.... 2002ءمیں جب پہلی مرتبہ خیبرپختونخواہ کا وزیر خزانہ بنا تو اسلام آباد کو بہت قریب سے دیکھا‘ اسلام آباد کا حکمراں طبقہ اور بیورو کریسی کا ایک ہی نصب العین ہے وہ یہ کہ اپنے لئے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کی جاسکے اور عوام کے لئے وہ کچھ نہیں سوچتے ۔اپنے کتے کا خیال رکھتے ہیں، عوام کا خیال نہیں رکھتے۔ ان سے توقع کرنا عبث ہے۔

٭.... ہمیں باہر سے پیسے کی ضرورت نہیں ہے۔ فنانشل منیجمنٹ کی ضرورت ہے۔

٭.... نئے دفاتر کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈی سی اور ایس پی کو مساجد میں بٹھائیں گے۔ مساجد کو دوبارہ مرکز بنائیں گے۔

٭.... قائد اعظم نے پاکستان کرپٹ اشرافیہ، افسران اور سیاست دانوں کے لئے نہیں بنایا تھا، بلکہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا ۔

 سراج الحق کی تقریر کے کسی نکتے یا حصے سے انکار ممکن نہیں ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے پاکستان عوام کا نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ خواص کا ملک بنا دیا گیا۔ اس ملک کو دوبارہ عوام کا ملک بنانے کے لئے سراج الحق ، عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کھلے عام جدو جہد کر رہے ہیں، لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ پاکستان کو عوام کا ملک کیسے بنایا جا سکے گا؟.... ایک طریقہ تو بظاہر انتخابات کا راستہ ہے۔ پاکستان میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر 1970ءسے 2013 ءتک دس بار عام انتخابات ہو چکے ہیں۔ ہر انتخابات کے بعد عام پاکستانی کو دھکہ اور دھوکہ ہی ملا ہے۔ اب تو چند مخصوص خاندانوں نے ایسی اجارہ داری قائم کر لی ہے جو اپنی ہی پارٹی میں موجود رہنماﺅں کے درمیاں توازن قائم نہیں رکھ پارہے ہیں۔ جس طرح امیر بخش جونیجو کے بیٹے عزیز جونیجو نے 2013 کے انتخابات کے دوران انہیں د ئے جانے والے صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ پر اپنی زوجہ پروین کو منتخب کر ادیا تھا تاکہ بوقت ضرورت پروین کو مستعفی کرا کے وہ منتخب ہو سکیں گے، لیکن پیپلز پارٹی والوں کی باجی فریال تالپور کی کوشش کے باوجود پروین اپنے شوہر کے سامنے ڈٹ گئی ہیں اورمو¿قف اختیار کیا ہے کہ ان سے زبردستی استعفے کے کاغذات پر دستخط کرائے گئے ہیں ، جس کی انکوائری کا حکم بلاول بھٹو نے دے دیا ہے۔ پیپلز پارٹی عوام کی جماعت کہلاتی ہے ،لیکن اس کا ٹکٹ مخصوص افراد کے کے لئے ہی مخصوص ہے جیسا امیر بخش جونیجو کے سرکاری ملازم بیٹے عزیز جونیجو کے لئے ہوا۔ عزیز کی جگہ ٹکٹ کسی اور اہل امیدوار کو دیا جاسکتا تھا ،لیکن پارٹی کی قیادت اب امیدوار سے زیادہ اس کی مالی حیثیت پر نظر رکھتی ہے تاکہ امیدوار ہر قیمت پر منتخب ہونے کی اہلیت رکھتا ہو۔ امیر بخش 1970ءمیں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے تھے ۔ ہر بار ٹکٹ انہیں ہی دیا گیا۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو ان کے بیٹے کو ہی ان کا سیاسی وارث بھی قرار دیا گیا۔ مخصوص خاندانوں میں ہی ٹکٹ کی تقسیم پارٹی قیادت کی اس کمزوری کا نشاندہی کرتی ہے کہ اب وہ قیادت نہیں رہی جو اگر کھمبے پر بھی ٹکٹ باندھ دیتی تھی تو عوام اسے ہی منتخب کر لیا کرتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے لئے وقت بھی اب 1970ئ، 1988ءاور 2008 ءجیسا نہیں رہا ہے۔ پارٹی سے وابستہ دیگر لوگوں کا کام شائد اب صرف نعرے لگانا ہی رہ گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بعض سیاسی جماعتوں نے اپنے قریبی رشتہ دار منتخب کرانے کی جو بدعت شروع کی ہے اس نے جمہوریت کا پول ہی کھول دیا ہے۔ اگر قریبی رشتہ دار نہ ہو تو دور کا رشتہ دار ہی سہی، قائد کا رشتہ دار نہ ہو تو زوجہ کا رشتہ دار ہی صحیح۔ عام لوگ ہی نہیں، بلکہ خود ان سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایسی جمہوریت سے ہی باز آئے ۔

سراج الحق کا خواب بڑا ہی سہانا ہے، لیکن انتخابات کے راستے سے تو اس خواب کی تعبیر ملتی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ خواب پاکستانی عوام 1970ءسے خاص طور پر دیکھ رہے ہیں ،لیکن اس تماش گاہ میں انہیں اس کی تعبیر نہیں ملتی۔ اگر انتخابی راستہ پر ہی سفر جاری رکھا جائے اور اسے ہی درست قرار دیا جائے تو کبھی حکومت، کبھی مرضی کی حکومتیں بنوانے والے، بھی الیکشن کمیشن ، کبھی پولنگ کرانے والا عملہ اپنا اپنا کمال دکھا دیتے ہیں وہ ہی کمال جسے عرف عام میں ہاتھ دکھانا یا ہاتھ کر جانا بھی کہتے ہیں۔ سراج الحق کے ساتھ بھی ایک بڑی مشکل ہے۔ جماعت اسلامی عوام میں اپنے لئے وہ کشش پیدا کر پائے تو یہ خواب پورا ہو جائے ۔ عمران خان کی تحریک انصاف اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک بھی اس کشش سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کی اکثریتی نشستیں پاکستان کے شہر نہیں بناتے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، فیصل آباد، ملتان، گجرات، گوجرنوالہ، سیال کوٹ یا کئی اور دیگر شہروں کی نشستوں کو جمع بھی کر دیا جائے تو وہ قومی اسمبلی کی اکثریت نہیں بناتی ہیں۔ عام انتخابات کے راستے سے تو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنا ہوگی ۔ تب ہی قائداعظمؒ کا پاکستان بنایا جا سکے گا۔ اگر نہیں تو جو بھی دوسری صورت ہوگی وہ سب کے لئے ہی تکلیف دہ ہوگی۔

مزید :

کالم -