زرعی شعبہ کی بے بسی کا تدارک کئے بغیر ملک میں ترقی نہیں ہوسکتی ، میاں مقصود

زرعی شعبہ کی بے بسی کا تدارک کئے بغیر ملک میں ترقی نہیں ہوسکتی ، میاں مقصود

  

لاہور (سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی زراعت کے ساتھ وابستہ ہے مغربی تہذیب کے دلدادہ لوگ خواتین کو معاشی اور پیداواری عمل میں شرکت کی باتیں کرکے دنیا کو باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان اس معاملے میں ترقی یافتہ دنیا سے بہت پیچھے ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز کی اکثر دیہی خواتین اپنے گھروالوں کے ساتھ دن بھر زرعی اراضی پر مشقت کرتی ہیں اور بچوں کی پیدائش وپرورش میں بھی اپنا کردار حتی الوسع انجام دیتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کی بے بسی کا تدارک کیے بغیر ملک میں ترقی نہیں ہوسکتی ہے اس وقت سب سے متاثر اور مجبور طبقہ زراعت سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ان کی محنت کا پوراحق ان کو نہیں ملتا جبکہ مڈل مین کسان سے کہیں زیادہ وسائل اکٹھے کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ زراعت سے متعلقہ کھادیں اور دوائیوں کی قیمتیں کسانوں کی پہنچ سے بہت دور ہوچکی ہیں غریب کسانوں اور ان کی خواتین کو اپنی محنت کا پوراحق نہیں ملتا۔

 ان کی خون پسینے کی کمائی استحصالی زمیندار ،جاگیردار ،سردار اور وڈیرے لے اڑتے ہیں اس کمائی سے وہ اور ان کی نسلیں عیش و عشرت کی زندگی گزارتی ہیں اور بیشتر لوگ اسمبلیوں میں پہنچ کر ملک اور عوام کی قسمت کے فیصلے کرتے ہیں۔رہی سہی کسر حکومت اور اس کے الٹے سیدھے قوانین پوری کردیتے ہیں ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے آج تک کوئی قابل عمل کوشش نہیں کی گئی ۔

نتیجہ یہ کہ غریب کسان روز بروز غریب تر ہوتے چلے گئے یا پھر ان کے خاندان اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر شہروں کا رخ کرنے لگے ۔جماعت اسلامی پاکستان نے کسانوں کی بہتری کیلئے جو تجاویز حکومت پاکستان کو دی ہیں ان کا بھی بنیادی نقطہ یہی ہے کہ حکومت مرکز سے صوبوں تک غریب کسانوں کی سرپرستی کرے اور کسانوں کی پیشہ وارانہ امور میں مناسب رہنمائی کرے ۔

 

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -