حکومت اپنے منشور کی روشنی میں جارحانہ اصلاحاتی پروگرام پر عمل پیرا ہے ،اسحاق ڈار

حکومت اپنے منشور کی روشنی میں جارحانہ اصلاحاتی پروگرام پر عمل پیرا ہے ،اسحاق ...

  

                     اسلام آباد (آن لائن ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے منشور کی روشنی میں ملک میں ایک جارحانہ اصلاحاتی پروگرام اپنایا ہے جو کہ معیثت، توانائی، انتہا پسندی( کے خاتمہ) اور تعلیم( کے فروغ) پر مبنی ہے، گھر افراد کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے تمام تر ممکنہ وسائل استعمال میں لائے جا رہے ہیں ، تجارت، امداد اور ترقی پاکستان کے لئے اسباق کے عنوانات حکومت کےلئے راہنماءاصول ہیں۔ حکومت تجارت میں ترقی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے ،وزیر اعظم نواز شریف نے 27 دسمبر 2013ءکو کہا تھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول امداد نہیں تجارت ہو گا، گذشتہ چار صدیوں کا جائزہ لینے اور مشرقی ایشیاءاور چین پر نظر ڈالنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ غربت کے خاتمہ کے لئے تجارت ایک اہم راستہ ہے۔عالمی اقتصادیات سے تجارت کے انضمام سے پیداواراور ترقی پر نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں،پاکستان کے حوالے سے کئے گئے مطالعات بتاتے ہیں کہ بہتراقتصادی انتظامی پالیسی سے نتیجہ میں کم افر اط زر، تجارت میں اضافہ و نرمی اورتجارتی خسارہ کو کم کرنے کے بین الاقوامی امداد پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، تقریب سے وزیر خزانہ کے بطور مہمان اسپیکر خطاب کو سیٹلائیٹ کے زریعے پاک فضائیہ کے 23 بیسز پر لائیو سنا گیا۔پیر کے روز وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ائر ہیڈ کواٹرز میں ایک تقریب میں خصوصی طور پربطور ایک مہمان مقرر شرکت کی۔ تقریب سے ان کے خطاب کو سیٹلائیٹ کے زریعے پاک فضائیہ کے 23 بیسز پر لائیو سنا گیا۔تجارت، امداد اور ترقی پاکستان کے لئے اسباق کے عنوان سے منعقدہ تقریب کے دوران بطور مہمان اسپیکر اپنے خطاب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لئے تمام تر ممکنہ وسائل استعمال میں لائے جا رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تجارت، امداد اور ترقی پاکستان کے لئے اسباق کے عنوانات حکومت کےلئے راہنماءاصول ہیں۔ حکومت تجارت میں ترقی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے ،دنیاعالمی تجارتی آزادیوں سے سالانہ290 سے 440 ارب امریکی ڈالر سالانہ کما رہی ہے ،دنیا کے بہت سے ترقی پزیر ممالک کثیر الجہتی اداروں کے ذریعے بیرونی امداد متبادل کے طور پر اپنے بچت-سرمایہ کاری کے فرق پر قابو پانے کی کوشیش کی ہے،تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ اس طرح کی کوشیش نے کم مدت میں ترقی وپیداوار میں اضافہ کیا ہے تاہم طویل المدتی اور مستقل ترقی کے لئے امداد نہیں تجارت کے نعرہ پر عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -