ناکامی

ناکامی
ناکامی
کیپشن: 1

  

افغانستان کے نو منتخب صدر نے بآلاخر حلف اٹھا لیا ۔مگر اس سے ذرا پہلے کابل ائیر پورٹ پر ایک زبردست دھماکا بھی ہوا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو افغانستان میں کسی بھی استعماری کھیل کو پنپنے نہیں دے گی۔ جب بھی کوئی استعماری بندوبست سامنے آئے گا، مزاحمت کی آوازیں بھی ساتھ ہی سنائی دیں گی۔ بے مثال مورخ گبن نے افغانستان کے لئے قدرت کی آواز کو سن لیاتھا۔تب ہی تو اُس نے کہا تھا کہ فطرت نے یہ جغرافیہ بنایا ہی اس لئے ہیں کہ یہاں قوموں کاعروج اپنے ستارہ¿ اقبال کا غروب دیکھ سکے۔

 نومنتخب صدر اشرف غنی نے گزشتہ روز جب اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا تو یہ افغانستان میں جاری کسی بحران کے حل کی نوید نہیں تھا۔ بلکہ پچیس برسوں سے جنگ زدہ ملک میں یہ نئے بحرانوں کی خوف ناک آہٹیں پیدا کرتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں کوئی بھی کام کتنا مشکل ہوتا ہے اور پھر وہ انجام پذیر بھی ہو جائے تو کتنا خطرناک ہوتا ہے۔افغانستان کے صدارتی انتخاب 5 اپریل کو ہوئے تھے مگر اُس کے نتائج صدارتی امیدواروں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے تحت پہلے مرحلے میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ جب کہ دوسرے مرحلے میں ڈاکٹر اشرف غنی کامیاب ہوئے تھے۔ دونوں حریفوں نے انتخابی نتائج پر دھاندلی کا شور مچایا۔ اور پھر اس ایک مسئلے نے افغانستان میں امریکی کھیل کو روزانہ کے حساب سے دشوار کرنا شروع کردیا۔ حامد کرزئی جو 2004 سے صدر چلے آتے تھے ، افغان آئین کے تحت دو میعادوںکی تکمیل کے بعد اب مزید عہدہ¿ صدارت پر فائز نہیں رہ سکتے تھے ۔ اُنہوں نے اقتدار کے کھیل میں شریک رہنے کے لئے اپنا ہر ہنر آزمایا۔ مگر افغانستان میںہوا اُن کے مخالف چل رہی تھی لہذا اُن کے تمام منصوبوں اور سازشوں کے باوجود اُن کی ہوا اُکھڑتی ہی چلی گئی۔ ابتدا میں موصوف نے یہ چاہا کہ اُنہیں امریکا کسی نہ کسی طرح 2018 تک مزید گوارا کر لے تو وہ دسمبر کے آخری ہفتے تک سیکورٹی کے نام پر امریکا کے افغانستان میں مزید قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ظاہر ہے کہ امریکا کے لئے اقوام ِمتحدہ کا انتداب(مینڈیٹ) 31 دسمبر کو ختم ہو رہا ہے اور اب یوکرین تنازع کے بعد روس کی حمایت نہ ملنے کے باعث اِس میں مزید توسیع کا کوئی امکان نہیں تھا۔ چنانچہ امریکاکو افغانستان میں اپنا کھیل جاری رکھنے کے لئے ایک دوطرفہ معاہدے کی ضرورت تھی۔جس پر حامد کرزئی امریکا سے مایوس ہوکر دستخط کرنے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔اس دوران وہ افغان عوام میں ایک قوم پرست رہنما کے طور پر اپنی چھوی کو مستحکم کرنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔حامدکرزئی امریکا سے اور امریکا حامد کرزئی سے مکمل طور پر مایوس ہوچکے تھے۔چنانچہ حامد کرزئی نے اپنا اور امریکا نے اپنا کھیل الگ الگ شروع کردیا۔

اگرچہ امریکی سیکریٹری خارجہ نے 5 اپریل کے صدارتی انتخاب کے بعد دونوں صدارتی امیدواروں کو ایک معاہدے کی نکیل سے باندھ تو دیا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری کو اِن دونوں حریفوں کو رام کرنے کے لئے نئے سودے کی دلالی میں تیس کے قریب ملاقاتیں کرنی پڑیں۔ اور عالمی سپر پاو¿رز کو انہیں ایک معاہدے میں جکڑنے کے لئے پانچ ماہ اور سولہ دن لگے۔ ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے امریکی ساختہ معاہدے پر 16 ستمبر کے روز دستخط کئے اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ وہ عالمی یوم ِ امن کی تاریخ تھی۔ اس تاریخ سے افغانستان کی تاریخ کا رشتہ جوڑنے کی یہ شعوری کوشش سمندر میں سیڑھی لگانے کے مترادف ہے ۔ کیونکہ معاہدے کے بعد اگرچہ 29 ستمبر کو افغان صدر کے طور پر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو کے طورپر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے حلف تو اُٹھا لئے مگر اس کے ساتھ ہی افغانستان میں ایک بھان متی کا کنبہ تخلیق پا چکا ہے۔جنرل رشید دوستم نائب صدارت کے عہدے پر فائز ہو گئے ہیں اوراپنی ازبک شناخت اور پختونوں اور تاجکوں کے ساتھ ایک سفاکانہ سلوک کا پسِ منظر رکھنے کے باعث بے اطمینانی کی لہروں کو مزید بڑھانے کا سبب بنیں گے۔ افغان حکومتی بندوبست میں پہلی مرتبہ ہزارہ برادری سے ایک نائب صد ر کو بھی شامل کیا گیا ہے مگر اس کے مضمرات واثرات کی لپٹیں پاکستان کے صوبے بلوچستان تک کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنی حمایت کا دائرہ افغان صدارتی انتخاب میں جنرل اسماعیل خان، استاد سیاف ایسے سابق مجاہد جرنیلوں تک ہی کشادہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ مختلف جماعتوں کو بھی اپنا اتحادی بنا چکے ہیں۔ جن میں دعوتِ اسلامی، جمعیتِ اسلامی،محاذِملّی اور حزبِ وحدت قابلِ ذکر جماعتیں ہیں۔ اگلے سیاسی بندوبست میں اِن تمام اتحادیوں کو خود اُن کی اپنی مرضی سے شاملِ بندوبست کرنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ کابینہ کی تشکیل ہی نہیں ، مختلف سرکاری افسروں کی تعیناتیوں اور برخاستیوں کا معاملہ بھی تنازعات سے دوچار رہے گا۔ اور افغانستان میں کوئی بھی تنازع ایسا نہیں ہوتا جو ایک خونی پیشِ منظر میں تبدیل ہونے کا خطرہ نہ رکھتا ہو۔ اس پورے کھیل کی بُنت میں جس پہلو کو نظر انداز کر دیا گیا وہ یہ کہ افغانستان کی سرزمین کسی سیاسی تکثیریت پسندی (Political pluralism) کی تاریخی طور پر قائل نہیں رہی۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اب مغرب کے پاس کوئی اسپنگلر اور گبن نہیں جو اُنہیں یہ بتا سکیں۔قصہّ کوتاہ یہ بندوبست امریکا کو صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکے گا کہ اب اشرف غنی یا عبداللہ عبداللہ خوش دلی سے امریکا کے ساتھ باہمی سلامتی کے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔

اس معاہدے پر دستخط کے لئے امریکا نے جو پاپڑ بیلے ہیں اُس کا خود اُسے کتنا نقصان پہنچے گا ابھی وہ اس کا جائزہ لینے کے قابل نہیں۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کسی سپر پاو¿ر نے اپنے زوال کے لئے ایسی حماقتوں کا ارتکاب کیا ہوگا جیسی امریکا کرتا ہے۔ وہ بے پناہ مشقت صرف نزدیکی فائدوں کےلئے اُٹھاتا ہے اور اس کے نتیجے میں دور کے نقصانات کو نظرانداز کر دیتا ہے۔امریکا نے اس کھیل میں سب سے پہلے افغانستان میں جمہوریت کا اعتبار اور وقار کھو دیا ہے۔جمہوریت کا تصور پہلے ہی دنیا بھر میں اپنی آبرو کھوتا جارہا ہے۔ جمہوری حکمرانوں کی اہلیت پر پہلے دانشوروں کی سطح پر سوال اُٹھائے جاتے تھے مگر اب عالمی سطح پر یہ ایک عوامی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ پھر سرمائے کی تحویل میں رہنے کے باعث جمہوریت کو سرمایہ پرستی کا آلہ و حیلہ سمجھا جانے لگا ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت کے مقابلے میں اب آئینی جموریت کی بحث فروغ پذیر ہے۔ امریکا نے افغانستان میں نئے سودے بازی کی دلالی میں اس تاثر کو مزید گہرا کردیا ہے۔ چناچہ افغانستان میں سماجی رابطوں کے ذرائع پر عوامی ردِعمل میں دو نکات اُبھر کر سامنے آئے۔ افغان عوام نے اس پورے عمل کو ”جمہوریت کی موت“ سے تعبیر کیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے ایک محدود حصے نے بھی اس تنقید کو تسلیم کیا۔ دوسرے یہ کہ افغان عوام نے اِسے سیاسی اشرافیہ کے درمیان معاہدہ قرار دیا ۔

امریکا کو یہ مخالفت اپنے بنائے ہوئے ماحول، نظام، فضاءاور افراد کے درمیان برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ اس پورے کھیل کو اپنے تصورِ حیات سے رد کرنے والی قوت طالبان کا تو ابھی کوئی ذکر ہی نہیں ہے جس نے تقریبِ حلف برداری کے دوران ہی کابل میں دھماکے کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ 2500 امریکی فوجیوں کی لاشیں اور ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ رقم کے خرچے کے باوجود افغانستان کی زمینی حقیقتیں جوں کی توں ہیں۔ دنیا کی سب سے طاقت ور فوج کو دنیا بھر کی فوجی قوت اور سیاسی حمایت کے بعد بھی پشتون قبائلیوں کے ہاتھوں اس ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑے کہ وہ نہ تو افغانستان میں عسکری تحکم قائم کرسکے اور نہ ہی اپنی کٹھ پُتلیوں پر اثر برقرار رکھ سکے،کیا یہ دنیا کی سب سے بڑی خبر نہیں ہے۔ اگر ہے تو اب تک دنیا کو پتا کیوں نہیں چل سکا؟

مزید :

کالم -