7 روپے پیداواری لاگت والے یونٹ کی قیمت 15روپے وصول کی جارہی ہے

7 روپے پیداواری لاگت والے یونٹ کی قیمت 15روپے وصول کی جارہی ہے

  

   لاہور(رپورٹ:صبغت اللہ چودھری) حکومت عوام کو پیداواری لاگت کے مقابلہ میں دگنی قیمت پر بجلی فراہم کر رہی ہے ۔ اس پیداواری قیمت میں ٹرانسمیشن لاسزاور سپلیمنٹ چارجز شامل ہے۔ عوام سے سات روپے پیداواری لاگت والے یونٹ کی قیمت پندرہ روپے وصول کی جا رہی ہے ۔ عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کی جانب سے فی یونٹ پر ایک پیسہ بھی نہیں دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لئے بجلی پر سبسڈی دینے کا دعوی مکمل ڈرامہ اور عوام کو بے وقوف بنانے کا کھیل ہے ۔ حکومت نے اپنے طور پر نام نہاد طریقہ سے بجلی کی پیداواری لاگت 18 روپے فی یونٹ مقرر کر رکھی ہے اور پندرہ روپے میں فی یونٹ فراہم کرکے اوسط تین روپے سبسڈی دینے کا ڈرامہ کیا جا رہا ہے ۔ حکومت سبسڈی کے نام پر جو رقم دے رہی ہے وہ ملی بھگت سے چوری ہو جانے والی بجلی کی قیمت کی مد میں ہے ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے دباﺅ پر مرحلہ وار سبسڈی ختم کرکے چوری ہونے والی بجلی کا تمام بوجھ بل دینے والے صارفین پر ڈالا جا رہا ہے ۔ جنوری 2012 سے لیکر جون 2014 تک کسی بھی مہینہ میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 10.27 روپے سے زائد نہیں رہی ۔ سردیوں میں ڈیموں سے پانی کے اخراج میں کمی کے باعث ہائیڈرل کی پیداوار کم ہوتی ہے تو پیداواری لاگت میں ایک سے دو روپے تک کا اضافہ ہوتا ہے اور جب ہائیڈرل سے پیداوار بڑھ جاتی ہے تو پیداواری لاگت چھ سے سات روپے فی یونٹ تک ہوتی ہے ۔ ملک میں ایران سے بجلی کی درآمد سمیت نو مختلف ذرائع سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے ۔فی یونٹ کی قیمت کے تعین کے لئے مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والے یونٹس اور ان ذرائع کی پیداواری لاگت کو پہلے جمع کیا جاتا ہے بعد ازاں مجموعی پیداواری لاگت کو مجموعی یونٹ پر تقسیم کرکے ایک یونٹ کی پیداواری لاگت کا تعین کیا جاتا ہے ۔ اس میں ٹرانسمیشن لاسسز اور سپلیمنٹ چارجز جمع کر لئے جاتے ہیں ۔ ملک میں ایران سے بجلی کی درآمد سمیت جن نو ذرائع سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے اس میں ہائیڈل ، کوئلہ ، ہائی سپیڈ ڈیزل ، فرنس آئل ، نیوکلر ، مکس اور ونڈ شامل ہیں ۔ نیپرا کے 25 جولائی 2014 کو لیٹر نمبر EPRA/R/TRF-100/MFPA/8877-8896 Nکے تحت جون 2014 میں بجلی کی قیمت کے تعین کے لئے جاری رپورٹ کے مطابق جون میں ہائیڈل سے تین ارب 44 کروڑ 65 لاکھ 42 ہزار 921 یونٹ پیدا ہوئے جن کی پیداواری لاگت 36 کروڑ 24 لاکھ 99 ہزار 151 روپے رہی ۔ مختلف توانائی سے حکومتی تھرمل یونٹوں جنکوز سے ایک ارب 23 کروڑ 35 لاکھ 36 ہزار 368 یونٹ پیدا ہوئے جن کی پیداواری لاگت 18 ارب 46 کروڑ 41 لاکھ 82 ہزار 750 روپے رہی ۔ مختلف توانائی ائی پی پیز سے 4ارب 62 کروڑ 85 لاکھ 78 ہزار 421 یونٹ پیدا ہوئے جن کی پیداواری لاگت 51 ارب 93 کروڑ 82 لاکھ 18 ہزار 250 روپے رہی ۔ جون میں ملک میں مجموعی طور پر نو ارب 45کروڑ 15 لاکھ 80 ہزار 696 یونٹ پیدا ہوئے جن کی مجموعی پیداواری لاگت 71 ارب 78 کروڑ 44 لاکھ 26 ہزار 527 روپے رہی ۔ توانائی کے مختلف ذرائع کی تفصیل کے مطابق ہائیڈل سے تین ارب 44 کروڑ 65 لاکھ 42 ہزار 921 یونٹ پیدا ہوئے جن کی پیداواری لاگت 36 کروڑ 24 لاکھ 99 ہزار 151 روپے رہی ۔ فی یونٹ کی پیداواری لاگت دس پیسے بنی ۔ کوئلہ سے ایک کروڑ پندرہ لاکھ 41 ہزار یونٹ پیدا ہوئے جن کی مجموعی پیداواری لاگت 5 کروڑ 33 لاکھ 99 ہزار 53 روپے رہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 4.49 روپے بنی ۔ہائی سپیڈ ڈیزل سے 29 کروڑ 63 لاکھ 95 ہزار 243 یونٹ پیدا ہوئے مجموعی پیداواری لاگت 6 ارب 30 کروڑ 55 لاکھ 74 ہزار 94 روپے رہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 20.90 روپے بنی ۔ فرنس آئل سے 3 ارب 25 کروڑ 9 لاکھ 93 ہزار 455 یونٹ پیدا ہوئے مجموعی پیداواری لاگت 52 ارب 15 کروڑ 70 لاکھ 16 ہزار 194 روپے رہی فی یونٹ کی لاگت 15.66 روپے بنی ۔ گیس سے دو ارب 7 کروڑ 23 لاکھ 38 ہزار یونٹ رہی مجموعی لاگت 11 ارب 32 کروڑ 2 لاکھ 91 ہزار 195 روپے رہی فی یونٹ کی لاگت 5.19 روپے بنی ۔ نیوکلر سے 19 کروڑ 38 لاکھ 42 ہزار یونٹ پیدا ہوئے مجموعی لاگت 24 کروڑ 36 لاکھ 21 ہزار روپے رہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 1.25 روپے بنی ۔ ایران سے 4 کروڑ 24 لاکھ 92 ہزار 600 یونٹ درآمد کئے گئے مجموعی پیداواری لاگت 41 کروڑ 60 لاکھ 2 ہزار 554 روپے رہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 9.79 روپے بنی ۔ ونڈ سے چار کروڑ 30 لاکھ 21 ہزار 820 یونٹ پیدا ہوئے جن کی مجموعی پیداواری لاگت 99 ہزار 505 روپے رہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت ایک پیسے سے بھی کم 0.002 روپے بنی ۔مکس سے نو کروڑ 46 لاکھ 13 ہزار 656 یونٹ پیدا ہوئے پیداواری لاگت 92 کروڑ 59 لاکھ 23 ہزار 780 روپے رہی فی یونٹ کی پیداواری لاگت 9.74 روپے بنی۔ مختلف ذرائع سے پیدا ہونے والے تمام یونٹوں کی پیداواری لاگت کو مجموعی یونٹوں پر تقسیم سے حاصل ہونے والی فی یونٹ کی پیداواری لاگت کے مطابق جون 2014 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.43 روپے رہی جبکہ یہ یونٹ صارفین کو اوسط پندرہ روپے کے حساب سے فراہم کیا گیا ۔نیپرا کی رپوٹس کے مطابق اسی حساب کے تحت مئی 2014 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.54 روپے ، اپریل 2014 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.49 روپے ، مارچ 2014 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.90 روپے، فروری 2014 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.57 روپے ، جنوری 2014 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.82 روپے ، دسمبر 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.87 روپے ، نومبر 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.90 روپے ، اکتوبر 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.29 روپے ، ستمبر 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.57 روپے ، اگست 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.75 روپے ، جولائی 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.76 روپے ، جون 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.36 روپے ، مئی 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.43 روپے ، اپریل 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.19 روپے ، مارچ 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.85 روپے ، فروری 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.04 روپے ، جنوری 2013 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 10.27 روپے ، دسمبر 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.68 روپے ، نومبر 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.02 روپے ، اکتوبر 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.82 روپے ، ستمبر 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.39روپے ، اگست 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.43 روپے ، ، جولائی 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.05 روپے ، جون 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 6.92 روپے ، مئی 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 8.05 روپے ، اپریل 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 9.66 روپے ، مارچ 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 9.55 روپے ، فروری 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 7.08 روپے اور جنوری 2012 میں فی یونٹ کی پیداواری لاگت 9.19 روپے رہی ۔نیپرا کی جانب سے ڈسکوز کے ٹیرف شیڈول کے مطابق گھریلو صارفین کو پہلے سو یونٹ 11.09 روپے فی یونٹ کے حساب سے فراہم کئے جا رہے ہیں اصل قیمت کے حساب سے پہلے سو یونٹ پر 3.66 روپے زائد وصول کئے گئے ۔ اگلے 101 سے 300 یونٹ 14 روپے کے فی کس کے حساب سے فراہم کئے جا رہے ہیں اس حساب سے ان پر 6.57 روپے زائد وصول کئے جا رہے ہیں ۔ اگلے 301 یونٹ سے لیکر 700 یونٹ 17 روپے فی کس کے حساب سے فراہم کئے جا رہے ہیں ۔ ان پر 9.57 روپے زائد وصول کئے جا رہے ہیں ۔ حکومت پہلے سو یونٹوں پر 5.30 روپے ، اگلے 101 تا 300 یونٹوں پر 1.91 روپے اور 301 تا 700 یونٹوں پر ایک روپے سبسڈی دینے کا ڈرامہ کر رہی ہے ۔ کمرشل اور صنعتی صارفین کو 18 روپے فی کس کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے ان سے فی یونٹ پر 10.57 روپے زائد وصول کئے جا رہے ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -