کرپشن چھپاﺅ مصالحت

کرپشن چھپاﺅ مصالحت
 کرپشن چھپاﺅ مصالحت

  

پانچ فروری 2010ءکا دن برطانوی پارلیمنٹ کے لئے بڑا تہلکہ خیز دن تھا، کیونکہ لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کے ممبران نے چھ ماہ قبل ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات لگائے تھے، معاملہ کرپشن کا تھا،لہٰذا ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، چنانچہ ان الزامات کی تصدیق کے لئے ایک تحقیقاتی پینل تشکیل دیا گیا جس نے یہ تحقیقات کرنی تھی کہ دونوں پارٹیوں کے ممبران نے 2004ءسے 2008ئکے دوران سیکنڈ ہوم الاﺅنس میں کوئی بے قاعدگی تو نہیں کی۔ پانچ فروری 2010ءکو صرف چھ ماہ کی مدت میں کمیشن نے دونوں اطراف سے بے قاعدگی کے مرتکب ممبران کا تعین کردیا اور انہیں کرپشن کرنے کے جرم میں پارلیمینٹ اپنی سیاسی پارٹی اور ان تمام غیر سرکاری این جی اوز سے بھی استعفا دینا پڑا کہ جس کے وہ ممبر تھے۔ لیبر پارٹی کے ممبران ایلیٹ مورلے ، ڈیوڈ چیٹر، جم ڈیوائن اور کنزرویٹو کے جم لارڈ ہیننگ فیلڈ پر مقدمات قائم کئے گئے، اس کے علاوہ لیبر پارٹی کے ایرک آئزلی ، مارگریٹ مورن اور کنزرویٹو کے لارڈ ٹیلرآف رک کو غلط اعدادوشمار دینے پر سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا۔

برطانیہ ایک جمہوری ملک ہے۔ جمہوری ملک کی سب سے بڑی پہچان اکاونٹیبلٹی (احتساب) ہوتی ہے۔ جس ملک میں احتساب کا نظام موجود نہیں، وہ کسی بھی طرح جمہوریت کا حامل ملک نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کرپٹ عناصر کے خلاف باقاعدہ ایک آزادانہ کمیشن بنایا اور پارلیمنٹ سے کرپٹ لوگوں کو نکال کر عوام کا اعتماد بحال کردیا یہی نہیں ایسے لوگوں کو سیاسی پارٹی سے بھی نکال دیا گیا، کرپٹ لوگوں کے پاس کوئی عہدہ یارکنیت نہیں رہنے دی گئی،یہی حقیقی جمہوری نظام کی خوبصورتی ہوتی ہے، لیکن جہاں موروثیت کو جمہوریت کا لیبل لگاکر پیش کیا جائے، نیم آمریت کو دن رات ڈیموکریسی کے روپ میں ظاہر کیا جائے اور سبھی کرپشن کو پردوں میں چھپانے کا مل کر کام کریں، وہاں کی پارلیمنٹ میں ایسے ہی غیر اخلاقی اور غیر مہذب سانحے رونما ہوتے ہیں، جو گزشتہ دنوں ہم سب نے پھٹی پھٹی آنکھوں اور بے بسی کے عالم میں دیکھے۔ اس ملک کا وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اپنے ہی جیسے ایک سابق وزیر داخلہ چودھری اعتزازاحسن پر کرپشن کے سنگین الزامات پوری قوم کے سامنے لگاتا ہے اگلے روز چودھری اعتزاز احسن جواباً چودھری نثار پر کرپشن کے سنگین الزامات لگادیتا ہے۔

اب ذرا اپنے ملک کی جمہوریت کا کمال دیکھیں اور اپنی پارلیمنٹ میں بیٹھے عزت مآب ممبران کا فرض دیکھیں، بجائے اس کے کہ سپیکر قومی اسمبلی دونوں ممبران کے الزامات کی تحقیق کے لئے ایک آزاد کمیشن بنادیتے اور قوم کے سامنے حقیقت کھل کر سامنے آجاتی اور کرپٹ ممبر کو احتساب کے قانون سے گزارتے، جبکہ اسمبلی فلور پر جھوٹے الزامات لگانے والے کو آئین کی دفعہ 62،63 کے تحت نااہل کرکے جمہوریت کو شفاف بناتے ،سب کے سب اس چکر میں پڑ گئے کہ کرپشن کو دبایا جائے اور چودھری نثار اور چودھری اعتزاز احسن میں مصالحت کراکے مٹی پاﺅ فارمولا پر عمل کیا گیا۔ دونوں طرف کی اعلیٰ قیادت نے کمال دانشمندی سے کرپشن کے سنگین الزامات کو دباکر جمہوریت بچالی بجائے اس کے کہ ان دونوں کے الزامات پر تحقیق کی جاتی، ہمارے ہاں ایک کی جوش خطابت اور دوسرے کی خاموشی اختیار کر جانے کے اعلیٰ ظرفی کاڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے، اسے کہتے ہیں اخلاقی دیوالیہ پن کی انتہا۔

عجیب ٹریجڈی ہے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر ملک کا وزیرداخلہ اور سابقہ وزیر داخلہ ایک دوسرے کی کرپشن کے مستند ثبوت ہونے کا اعلان کرتے ہیں اور کوئی بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا کہ اگر سرکاری حیثیت میں ان لوگوں نے کرپشن کی ہے ، تو انہیں احتساب کے عمل سے گزارکر جمہوریت پر لگنے والے داغ دھوکر عوام پر اس کا اعتماد بحال کیا جائے، دونوں میں مصالحت کرادی گئی ہے، مگر کیسی مصالحت ؟؟کہ دونوں ایک دوسرے کی کرپشن پر خاموشی اختیار کرلیں گے اور ان کا احتساب بھی نہیں ہوسکے گا، اس کرپشن بچاﺅ مصالحت کو جمہوریت بچانے سے تعبیر کرکے نہ صرف پوری قوم کو بے وقوف بنایا جارہا ہے، بلکہ پارلیمنٹ کا امیج خراب کیا جارہا ہے یہ کیسی پارلیمنٹ ہے جس میں ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور ٹھوس ثبوت ہونے کے دعوے کئے جاتے ہیں ،مگر بعد میں ایک دوسرے سے چپ رہنے کی مصالحت کرلی جاتی ہے کہ اس حمام میں سارے ننگے ہیں۔

مصالحت ہونی چاہئے، لیکن اس بات پر نہیں کہ مل کر کھانا ہے اور احتساب نہیں ہونے دینا ،بلکہ اس بات پرمصالحت ہونی چاہئے کہ حکومتوں اور پارٹیوں سے کرپٹ لوگوں کو صاف کرنا ہے، ایسے لوگوں کے لئے اس نظام میں کرپشن کے دروازے بند ہونے چاہئیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کسی پر کرپشن کا الزام ہے، تو تحقیقات کرانے کی بجائے اسے مزیداعلیٰ منصب اور اہم ذمہ داری دے دی جائے۔ ہم دن رات مغربی جمہوریت کے گیت گاتے نہیں تھکتے اور بڑی زور دار دلیل سے کہتے ہیں کہ ترقی و خوشحالی صرف جمہوریت سے ہی ممکن ہے۔ بلاشبہ اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ہم یہ فراموش کئے ہوئے ہیں کہ احتساب کا عمل جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے بغیر جمہوریت مفلوج ہے،جس میں ایک حاضر وزیر داخلہ سابقہ وزیر داخلہ پر کرپشن کے الزامات لگاتا ہے تو ان دونوں کے الزامات پر احتساب کی بجائے پوری پارلیمنٹ جمہوریت بچانے کے لئے مٹی پاﺅ فارمولا پر عمل کرتی ہے۔

مزید :

کالم -