افغانستان کےنئے صدر اشرف غنی اورچیف ایگریکٹو عبداللہ نے حلف اٹھا لیا

افغانستان کےنئے صدر اشرف غنی اورچیف ایگریکٹو عبداللہ نے حلف اٹھا لیا ...

  

              کابل(اے این این)افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی اور ملک کے پہلے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے پیر کو کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی ایک تقریب میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔اشرف غنی حامد کرزئی کی جگہ لیں گے جنھوں نے 12 برس تک افغانستان کے صدر رہنے کے بعد یہ عہدہ چھوڑا ہے۔افغانستان کے نئے صدر کی حلف برداری افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج پر تین ماہ سے جاری تنازعے کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہو پائی ہے۔اشرف غنی اور ان کے حریف امیدوار عبداللہ عبداللہ دونوں ہی جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیاب ہونے کے دعویدار تھے۔ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد الیکشن کمیشن نے اشرف غنی کو کامیاب قرار دیا مگر عبداللہ عبداللہ نے اس نتیجے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔تاہم امریکہ اور اقوام متحدہ کی کوششوں کے بعد دونوں نے قومی حکومت بنانے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت اشرف غنی صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالیں گے۔طالبان نے اس معاہدے کو امریکہ کے مرتب کردہ فریب سے جبکہ اشرف غنی نے اسے بڑی فتح سے تعبیر کیا ہے۔نومنتخب افغان صدر اشرف غنی سے ملک کے چیف جسٹس نے حلف لیا جس کے بعد انھوں نے ملک کے پہلے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ سے حلف لیا۔تقریبِ حلف برداری میں ملک کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، سبکدوش ہونے والے صدر حامد کرزئی کے علاوہ غیر ملکی رہنماں اور سفیروں سمیت سینکڑوں اہم شخصیات موجود تھیں۔اس تقریب میں پاکستان کی نمائندگی صدر ممنون حسین نے کی جبکہ سابق وزیرِ داخلہ آفتاب شیرپا اور محمود خان اچکزئی اور اسفندیار ولی جیسے سیاستدان بھی وہاں موجود تھے۔صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب سے قبل کابل میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ شہر کے اطراف میں اضافی پولیس چوکیاں بنائی گئیں جبکہ ہزاروں پولیس اہلکار گشت کرتے رہے۔نومنتخب صدر اشرف غنی نے حلف برداری سے قبل ملک میں اقتدار کی پہلے پہل ہونے والی جمہوری منتقلی کی تعریف کی اور انھوں نے اپنے حریف اور اب حکومت میں اپنے حلیف عبداللہ عبداللہ کے بارے میں بھی بہت گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔اشرف غنی نے اتحادی حکومت کے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے افغانستان سے اپنی نجی معیشت تیار کرنے اور افغان باشندوں سے بدعنوانی کے خاتمے میں تعاون کی اپیل کی۔1949 میں صوبہ لوگر کے احمدزئی قبیلے میں پیدا ہونے والے اشرف غنی 2002 سے 2004 تک کرزئی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے پھر لیکن حامد کرزئی کے ساتھ اختلافات کے باعث وہ کابینہ سے مستعفی ہو کر کابل یونیورسٹی کے چانسلر بن گئے تھے۔

اشرف غنی

مزید :

صفحہ اول -