فیصلہ بیلٹ پیپرکی گنتی ہی سے ہوگا

فیصلہ بیلٹ پیپرکی گنتی ہی سے ہوگا

  


عمران خان کے’نئے پاکستان‘ کی تحریک14 اگست کو لانگ مارچ کی شکل میں لاہور سے شروع ہوئی ، اسلام آباد پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیارکی اور پھر وہیں’قیام پذیر‘ ہو گئی۔سوا مہینہ گزر گیا لیکن وزیراعظم کا استعفیٰ نہ آیا تو تحریک انصاف نے ملک گیر جلسوں کی ٹھانی۔ پہلا جلسہ کراچی میں مزار قائد پر کیا، تو دوسرے کے لئے اتوار کولاہور میں مینار پاکستان کا انتخاب کیا۔لاہور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کر ڈالا کہ وہ استعفیٰ دینے میں جلدی نہ کریں، ابھی تھوڑے دن اور رکیں تاکہ ان کی یہ تحریک گھر گھر پہنچ جائے۔گھر گھر سے ’گو نواز گو‘ کے نعرے بلند ہونا شروع ہو جائیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ روایتی سیاست میں ان سیاست دانوں کو نہیں ہرا سکتے، سٹیٹس کو کو شکست نہیں دے سکتے،وہ چوروں اور لٹیروں کو تبھی شکست دے سکیں گے جب قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سمیت روایتی سیاستدانوں کا وقت ختم ہو گیاہے،وہ نواز شریف کے استعفے کے بغیر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو آرٹیکل 6 کے تحت سزائیں دلائیں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر دھاندلی ثابت نہ کرسکے تو قوم سے معافی مانگ لیں گے۔ انہوں نے نئے پاکستان کی بنیاد واضح کرتے ہوئے اعلان کیاکہ نئے پاکستان میں عدل و انصاف، یکساں نصاب اور انسانیت کا قانون ہوگا۔ عمران خان پاکستانی قوم کو خود دار قوم بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ کسی سے امداد کی بھیک نہ مانگے، یقیناًیہ ہر محب وطن پاکستانی کی دلی آرزو ہے لیکن چٹکی بجاتے ہی اس ’سبز باغ‘ کی تکمیل کیسے ہو گی؟ عمران خان نے ایک بارپھر جسٹس افتخار چوہدری پر دھاندلی کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ دھاندلی ریٹرننگ افسروں کے ذریعے کی گئی،ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو بھی خبردار کیاکہ اگر فوری طور پر فارم 14 ویب سائٹ پر نہ ڈالا تو ثابت ہوجائے گا کہ وہ بھی میچ فکسنگ میں شامل تھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں قومی سمبلی کے فلور پر مبینہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو جھوٹ بولنے پر سپریم کورٹ بلائے جانے کا حوالہ بھی دیا اور اس کو اپنی کامیابی مانا کہ ایسا ان کے دھرنوں کے باعث ہی ممکن ہوا ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں آئینی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر وزیراعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے فوج کے ثالثی کے کردار کے حوالے سے غلط بیانی کی تھی۔ دونوں رہنما آئین کے آرٹیکل 62,63 پر پورا نہیں اترتے لہٰذا عدالت عظمیٰ انہیں نااہل قرار دے۔ اگر خان صاحب عدالت کے اس اقدام کا سہرا اپنے سر سجاتے ہیں تو عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھیں اور یہ خاطر بھی جمع رکھیں کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بنایا گیا جوڈیشل کمیشن بھی وزیراعظم کے ’تسلط‘ سے آزاد ہو کر اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے۔جتنی جلدی وہ یہ بات سمجھ جائیں گے اتنی ہی جلدی مسائل کا حل تلاش کرنا بھی ممکن ہو جائے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں لاہور کا جلسہ تحریک انصاف کی بہت بڑی کامیابی تھی۔اس میں جوش وخروش دیدنی تھا۔اس کا موازنہ ان کے تین سال پہلے کے جلسے سے کرنے والے کئی مبصرین اسے پہلے سے بڑا قرار دے رہے ہیں، اس طرح تحریک انصاف نے ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اپنے نقش کو گہرا کیا ہے۔کہا جار ہا ہے ان کی تحریک نے اگلے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے،وہ دھرنوں سے نکل کر سیاسی جلسوں تک پہنچ چکی ہے، اور آہستہ آہستہ ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر رہی ہے، پہلے وہ ہر صورت نواز شریف کافوری استعفیٰ چاہتے تھے لیکن پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں نے اسے مسترد کر دیا۔لہٰذااب اپنے اس مقصد میں کامیابی کے لئے ان کی نظریں مکمل طور پر پاکستانی قوم کی طرف لگ گئی ہیں، اس لئے انہوں نے نواز شریف سے استعفیٰ موخر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے تاکہ قوم مکمل طور پر بیدار ہو جائے، ان کے نزدیک اگر نواز شریف پہلے استعفیٰ دے دیتے تو انہیں پاکستانیوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کا موقع ہی نہ مل پاتا۔ہم عمران خان کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ برسر اقتدار آنے کے لئے انہیں قوم کے ساتھ کی ضرورت ہے جس کے ساتھ عوام ہوں گے، حکومت اسی کی ہو گی۔ عمران خان لاہور کے جلسے کوحکومت کے خلاف ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں لیکن یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں بھی اپنے حق میں ایسے ’’ریفرنڈم‘‘ کرانے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجودہے۔

ہر ایک شخص کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تبدیلی لانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ وہی ہے جو آئین میں درج کیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ ہر راستہ ناقابل قبول ہے۔ حکومت کسی کی منشا اور ذاتی خواہش کے مطابق بن سکتی ہے نہ ہی بدلی جا سکتی ہے۔

خان صاحب کے جلسے کی اگلی منزل میانوالی اور پھر ملتان ہے۔

عمران خان جلسے جلوس کریں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کریں کیونکہ یہ ان کا حق ہے لیکن اپنی طاقت کا مثبت استعمال کریں۔ قوم کوضرور جگائیں، اپنے ساتھ ملائیں،اگلے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے راہ ہموار کریں لیکن یہ بات بھی مدنظر رکھیں کہ جلسوں کے ذریعے ملک کے مستقبل کے فیصلے نہیں کئے جا سکتے۔فیصلہ صرف اور صرف بیلٹ پیپر کی گنتی ہی سے ہو سکتا ہے، جلسوں میں شامل ’سروں‘ کی گنتی سے حکومت قائم نہیں کی جاسکتی۔

مزید :

اداریہ -