وزیراعظم نا اہلی کیس کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں ؟

وزیراعظم نا اہلی کیس کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں ؟
وزیراعظم نا اہلی کیس کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما ہیں ؟

  

تجزیہ-:سعید چودھی

   سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں قائم 3رکنی بنچ نے وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف کی نااہلی کے لئے دائر درخواستوں کی سماعت 2اکتوبر پر ملتوی کردی ہے۔عدالت نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین ، گوہر نواز سندھو اور اسحاق خان خاکوانی کی طرف سے دائر ان درخواستوں کی سماعت کے دوران واضح کیا کہ عدالت نے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہے درخواستیں قابل سماعت ہیں بھی یا نہیں ؟ان درخواستوں میں دھرنوں کے خاتمے کے لئے فوج کوضامن یاثالث کا کردارنہ سونپنے سے متعلق میاں محمد نواز شریف کے پارلیمنٹ میں دیئے گئے بیان کو بنیاد بنایا گیا ہے ۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ،وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ انہیں آئین کے آرٹیکل 63کے تحت نااہل قرار دیا جائے ۔سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا نکتہ اٹھایا ہے ۔اس سلسلے میں آئین کیا کہتا ہے ؟ کیا یہ درخواستیں قابل سماعت ہیں ؟اس حوالے سے آئین کے آرٹیکلز69,68,66اور95کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔آئین کے آرٹیکل 66کے تحت ارکان اسمبلی کو پارلیمنٹ میں تقریر کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔پارلیمنٹ میں دیئے گئے ارکان کے بیانات کسی عدالت میں قانونی کارروائی سے مستثنیٰ ہیں ۔اسی طرح آئین کے آرٹیکل 68میں واضح کیا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوںکے ججوں کے فرائض کی انجام دہی سے متعلق ان کے کردار کو پارلیمنٹ میں زیر بحث نہیں لایا جاسکتا ،دوسرے لفظوں میں کسی جج کے کردار پرپارلیمنٹ میں بحث نہیں کی جاسکتی ۔آئین کا آرٹیکل 69عدالتوں کو پارلیمانی کارروائی میں مداخلت سے روکتا ہے ،حتی ٰ کہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں ضابطہ کار کی بے قاعدگی پر بھی کسی عدالت میں سوال نہیں اٹھایا جاسکتا ۔آرٹیکل 69میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ عدالتیں پارلیمنٹ کی کارروائی کی تحقیقات نہیں کرسکتی ہیں ۔آرٹیکل 95میں وزیراعظم کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کا طریقہ کار دیا گیا ہے جس کے تحت وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جاسکتی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ اسے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم ازکم20فیصد ارکان نے پیش کیا ہو ،قومی اسمبلی کل رکنیت کی اکثریت کے ساتھ اسے منظور کرلے تو وزیراعظم فوری طور پر عہدہ پر فائز رہنے سے محروم ہوجائے گا۔آئین کے ان آرٹیکلز کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں دیئے گئے وزیر اعظم کے بیان کو کسی عدالت میں ان کے خلاف کارروائی کے لئے پیش نہیں کیا جاسکتا ۔اس حوالے سے عدالتوں کو اختیار سماعت حاصل نہیں ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے واضح آرٹیکلز کی موجودگی میں وزیر اعظم کو عدالت کے ذریعے نااہل قرار دلوانے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا گیا ہے ؟کیا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے خواہشمندوں کے پاس لیگل ایڈوائزروں کی کمی ہے ؟ایسا نہیں ہے ۔بادی النظر میں ان درخواستوں کو پروپیگنڈاکے لئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا مقصود ہے ۔اس حوالے سے ایک درخواست گزار اسحاق خان خاکوانی کے وکیل کا ذکر کرنا بھی غیر ضروری نہیں ہوگا ۔موصوف پاکستان کے اٹارنی جنرل رہے وہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تو پی سی او ججز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں انہیں گھر جانا پڑا،پھر وہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل مقرر ہوئے تو سپریم کورٹ سے ان کا تقرر غیر قانونی قرار پایا۔وہ ٹکا محمد اقبال کیس میں درخواست گزار کے وکیل تھے ،اس کیس میں پی سی او ججوں نے جنرل پرویز مشرف کے 3نومبر 2007کے اقدا م کو جائز قرار دیا تھا ،کہا جاتا ہے کہ ٹکا محمد اقبال کی درخواست کا مقصد ہی جنرل پرویز مشرف 3نومبر2007کے پی سی او کو عدالت سے جائز قرار دلوانا تھا ۔عرفان قادر کا ماضی میں عدالتوں کے ساتھ رویہ ڈھکا چھپا نہیں ہے۔وہ اس حوالے سے اخبارات کی شہہ سرخیاں بنواتے رہے ہیں ۔گزشتہ روز بھی انہوں نے عدالت سے الجھنے کی کوشش کی اور عدالت کو کہنا پڑا کہ "قصور ہماراہے آپ کا نہیں ،جب یہ کہہ دیا ہے تو بات ختم ہوجانی چاہیے"۔عدالتی کارروائی اور متعلقہ آئینی آرٹیکلز کا ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ان لوگوں کے عزائم کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل نہیں ۔سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کرڈالی (جس کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں )تو ست بسم اللہ ورنہ عدالتی رویہ کے خلاف دما دم مست قلندر بعید از قیاس نہیں تاہم ہماری عدالتیں خاص طور پر موجودہ بنچ کسی قسم کے سیاسی پریشر میں آنے والا نہیں ،عوام کو اسی فیصلے کی توقع رکھنی چاہیے جو آئین اور قانون کے مطابق بنتا ہے ۔

مزید :

تجزیہ -