حکومت گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا نفاذ واپس لے،ظہیربھٹہ

حکومت گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا نفاذ واپس لے،ظہیربھٹہ

  

 لاہور(پ ر)چیئرمین لاہور ٹاﺅن شپ انڈسٹریز ایسوسی ظہیر بھٹہ نے وفاقی وزیر پٹرولیم کے اس بیان پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 15دسمبر سے فروری 2015 تک پنجاب میں صنعتوں کو گیس نہیں ملے گی انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ کو مسلسل دو ماہ تک گیس کی عدم فراہمی انڈسٹری کی تباہی کے مترادف ہے اس فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ اگر انڈسٹریز کو گیس نہیں ملے گی تو انڈسٹریز بند اورملازم بے روزگار ہوجائیں گے انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ میں مداخلت کریں اور انڈسٹریز کی مسلسل گیس کی بندش کے فیصلہ کو تبدیل کروائیں کیونکہ انڈسٹریز کومسلسل گیس کی بندش سے انڈسٹریز بحران میں مبتلا ہوجائیں گی اور بے روزگار ملازم احتجاجی تحریک شروع کرسکتے ہیں ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے میاں خرم الیاس سینئر وائس چیئرمین ،عامر عطاءباری وائس چیئرمین کے ساتھ ٹاﺅن شپ انڈسٹریز کے صنعتکاروں کے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ظہیر بھٹہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آرڈینینس کے ذریعے گیس انفراسٹرکچر سیس کا نفاذ انڈسٹریز کو بحران میں مبتلا کردے گا اس کے نفاذ سے عوام پر 145ارب کا بوجھ پڑے گاپیداواری لاگت بڑھنے سے بالواسطہ طور پر عوام پر اس کا بوجھ پڑھے گااور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ سوئی گیس پاکستان کی قدرتی ذرائع سے حاصل ہورہے ہیں اس لیے اس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ درست نہیںسپریم کورٹ بھی اپنے فیصلے میں لکھ چکی ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کا شمار ٹیکس میں نہیں ہوتا اس لیے حکومت اس کا نفاذ فوری طور پر واپس لے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -