بھارت دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے خود دہشتگردی کا سلسلہ ترک کرے، ا میر حمزہ

بھارت دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے خود دہشتگردی کا سلسلہ ترک کرے، ا میر ...

  

لاہور( سٹاف رپورٹر)جماعةالدعوة پاکستان کے رہنماﺅںنے کہا ہے کہ بھارت آٹھ لاکھ فوج کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ اب تک لاکھوں کشمیری شہید کئے جاچکے ہیں اور آئے دن مظالم کا یہ سلسلہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے خود دہشت گردی کا سلسلہ ترک کرے اور اپنی آٹھ لاکھ فوج نکال کر کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے۔اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی غیر جانبداری ثابت کرتے ہوئے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروائے۔اپنے مشترکہ بیان میں جماعةالدعوة کے رہنماﺅں مولاناا میر حمزہ،مولانا ابو الہاشم اور حافظ خالد ولید نے کہاکہ نریندر مودی کی جنرل اسمبلی میں تقریر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے۔ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور دہشت گردی کا ذمہ دارخود بھارت ہے جس نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے۔ وزیر اعظم نوازشریف کے جنر ل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر مضبوط موقف اختیا رکرنے سے مودی بوکھلا گیا۔ ان کا خطاب کشمیری و پاکستانی قوم کے جذبات کا ترجمان تھا تاہم حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ انڈیا کی آبی دہشت گردی کے مسئلہ کو بھی عالمی سطح پر اٹھائے۔

 اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔

انہوںنے کہاکہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں اور اقلیتوں کے حقوق غصب کرنے والا بھارت دنیا میں ترقی کی نہیں ظلم و پسماندگی کی بدترین مثال ہے۔مودی کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کی پیش کش محض دھوکہ اور دنیا کو دکھانے کیلئے ہے۔بھارت سرکار نے ہمیشہ مذاکرات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر پر اپنا فوجی قبضہ مستحکم اور پاکستانی دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھارتی سازشوں کو سمجھے اور مسئلہ کشمیر و بھارتی جارحیت کے حوالہ سے جرا¿تمندانہ رویہ اختیار کر ے۔انہوںنے کہاکہ بھارت مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لیکر گیا مگر درجنوں قراردادیں پاس ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہیں کر رہا بلکہ شروع دن سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں اور ادارے بھارت سرکار پر دباﺅ بڑھائیں کہ وہ نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھانے سے بازرہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث انتہائی بے بسی کے عالم میں امداد کے منتظر ہیں مگر بھارتی حکومت خود مدد کر رہی ہے اور نہ ہی عالمی اداروں اور بیرون ممالک کشمیریوں کو مدد کی اجازت دی جارہی ہے جس سے اس کا بھیانک چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے کھل کر بے نقاب ہو گیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -